ایک عام کمزوری
Al-Risala, March 2011, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عوامی مثل ہے عقل بڑی کہ بھینس۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گاؤں میں رہنے والا ایک جاہل آدمی جب بھینس کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو ایک بھاری بھرکم چیز نظر آتی ہے۔ وہ بھینس کو بڑی سمجھ عقل (wisdom) کی اہمیت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ ظاہری علم کی بنا پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ بھینس ایک بڑی چیز ہے۔ اس کے مقابلے میں عقل محض ایک چھوٹی چیز۔
یہ محض گاؤں کے ایک جاہل آدمی کی بات نہیں، یہی شہروں میں رہنے والے تعلیم یافتہ لوگوں کی بات بھی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی بلڈنگوں میں قائم ہونے والے ادارے کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ جس اجتماع میں عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے، اس کو وہ بڑا اجتماع سمجھتے ہیں۔ جس آدمی کے پاس شان دار مکان ہو اور اس کے گیٹ کے باہر کاریں کھڑی ہوئی ہوں، وہ اس کو بڑا آدمی سمجھ لیتے ہیں۔ جو اخبار میں چھپے اور ٹی وی میں نظر آئے، اس کو وہ بڑی شخصیات (celebrities) میں شمار کرنے لگتے ہیں۔ جو آدمی اسٹیج پر پُرجوش خطابت کرے اور جس کو سن کر سامعین تالیاں بجائیں، اس کو لوگ بڑا مقرر سمجھ لیتے ہیں۔ جو آدمی سڑک پر چلے تو اس کے پیچھے گاڑیوں کا کارواں (motorcade) چل رہا ہو، اس کو وہ معزز انسان سمجھ لیتے ہیں، وغیرہ۔ یہ ایک عمومی کمزوری ہے۔ یہی کمزوری کسی بڑے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہے کہ کوئی بڑا کام ہمیشہ چھوٹے آغاز (humble beginning) سے شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ چھوٹے آغاز کی اہمیت کو نہ جانیں، ان کے درمیان کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔
بڑے کام کے لیے ہمیشہ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جب چھوٹے آغاز کے لیے لوگ اپنا تعاون (co-operation) نہ دیں تو اُن کے درمیان بڑے کام کا آغاز ہی نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کا مزاج کسی بڑے کام کے لیے ایک مستقل رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
سوال و جواب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن روایات میں آتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر وہی بگاڑ پیدا ہو جائے گا جو پچھلے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اندر پیدا ہوا تھا۔ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو پھر ایسا کس طرح ممکن ہے کہ امت کے اندر وہی بگاڑ پیدا ہو جائے جو سابق اہل کتاب کے اندر پیدا ہوا تھا (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار) یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے (9:15)، لیکن اس حفاظت کا تعلق دین اسلام کی حفاظت سے ہے، نہ کہ مسلم قوم کی حفاظت سے (5:3)۔ دین اسلام کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ دین کا متن (text) پوری طرح محفوظ رہے گا، تاکہ ہر زمانے میں ہدایت کا طالب اُس سے ہدایت پا سکے۔ لیکن جہاں تک مسلم قوم کا تعلق ہے، وہ اِسی طرح حالتِ امتحان میں ہے جس طرح دوسری قو میں حالتِ امتحان میں ہیں۔ اِس سلسلے میں جتنی بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ سب صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ دین کا معاملہ اور قوم کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل ختم نبوت کا تقاضا ہے کہ دین کا متن قیامت تک محفوظ رہے۔ مگر جہاں تک مسلم قوم کا معاملہ ہے، اُس کے لیے عروج و زوال (rise & fall) کا وہی عام قانون ہے جو دوسری اہل کتاب امتوں کے لیے ہمیشہ سے رہا ہے۔ اِس معاملے میں کسی قوم کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ کچھ لوگوں نے غلط طور پر یہ نظریہ بنایا ہے کہ جس طرح دین ایک محفوظ دین ہے، اُسی طرح مسلم امت بھی ایک محفوظ امت ہے۔ مگر یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے، اس کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں موجود مثال کے طور پر امت کی محفوظیت کا نظریہ اس روایت سے نکالا جاتا ہے کہ: اِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى الضَّلَالَةِ (ذخيرة الحفاظ للقيسرانی، 1/364) مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ امت کی اکثریت ضلالت سے محفوظ رہے گی۔ یہ حدیث افراد کی نسبت سے ہے، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے، یعنی امت کے عام
بگاڑ کے زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد ہوں گے جو عمومی بگاڑ کے زمانے میں بھی ہدایت پر قائم رہیں گے۔ اسی لیے ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: أن تستجمعوا كلكم على الضلالة (مسند إسحاق بن راهويه، رقم الحدیث: 363) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا تو اس وقت بھی کچھ افراد اس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے۔