افراد کار کی تیاری
Al-Risala, March 2011, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلم رہنما نے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ میرا مقصد عصرِ حاضر کے اعتبار سے، افراد کار کی تیاری ہے۔ اس جلسے میں ایک مسلم نوجوان موجود تھا۔ بعد کو یہ نوجوان مذکورہ رہنما اس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھ کو آپ اپنے مطلوب انسان کی حیثیت سے تیار کیجئے، مگر مذکورہ مسلم رہنما نے نوجوان کی اس پیش کش پر دھیان نہیں دیا۔ انھوں نے کہا تم تو صرف ایک شخص ہو۔ جب اس طرح کے کئی لوگ اکٹھا ہو جائیں گے، اُس وقت میں افراد کی تیاری کے بارے میں اپنا پروگرام شروع کروں گا۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ وہ عصر حاضر کے اعتبار سے، افراد کار تیار کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی شخص مطلوب انداز میں یہ کام نہ کر سکا۔ مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے۔ یہ تمام لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ بھیڑ (crowd) کے سامنے تقریریں کر کے افراد کار تیار کریں، حالاں کہ افراد کار کی تیاری بھیڑ کو خطاب کرنے سے نہیں اُس کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے— فرد پر فوکس کرنا، فرد کی نسبت سے سوچنا اور فرد کی نسبت سے تربیت کا پروگرام بنانا۔ اصل یہ ہے کہ رہنما سب سے پہلے افراد کے ذہن کو بخوبی طور پر سمجھنے کی کوشش کرے، وہ افراد کے ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے خود اپنے آپ کو تیار کرے۔ رہنما جب اس طرح اپنے آپ کو تیار کر کے بولے گا تو اس کی زبان قولِ بلیغ (4: 63) کی زبان بن جائے گی، اس کی بات ہر ذہن کو ایڈریس کرے گی، اس کی بات ہر فرد کے اندر یہ داعیہ پیدا کرے گی کہ وہ اپنے آپ کو تیار کر کے مطلوب انسان بنائے۔ یہی وہ طرزِ خطاب ہے جس کے ذریعے افراد کار کو تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بھیڑ کو لے کر سوچتے ہیں، جو اپنے آس پاس بھیڑ دیکھنا چاہتے ہیں، اُن کا طرزِ خطاب فطری طور پر جذباتی ہو جاتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسی بات بولنے لگتے ہیں جو بھیڑ کو خوش کرے۔ اس عوامی طرزِ خطاب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہنی ارتقارک جاتا ہے، اور جس آدمی کا خود اپنا ذہنی ارتقارک جائے، وہ ہرگز افراد کار کی تیاری کا عمل انجام نہیں دے سکتا۔