سوال و جواب
Al-Risala, March 2011, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
عرض ہے کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں مسلمانوں کو ان کی سیاسی زندگی میں قرآن اور حدیث سے کیا رہنمائی ملتی ہے براہ کرم، واضح فرمائیں۔ (محمد یحییٰ ارسلانی قاسمی، پالم کالونی، نئی دہلی) اس معاملے میں قرآن اور حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہندوستان کے مسلمان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان سیاست کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور وہ صرف غیر سیاسی دائرے میں مثلاً تعلیم، دعوت، تجارت اور تعمیر، وغیرہ۔ کام کا تعین ہمیشہ حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی مفروضہ معیار کے اعتبار سے۔ حالات کا لحاظ کیے بغیر کسی مفروضہ معیار کو لے کر جو کام شروع کیا جائے، وہ صرف بے نتیجہ ٹکراؤ پیدا کرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ اپنے سیاسی ذہن کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے چوں کہ حالات موافق نہیں ہیں، اس لیے ان سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں اُن کو جو چیز ملی ہے، وہ صرف یہ ہے— شکایت، احتجاج، نفرت، منفی سوچ اور تشدد، وغیرہ۔ اس طرح کی تمام چیزیں صرف یک طرفہ طور پر مسلمانوں کے نقصان کا باعث ہیں، وہ اُن کو کوئی مثبت نتیجہ دینے والی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قدیم مکہ میں سیاسی اقتدار کی پیش کش کی گئی۔ مکہ کے معاصر سرداروں نے آپ سے کہا: إن تريد ملكاً، ملكناك علينا (اگر آپ اقتدار چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اقتدار دینے کے لیے تیار ہیں) آپ نے اس سیاسی پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ فرمایا: ما أطلب الملك عليكم (السيرة النبوية لابن هشام، 1/296) یعنی میں
تمہارے اوپر اقتدار کا طالب نہیں : I seek not sovereignty over you رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مکئی حالات کے اعتبار سے یہ فیصلہ کیا۔ آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ آپ نے سیاسی عمل (political activism) کے بجائے دعوتی عمل (dawah activism) کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ۔ آپ نے نتیجے کو سامنے رکھ کر اپنا منصوبہ بنایا، نہ کہ مفروضہ معیار کو سامنے رکھ کر۔
اس معاملے میں دوسری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ اگر مسلمانوں کا یہ خیال ہو کہ اُن کے لیے موجودہ حالات میں سیاست میں حصہ لینا ضروری ہے، کیوں کہ یہ جمہوری دور ہے اور جمہوری دور میں اگر کوئی گروہ ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہو تو وہ پولیٹکل ایلی نیشن (political alienation) میں مبتلا ہو جائے گا، یعنی ایسا گروہ سیاسی اعتبار سے الگ تھلگ ہو کر رہ اس دوسری حالت میں اُن کے لیے سنتِ یوسفی کا نمونہ موجود ہے۔ سنتِ یوسفی جیل میں جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ سنتِ یوسفی دراصل سیاسی مصالحت (political adjustment) کا نام قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ وہ شراب پیتا تھا۔ ملک میں اسی مشرک بادشاہ کا قانون نافذ تھا۔ اس کے باوجود حضرت یوسف نے مصالحت کا انداز اختیار کرتے ہوئے بادشاہ کے سیاسی نظام میں شرکت قبول کر لی ۔ سیاست کا یہ طریقہ موجودہ زمانے میں ہر مسلمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت میں اُن کے لیے واضح سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ اپنے فخر پسندانہ مزاج کی بنا پر سیاسی سرکشی کو سیاست سمجھتے ہیں، اور چوں کہ کسی ملک میں ان کے لیے سیاسی سرکشی کے مواقع حاصل نہیں ، اس لیے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اور سنت میں ان کے لیے سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ میں اصل مسئلہ مسلمانوں کے خود ساختہ سیاسی شاکلہ (political framework) کو توڑنا ہے۔ موجودہ سیاسی شاکلہ کی موجودگی میں قرآن اور سنت کی رہنمائی مسلمانوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں۔
1- نئی دہلی میں 14-3 اکتوبر 2010 کے درمیان کامن ویلتھ گیم (2010-CWG) کا انعقاد ہوا۔ گیم کے دوران بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں اور شرکا کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر ہمارے ساتھی جو کھیل گاؤں (نئی دہلی) میں دعوتی لٹریچر لے کر گئے تھے، ان میں سے ایک ساتھی نے اس سلسلے میں سی پی ایس کے ایک ممبر سے ان الفاظ میں اپنا تاثر بیان کیا :
Glory be to God, all the things are turning out very well beyond imagination and the distribution is in full swing. 2- نئی دہلی کے اسلامک کلچرل سنٹر میں اردو پریس کلب (نئی دہلی) کی طرف سے 15 اکتوبر 2010 کو ایک اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ اس کا عنوان یہ تھا نیشنل ازم کو کیسے فروغ دیا جائے: How to Promote Nationalism اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس سیمینار (seminar) میں شرکت کی اور موضوع پر 15 منٹ کی ایک تقریر کی ۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ حب وطن انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے اندر نیا ذہن نو آبادیاتی دور میں پان اسلام ازم (Pan-Islamism) کی تحریک کے تحت پیدا ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی (وفات : 1957) نے اس نقطۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ــــ فی زمانہ قو میں اوطان سے بنتی ہیں: