انبیاء کا دور
Al-Risala, April 2011, pp. 7–11
By Maulana Wahiduddin Khan
خالق کے منصوبہ (creation plan) کے مطابق، انسان کو ٹیسٹ (test) کے لیے اس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ ٹیسٹ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا معیار (criterion) کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ کون شخص ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اس ملی ہوئی آزادی کا غلط استعمال صحیح اور غلط کا فرق جاننے کے لیے خالق نے پہلا انتظام یہ کیا کہ انسان کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز رکھ دی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَأَلْهَمَهَا
فجورھا وتقواھا (91:8) صحیح اور غلط کو جاننے کے لیے فطرت کی یہ رہنمائی گویا کہ ایک غیر منطوق رہنمائی (unspoken guidance) ہے۔ یہ رہنمائی پیدائشی طور پر عورت اور مرد کے اندر یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔
اسی کے ساتھ خالق نے منطوق رہنمائی (spoken guidance) کا انتظام کیا۔ انتظام کے تحت، اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اور ہر بستی میں اپنے پیغمبر بھیجے (24:35)۔ ان پیغمبروں کو وحی (revelation) کے ذریعے وہ رہنمائی بھیجی گئی جس کو قرآن میں الصراط المستقیم (1:5) کہا گیا یہ پیغمبر تاریخ انسانی کے ہر دور میں مسلسل آتے رہے (23:44)۔ آدم، پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس کے بعد حضرت محمد تک جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد حدیث میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24000) بتائی گئی ہے (أصول الدين للبغدادی، صفحہ: 157)۔ قرآن میں نام کے ساتھ 25 پیغمبروں کا حوالہ آیا ہے۔
تا ہم جدید ذہن کے نزدیک، یہ تمام پیغمبر غیر تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں، اُن کے نزدیک ان پیغمبروں کو تاریخی پیغمبر (historical prophets) کا درجہ حاصل نہیں۔ پیغمبروں کی پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا استثنا ہے۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکمل طور پر ایک تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف ایک مغربی اسکالر نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ ــــ محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے:
Muhammad was born within the full light of history. پچھلے پیغمبروں کا ذکر تاریخ میں کیوں موجود نہیں، اس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق ہے۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہوں کے حالات یا جنگ اور فتح کے واقعات قابل ذکر سمجھے جاتے تھے۔ چوں کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ اس طرح کے سیاسی واقعات جمع نہیں ہوئے، اسی لیے قدیم مورخین نے پیغمبر کو تاریخی طور پر قابل ذکر نہیں سمجھا۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بڑے بڑے سیاسی واقعات آئے، اس لیے آپ کے ہم عصر مورخین نے آپ کے ظہور کو ایک تاریخی واقعہ کی
حیثیت دی اور اپنی کتابوں میں ایک واقعہ کے طور پر اس کا اندراج کیا۔
خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، سب ایک ہی پیغام لے کر آئے اور وہ توحید کا پیغام تھا، یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ ایک خدا کا عابد بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم جمع نہ ہوسکی، اس لیے ہر پیغمبر کا مشن عملاً توحید کے اعلان (announcement) کے درجے تک پہنچا، وہ توحید پر مبنی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ غیر موحدانہ آئیڈیالوجی پر چلتی رہی، تاریخ کا سفر موحدانہ آئیڈیالوجی پر جاری نہ ہوسکا۔ خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ دعوت کے لیے اٹھنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کو اس مقصد کے لیے جو تائید دی گئی، وہ معجزہ (miracle) تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو یہ معجزہ کہ اُن کا عصا ایک زندہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ مگر اس طرح کے خارق عادت معجزات کے باوجود لوگ پیغمبری کی دعوت کو قبول کرنے پر راضی نہ ہوسکے، معجزہ کو انھوں نے جادو (magic) قرار دے کر رد کر دیا۔ نئی منصوبہ بندی خالق کا وجود ایک نا قابل مشاہدہ وجود ہے۔ اس کے مقابلے میں، مخلوق ایک قابل مشاہدہ چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بنا پر تاریخ کے آغاز ہی سے ایسا ہوا کہ انسان، مخلوق پرستی یا فطرت پرستی (nature worship) میں مبتلا ہو گیا۔ عبودیت کے فطری جذبات جو خالق کے لیے تھے، اُس کو انسان نے مخلوق کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رب إنهن أضللن كثيراً (36 :14) یعنی جو چیزیں انسان کو زیادہ نمایاں دکھائی دیں، اُن کو اُس نے خدائی کا درجہ دے کر پوجنا شروع کر دیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارہ، پہاڑ اور سمندر، وغیرہ۔
