Al-Risala · March 2011

In present age, nationhood is based on homeland.

Al-Risala, March 2011, pp. 40–43

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اس بیان سے مسلمانوں کا ذہن بدل نہ سکا، کیوں کہ مسلم علماء نے یہ کہہ دیا کہ مولانا مدنی نے جو کچھ کہا، وہ انشا نہ تھی، بلکہ خبر تھی ۔ ضرورت ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کے ذہن کی اصلاح کی جائے، ورنہ مسلمان ہر ملک میں غیر وفادار بن کر رہ جائیں گے۔

3- الرسالة مشن سے وابستہ ایک ساتھی نے امام حرم مکی شیخ عبد الرحمن السدیس سے ایک خصوصی پروگرام کے دوران مکہ میں ان کے گھر پر ملاقات کی ۔ ملاقات کے وقت انھوں نے دیکھا کہ امام حرم کے مطالعے کی میز پر صدر اسلامی مرکز کی کتاب الإسلام يتحدى رکھی ہوئی ہے۔ ہمارے ساتھی نے امام صاحب سے پوچھا کہ آپ شیخ وحید الدین کو جانتے امام حرم نے کہا کہ شیخ وحید الدین دورِ جدید کے عظیم داعی اور مفکر ہیں، ان سے کون نا واقف ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دعوت اسلامی کے احیاء اور اسلام اور دورِ جدید کی نسبت سے شیخ وحید الدین نے جو کام کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک تجدیدی ہمارے ساتھی نے ان کو بتایا کہ شیخ وحید الدین کی تفسیر کا عربی ایڈیشن مصر سے شائع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں تذکیر القرآن (عربی) کا ایک سیٹ امام حرم کو صدر اسلامی مرکز کی طرف سے حسب ذیل خط کے ساتھ (22 اکتوبر 2010) کو دستی طور پر روانہ کیا گیا :

إلى فضيلة الشيخ د/ عبد الرحمن السديس حفظه الله السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فيطيب لى أن أرفق طيه نسخة من "التذكير القويم في تفسير القرآن الحكيم" (3 مجلدات) وهو أهم وأضخم ما نقل إلى العربية من مؤلفاتي أخيراً. وقد قام بترجمته من لغة الأردو الأخ أبو صالح أنيس لقمان الندوي وتولى تقديمه ونشره الأستاذ د/ عبد الحليم عويس من دار الوفاء القاهرية منذ حوالي سنة ونصف. وإذا كان كتابي "الإسلام يتحدى" موجهـاً إلى العقل المعاصر عامة لإثبات أحقية مبادئ الإسلام وخلود رسالته في مواجهة تيارات الفكر العلمانى الحديث؛ فإننى حاولت من خلال تفسيري المتواضع هذا أن أذكّر المسلمين خاصة وهم أمناء على كتاب الله برسالتهم ومسؤوليتهم تجاهه. ومن ثم يدور هذا التفسير حول نقطة مركزية هي "الدعوة" والتي تجدونها مناسبة في كل سطر من سطوره. فالقرآن الكريم هو كتاب "الدعوة إلى الله" أولاً وأخيراً. والامة الإسلامية هي قبل كل شيئ وبعد كل شيئ "أمة دعوة" وبالتالي عليها أن تلتمس كل الطرق الحكيمة والسلمية المتاحة وكل الأساليب المعاصرة والفعالة لأجل تبليغ دعوة القرآن إلى البشرية جمعاء. وإنني إذ أهدي هذا الكتاب إلى فضيلتكم؛ راجياً أن يحظى بحسن القبول عندكم؛ أسأل الله تعالى أن يوفقنا جميعاً إلى السعي الحثيث الجاد لإدخال كلمته إلى كل بيت "مدر أو وبر"؛ كما ورد في حديث مسند الإمام أحمد. (أخوكم في الله وحيد الدين خان) 4- حکومت شارجہ (عرب امارات) کی جانب سے شارجہ ایکسپو سنٹر میں 26 اکتوبر تا 6 نومبر 2010 کے درمیان ایک انٹرنیشنل بک فیر منعقد ہوا۔ اس کا افتتاح شارجہ کے حکمراں ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی (71 سال) نے اس بک فیر میں نئی دہلی کے گڈ ورڈ بکس نے حصہ لیا۔ اسٹال پر بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ انھوں نے خاص طور پر، صدر اسلامی مرکز کے انگریزی ترجمہ قرآن اور پرافٹ آف پیس کو بے حد پسند کیا اور اس کو شوق سے خریدا۔ 5- یکم نومبر 2010 کو مولانا مکرم حسین قاسمی اور مولانا محمد ذکوان ندوی نے لکھنؤ کے ایک عقد نکاح میں شرکت یہاں انھوں نے لوگوں کو ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر برائے مطالعہ دیا۔ اس موقع پر بہرائچ (یوپی) کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ جیوتي وسترالے کے مالک مسٹر شرمانے قرآن کو دیکھ کر اپنی غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ــــ لمبے عرصے سے میں قرآن کو پڑھنا چاہتا تھا، مگر اب تک میں اس کو حاصل نہ کر سکا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اب میں ضرور قرآن کو پڑھوں گا۔ 6- دوردرشن (نئی دہلی) کے اردو ٹی وی چینل کی ٹیم نے 10 نومبر 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی

انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو حج اور قربانی کے موضوع پر تھا۔ سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی۔ 7- نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) کے کمیونٹی سنٹر میں 14 نومبر 2010 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام کمیونٹی کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کو ایک اعزازی ایوارڈ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں ہندو اور مسلم افراد موجود تھے۔ ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ 8- وائی ایم سی اے (Young Men's Christian Association) کی طرف سے 17 نومبر 2010 کو اس کے کیمپس گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ایک سیمینار ہوا۔ یہ سیمینار حقوق اطفال (child rights) کے موضوع اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کی روشنی میں موضوع پر انگریزی زبان میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اس موقع پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔

9- خان مارکیٹ (نئی دہلی) میں 22 نومبر 2010 کو ہمارے ساتھیوں نے وہاں جا کر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ لوگوں نے اس کو بے حد شوق سے لیا۔

10- نئی دہلی کے سینٹ اگستنس فادر اسکول (St. Agnel's Father School) میں 23 نومبر 2010 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام کیرلا کے ایسوسی ایشن آف کرسچن فلاسفرس آف انڈیا (ACPI) کی طرف سے شائع کردہ انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی (دو جلدیں) کے افتتاح کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں علم کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ پروگرام کے صدر سپریم کورٹ کے جسٹس مارکنڈے کا ٹجو (Makandey Katju) تھے۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: Maulana Wahiddudin Khan is a role model for India. اس پروگرام میں انڈیا کے مختلف کرسچن اسکولوں کے پرنسپل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسیحی افراد شریک تھے۔ ان لوگوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔

11- سی پی ایس کے کچھ لوگ 24 نومبر 2010 کو نئی دہلی کے لال قلعہ گئے۔ اس موقع پر انھوں نے وہاں کے زائرین (visitors) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔

12- روڑکی (اتراکھنڈ) کے آئی آئی ٹی کالج میں 28 نومبر 2010 کو مسٹر ساجد انور نے سی پی ایس کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کے دعوتی لٹریچر کے لیے ایک بک کارنر (Book Corner) قائم کیا۔ انھوں نے یہاں کے طلبا اور اساتذہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔

13- سہارن پور سی پی ایس برانچ نے 28 نومبر 2010 کو ایک دعوتی پروگرام کیا۔ اس میں بطور چیف گیسٹ سوامی چنميہ آنند (صدر، وويكانند ٹرسٹ، گروکل، ہری دوار) کو بلایا گیا تھا۔ اس پروگرام کا موضوع امن اور اسلام تھا۔ اس پروگرام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات نے شرکت کی۔ ان لوگوں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ اور دعوتی

17 سوامی پریم وکرم نے اپنے لوگوں کو بطورِ خود قرآن کا ترجمہ دیا۔ اس موقع پر سوامی اگنی ویش نے صدرِ اسلامی مرکز کی تفسیر تذکیر القرآن کا ہندی ترجمہ حاصل کیا۔

14- نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں 29 نومبر 2010 کو اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ تقریر کا موضوع یہ تھا:

Printed page