Al-Risala · April 2011

اصحاب رسول کا دور

Al-Risala, April 2011, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور صحابی رسول عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: اِنّ اللہ نظر فی قلوب العباد فختار محمداً صلی اللہ علیہ وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه، ثم نظر فى قلوب الناس بعده فاختار الله له أصحاباً، فجعله أنصار دينه و وزراء نبيّه (الاستيعاب لابن عبد البر، جلد 1، صفحہ 6) یعنی اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، پس اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبری کے لیے آپ کی بعثت فرمائی اور آپ کو اپنے علم کے مطابق منتخب اس کے بعد اللہ نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا، اور رسول اللہ کے لیے آپ کے اصحاب کو چن لیا۔ اُن کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کا وزیر بنایا۔

اس روایت سے اور اس طرح کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول ایک منتخب گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ اصحاب رسول کون لوگ تھے۔ یہ بنو اسماعیل کی اُس نسل میں پیدا ہونے والے افراد تھے جو خصوصی منصوبہ کے تحت، عرب کے صحرا میں تیار کئے گئے۔ ان کے اندر استثنائی طور پر وہ انسانی کردار موجود تھا جو دعوتِ توحید کی بنیاد پر ایک ٹیم بنانے کے لیے درکار تھا۔ کردار کے اہم پہلو قرآن کی ایک آیت میں اِن الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں: محمد رسول الله، والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم (48:29)

اس آیت میں ’والذین بمعہ‘ سے مراد ہے— تاریخی عظمت قائم ہونے سے پہلے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبر کو پہچانا، اور اس کی تصدیق کر کے اس کے مشن میں کامل طور پر اس کا ساتھی بن جانا۔ صحابہ کی جماعت میں یہ صفت ایک تاریخی استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کے معاصرین ان کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ اندر یہ صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ اس صحرائی تربیت نے اُن کو آخری حد تک حقیقت پسند (realist) بنا دیا۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ ایک حقیقت کو وہ اس کی مجرد صورت میں پہچان سکیں ۔ عام طور پر لوگ کسی انسان کو صرف اُس وقت پہچانتے ہیں جب کہ بعد کو اس کے گرد تاریخ کی عظمتیں جمع ہوگئی ہوں۔ صحابہ وہ معاصر اہل ایمان تھے جنھوں نے تاریخی عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس کی ساعتِ عسره (117: 9) میں پہچانا اور اس کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح وقف کر دیا۔

’أشداء على الكفار‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ منکرین پر سخت یا بے رحم تھے۔ میں کہا جاتا ہے کہ : ھو شدید علی (وہ میرا اثر قبول نہیں کرتا)۔ اس اعتبار سے، اشداء علی الكفار کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اہل انکار کے لیے غیر اثر پذیر افراد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کا شعور اتنا زیادہ بیدار تھا کہ وہ ماحول کا اثر قبول کئے بغیر اپنے اسلامی کردار پر قائم رہ سکتے تھے۔ اس واقعہ کو دوسرے الفاظ میں، اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ اپنے ماحول کی کنڈیشنگ (conditioning) کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ پوری طرح کنڈیشنگ سے پاک شخصیت (de-conditioned personality) کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے اندر یہ استثنائی صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ یہ لوگ بنواسماعیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور بنواسماعیل کے لیے ان کے صحرائی ماحول میں وہ تمدنی اسباب سرے سے موجود ہی نہ تھے جو لوگوں کی کنڈیشنگ کریں اور اس طرح اُن کو ان کی فطرت سے ہٹادیں۔

’رحماء بينهم‘ کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ صحابہ دوسروں کے لیے مہربان تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لیے مہربان ہونا، ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناپسندیدہ روش کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر عمومی طور پر یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے نفرت اور شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی شکاییوں سے اوپر اٹھ وہ اتنا زیادہ باشعور ہو کہ وہ منفی تجربات کو مثبت احساس میں تبدیل کر سکے۔ دوسروں کے لیے مہربان ہونے کا مطلب ہے، یک طرفہ طور پر دوسروں کے لیے مہربان اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ کے اندر وہ خصوصی صفت موجود تھی جس کو مثبت سوچ (positive thinking) کہا جاتا ہے۔ صحابہ مثبت ذہن رکھنے والوں (positive thinkers) کا ایک گروہ تھے۔ اسی یک طرفہ مثبت سوچ کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ شکایات کے باوجود لوگوں کے لیے ہمدرد بن جائیں، لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آنے کے باوجود وہ لوگوں کے لیے خیر خواہ بنے رہیں۔

Printed page