اس طرح تاریخ میں انسان کبھی عمومی طور پر مذہب توحید کو اختیار نہ کر سکا۔ آبادیوں میں ایک ہی مذہب رائج ہوا، اور وہ مظاہر پرستی کا مذہب تھا۔ اسی مظاہر پرستی کو قرآن میں شرک یا مشرکانہ مذہب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک کی روایات
تاریخ کے تسلسل میں شامل ہو گئیں۔ اسی واقعہ کو قرآن کی ایک آیت میں ، ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ولا یلدوا إلا فاجراً كفاراً (71: 27)۔ اسی تاثر پذیری کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہر پیدا ہونے والا مشرکانہ روایات کے ماحول میں پیدا ہوتا تھا اور دھیرے دھیرے وہ اُسی میں پختہ ہو جاتا تھا۔ اِس طرح ہر انسان کنڈیشننگ (conditioning) کا کیس بن گیا۔ اِسی کنڈیشننگ کی طرف ایک حدیث میں اِن الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: كُلُّ مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهوّدانه، وينصرانه، ويمجّسانه (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1319)۔
حضرت ابراہیم بن آزر (وفات: 1985 ق م) قدیم عراق میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔ غیر معمولی دعوتی کوشش کے باوجود ان کی قوم انکار کی روش پر قائم رہی۔ اُن کے زمانے تک یہ واضح ہو گیا کہ مجرد دعوت یا اندازِ تبشیر لوگوں کی مشرکانہ کنڈیشننگ کو توڑنے کے لیے کافی نہیں۔ کے روایتی تسلسل نے لوگوں کے ذہن کو شرک پر اتنا زیادہ پختہ کر دیا ہے کہ اب اُن کے ذہنی شاکلہ (framework) کو توڑنے یا ان کی ڈی کنڈیشننگ کرنے کے لیے ایک اور انقلابی منصوبہ درکار یہی وہ خدائی فیصلہ تھا جس کے تحت ہاجرہ اور اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔ خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو لے کر فرشتہ جبریل کی رہنمائی میں شام سے نکلے ۔ جب بھی وہ راستے میں کسی بستی سے گزرتے تو وہ جبریل سے پوچھتے کہ اے جبریل ، کیا مجھ کو یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبریل کہتے کہ نہیں۔ اِس طرح چلتے ہوئے وہ موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے۔ اُس وقت یہاں کوئی آبادی نہ تھی، صرف صحرا تھا یا خشک پہاڑ۔ بالا آخر جبریل کے حکم سے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کو یہاں بسا دیا۔ حضرت ابراہیم جب اِس طرح ہاجرہ کو چھوڑ کر وہاں سے جانے لگے تو ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہم کو اِس صحرا (desert) میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں۔ ہاجرہ نے کئی بار پوچھا، مگر حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں ہاجرہ نے کہا کہ کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے
(اللَّه أمرك بهذا) حضرت ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر ہاجرہ نے کہا: اذن لا يُضَيِّعنا الله (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3364) یعنی پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ واقعہ چار ہزار سال پہلے عرب کے صحرا میں پیش آیا۔ اس کے بعد تحریک توحید کا ایک نیا دور اس نئے دور کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے — ایک ایسی قوم تیار کرنا جو مشرکانہ ماحول کی کنڈیشنگ سے پاک ہو۔ یہ مقام جہاں ہاجرہ اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آباد ہوئیں ، وہ متمدن شہروں سے بہت دور تھا۔ یہاں دن کے وقت صحرا اور پہاڑ اور سورج دکھائی دیتے تھے اور رات کے وقت چاند اور ستارے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک بے آمیز ماحول میں توالد وتناسل کے ذریعے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو تاریخ میں بنواسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نسل کی پرورش ایک انتہائی سادہ اور غیر متمدن ماحول میں ہوئی۔ اس بنا پر وہ مشرکانہ ماحول کی کنڈیشنگ سے محفوظ رہی۔ عام طور پر مورخین اس نسل کو ایک منفرد نسل کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس نسل کے افراد میں انسانی اوصاف اعلیٰ درجے میں موجود تھے۔ قدیم عرب ان اوصاف کو ’المروءة‘ کہتے تھے۔ زیادہ درست طور پر اس کو ’الفطرة‘ کہا جاسکتا ہے۔ اُس دور کے بنواسماعیل کی ان غیر معمولی صفات کی بنا پر ایک مغربی اسکالر نے اُن کو ہیروں کی قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ ہاجرہ اور اسماعیل کے لیے یہ صحرائی زندگی غیر معمولی قربانی کی حیثیت رکھتی تھی۔ کسی میدان جنگ میں لڑ کر مر جانے سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی قربانی تھی۔ اسی لیے قرآن میں اُس کو ذَبْحِ عَظِيم (107: 37) کہا گیا ہے ، یعنی عظیم قربانی۔ قرآن کی اس آیت میں ذبح عظیم سے مراد مینڈھے کا ذبیحہ نہیں، بلکہ وہ خود اسماعیل کا ذبیحہ ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت اسماعیل کا بے آب و گیاہ صحرا میں آباد ہونا بلا شبہ ایک عظیم ترین قربانی کا درجہ رکھتا تھا، جسمانی معنوں میں نہیں، بلکہ روحانی معنوں میں۔