Al-Risala · April 2011

انسانیت کی تاریخ

Al-Risala, April 2011, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

مؤرخین نے تاریخ نگاری کے مختلف اسلوب اختیار کیے ہیں۔ مثلاً شاہی خاندان (dynasty) کو یونٹ (unit) بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مصر کے فرعون کی خاندانی بادشاہت، روس کے زار (Tzar) کی خاندانی بادشاہت، یا ایمپائر (empire) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا۔ مثلاً رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر (Sasanid empire)، یا تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مسلم تہذیب، مغربی تہذیب، وغیرہ۔ لیکن تاریخ نگاری کا ایک اور اسلوب ہے جو زیادہ بامعنی اسلوب ہے، وہ یہ کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کی بنیاد پر تاریخ لکھی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مورخین نے انسانیت کے جن پہلوؤں کو اہم قرار دے کر ان کی نسبت سے تاریخ لکھی ہے، وہ سب تاریخ کے اضافی (relative) پہلو ہیں۔ تاریخ نگاری کا حقیقی پہلو (real) یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ تخلیق کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، انسانی تاریخ کو مرتب کیا جائے۔ اعتبار سے بنیادی طور پر انسانی تاریخ کے چار دور ہیں:

1- انبیاء (prophets) کا دور، یہ دور حضرت آدم سے حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔ 2- صحابہ کا دور، یعنی پیغمبر اسلام کے اصحاب (companions) کا دور۔ 3- الاخوان کا دور، یعنی وہ لوگ جن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ 4- الصالحون کا دور، یہ دور قیامت کے بعد آخرت میں شروع ہوگا۔

خدا نے انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ بہت سے انسانوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، اور کچھ لوگوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ اس طرح یہ تاریخ مختلف حالات سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے خدا اس تاریخ کو مینیج (manage)

کر رہا ہے۔ آخر کار خدا قیامت برپا کرے گا۔ اس کے بعد وہ لوگ منتخب کر لیے جائیں گے جنھوں نے خدا کی نظر میں، اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، وہ چھانٹ کر الگ کر دیئے جائیں گے۔ اس معاملے کو بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: The descendants of the wicked shall be cut off. (Psalm 37: 38)

Printed page