Al-Risala · April 2011

جن اور انس کی تخلیق

Al-Risala, April 2011, pp. 4–7

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیارہ زمین (planet earth) کو استثنائی طور پر اس طرح بنایا ہے کہ یہاں زندگی کی بقا ممکن ہو سکے۔ خدا نے زمین پر وہ موافق نظام قائم کیا جس کو معاون حیات نظام (life support system) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین پر سب سے پہلے جنات (27: 15) کو آباد کیا۔ زمین ایک عرصے تک جنات کے چارج میں رہی۔ سے پیدا کئے گئے تھے۔ انھوں نے زمین پر فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنات کو معزول کر کے انسان کو پیدا کیا اور ان کو زمین پر بسایا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے جب انسان کو بنایا، اُس وقت یہاں دو اور مخلوق جن اور ملائکہ (angels) موجود تھے۔ خدا نے دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے سجدہ کریں۔ یہ سجدہ اس بات کی علامت تھا کہ جن اور ملائکہ انسان کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ وہ انسان کو آزادی کے ساتھ عمل کا موقع دیں گے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: إني جاعل في الأرض خليفة (30: 2)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خلیفۃ الجن ہے، یعنی جنات کو ہٹا کر ان کی جگہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا گیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب خدا نے انسان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو فرشتوں نے اس پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء (30: 2)۔ یہ بات فرشتوں نے غالباً جنات کے متعلق اپنے سابق تجربے کی بنیاد پر کہی۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ جب آزادی پا کر جنات نے زمین پر فساد برپا کیا، تو اسی طرح انسان بھی آزادی پا کر زمین میں فساد برپا

اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إني أعلم ما لا تعلمون (30:2) یعنی میں وہ جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے۔

غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جن اور انسان میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کے خالق نے اس کی تخلیق میں استثنائی طور پر ایک طاقت ور جذبہ شامل کیا جس کو ندامت (feeling of guilt) کہا جاتا ہے، یعنی انسان اپنی آزادی کا بے جا استعمال کر کے ایک غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد اس کے اندر ندامت کا احساس جاگتا ہے اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ جذبہ ندامت جنات کے اندر موجود نہ تھا جن کو خالق نے آگ سے پیدا کیا تھا۔ اسی جذبہ ندامت کی بنا پر یہ امید تھی کہ انسان غلطی کر کے مستقل طور پر سرکش نہیں بن جائے گا، جیسا کہ ابلیس نے کیا، بلکہ غلطی کرنے کے بعد نادم ہوگا اور دوبارہ اصلاح کے راستے پر چلنے لگے گا۔

ندامت (repentance) کا یہ جذبہ انسان کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی صراطِ مستقیم سے بھٹکنے کے بعد دوبارہ مزید شدت کے ساتھ اُس پر قائم ہو جائے۔ معاملے کی پہلی مثال خود انسان اول آدم کی زندگی میں ملتی ہے۔ قرآن کے مطابق، انھوں نے ایک غلطی کی اور پھر توبہ کر کے انھوں نے نبوت کا درجہ حاصل کیا (122-121 :20)۔ بعد کی تاریخ میں اس قسم کی ایک معلوم مثال عمر بن عبدالعزیز اموی (وفات: 720ء) کی ہے۔ اُن سے ایک غلطی ہوئی اور پھر انھوں نے توبہ کی ۔ اس کے بعد اُن کو یہ درجہ حاصل ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز فرد قرار پائے، حتیٰ کہ اُن کو خلفاءِ راشدین کی فہرست میں شامل کر کے پانچواں خلیفہ کہا گیا۔ انسان کا مقصد حیات قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں (56 :51)۔ صحابی مفسر عبداللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق، اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے (القرطبی 17/55)۔ معرفت سے مراد کوئی پراسرار معرفت نہیں ہے۔ یہ دراصل خدا کے تخلیقی منصوبہ کی معرفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فکری صلاحیت (intellectual ability) کو

استعمال کر کے اپنے خالق اور اپنے رب کو دریافت کرے۔ پھر وہ اپنے آپ کو خالق کے منصوبہ میں شامل کرے، وہ اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے کہ خدا اس کو اپنے اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے لائق امیدوار (deserving candidate) ثابت کرے۔

قرآن کی یہ آیت اس سلسلے میں رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے: خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملاً (2: 67)۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا ایک انتخابی مقام (selection ground) ہے۔ یہاں آزادی کے ماحول میں انسان کو رکھ کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct) ثابت کرتا ہے۔

زندگی کا یہ تصور، زندگی کو نہایت با معنی بنا دیتا ہے۔ برٹش سائنس داں سر جیمز جینز (James Jeans) نے دیکھا کہ انسان اس دنیا میں آتا ہے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال نہیں کر پاتا، اس کی خواہشوں کو فل فل منٹ (fulfillment) نہیں ملتا اور وہ مرکز اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی: Man has strayed into a world which has not been made for him. لیکن قرآن کے مذکورہ تصورِ حیات کی روشنی میں دیکھیے تو انسانی زندگی ایک انتہائی با معنی واقعہ بن جاتی ہے۔ قرآن میں خدا کی صفت احسن الخالقین (4: 95) بتائی گئی ہے۔ دوسری طرف انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ احسن العمل (2: 67) بنے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی جو صفت خدائی سطح پر ہے، وہی صفت انسان سے انسانی سطح پر مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خدا کی یہ صفت، قدرت کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور انسان کے اندر یہ صفت، اطاعت (obedience) کی سطح پر۔

ایک مشہور قول ہے : تخلقوا بأخلاق الله (شرح العقيدة الطحاوية، جلد 1، صفحہ 120) یعنی اللہ والے اخلاق کو اپناؤ۔ یہ قول حدیث رسول نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کے مذکورہ بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقِ خداوندی کے مشابہ بنائے، کسی مجبوری کے بغیر وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے احسن العمل بنے۔

اس معیار پر پورے اتریں، وہ خدا کے مطلوب انسان قرار پائیں گے۔ ان کو آخرت کی معیاری دنیا میں خدا کے پڑوس میں جگہ ملے گی (66 : 11)۔ وہ اس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو خدا کی مہمان داری (hospitality) کا شرف حاصل ہوگا (32 : 41)۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات اللہ کی اطاعت کر رہی ہے (26 : 30)۔ سے، مادی کائنات انسان کے لیے اطاعت الہی کے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان کامل آزادی کے باوجود خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دیتا ہے، جب کہ بقیہ کائنات جبر (compulsion) کے تحت یہ اطاعت کر رہی ہے۔

اختیاریانہ اطاعت (submission by choice) ایک استثنائی ظاہر ہے جس کا ثبوت اس دنیا میں صرف انسان دیتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ذرہ سے لے کر ستاروں (stars) اور سیاروں (planets) تک، کامل طور پر خالق کی عظمت بیان کر رہی ہے، مگر اُن کا یہ بیان خاموش زبان میں ایسی ایک دنیا میں انسان کھڑا ہو کر نُطْق (speech) کی زبان میں کہتا ہے کہ ـــ خدایا، تو سب سے بڑا ہے۔ میں تیری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو تیرے آگے جھکاتا ہوں۔ صرف انسان ہے جو شعور کی سطح پر خالق کو دریافت کرتا ہے اور پھر اپنے شعور کی سطح پر خالق کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے مکمل طور پر اپنے آپ کو سرینڈر (surrender) کر دیتا ہے۔ سرینڈر جنت کی قیمت ہے۔

Printed page