Al-Risala · April 2011

الحمدللۂ کلچر

Al-Risala, April 2011, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1)۔ یہ آیت دنیا کی زندگی کے بارے میں رب العالمین کے مطلوب کو بتاتی ہے۔ ٹھیک یہی آیت قرآن میں آخرت کے حوالے سے آئی ہے: وقيل الحمد للہ رب العالمین (75: 39)۔ یہ دوسری آیت آخرت میں خدا کے مطلوب کو بتا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق کائنات کو انسان کی زندگی میں ایک ہی کلچر مطلوب ہے، اور وہ الحمد للۂ کلچر ہے، موجودہ دنیا میں بھی الحمد للۂ کلچر، اور قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں بھی الحمد للۂ کلچر۔

انسانوں کے درمیان اسی الحمدللۂ کلچر کو فروغ دینے کے لیے خدا نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے۔ اس کے نتیجے میں کچھ افراد (individuals) ایسے پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی ذاتی زندگی میں الحمد للہ کلچر کو اپنایا، لیکن عمومی حیثیت سے، پوری تاریخ میں الحمدلغیر اللہ کلچر چھایا رہا، انسانی زندگی کا پورا نقشہ الحمدلغیر اللہ کلچر کا عملی نمونہ بن کر رہ گیا۔ یہ معاملہ انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ کے سراسر اس لیے خدا نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ خدائی مداخلت (divine intervention) کا یہ واقعہ ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ظہور میں آیا۔

قرآن میں اصحاب رسول کے رول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8:39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ مفسرین قرآن نے عام طور پر بیان کیا ہے۔ شرک کیا ہے، شرک دراصل الحمدلغیر اللہ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ انسان، خالق کو دیکھ نہ سکا تو اُس نے دکھائی دینے والی مخلوقات کی پرستش شروع کر دی۔ وہ خالق کے بجائے مخلوق کی عظمت (glory) میں جینے لگا۔ اسی کا نام شرک ہے۔ اور اسی کو ہم نے الحمدلغیر اللہ کلچر کا نام دیا ہے۔ حمد کیا ہے حمد صرف اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور اس کا سزا وار نہیں کہ اس کی حمد کی جائے۔

کی اصل مدح ہے، لیکن حمد میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے، حمد کا مطلب اعلیٰ تعریف (high praise) ہے۔ جس ہستی کی تعریف کی جائے اُس کے لحاظ سے تعریف کرنے والے کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص اللہ کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ الحمد للہ، تو یہ سادہ طور پر صرف مدح اور تعریف کا ایک کلمہ نہیں ہوتا، اُس میں شکر و اعتراف، احسان مندی اور جذباتی تعلق جیسے تمام اعلیٰ احساسات لازمی طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے حمد، مدح کے معنی میں ہے، لیکن استعمال کی نسبت سے اس میں معنوی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حمد کے لغوی معنی اگرچہ وہی ہیں جو مدح کے معنی ہیں، لیکن حمد کا لفظ جب رب العالمین کی نسبت سے بولا جائے تو وہ مدح پلس (praise plus) کے ہم معنی بن جائے گا۔

ایک انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے، وہ کائنات کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیق کے مظاہر میں خالق کو دریافت کرتا ہے، تو اس کے اندر احساسات کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ وقت وہ بے تابہ طور پر کہہ اٹھتا ہے: الحمد للہ ربّ العالمین۔ یہ شعوری حمد خدا کی ہستی کا اعلیٰ ترین اعتراف ہے، اس کے بعد اعتراف کا اور کوئی درجہ نہیں۔

انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کو پائے اور اس کے لیے اپنی طرف سے کمال اعتراف کے جذبات پیش کرے۔ انسان جب ایک خدا کو اپنی اس فطرت کی پکار کے جواب کے طور پر دریافت کرے، تو اسی کا نام توحید ہے۔ اور جب انسان اپنے ان جذبات کو کسی غیر خدا کی طرف منسوب (attribute) کردے اور اُس سے وہ تعلق پیدا کرلے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یحبونهم كحب الله (165: 2) تو اسی کا نام شرک ہے۔ مبنی دین، اللہ کا مطلوب دین ہے اور شرک پر مبنی دین، اللہ کا غیر مطلوب دین۔ اصحاب رسول کا ایک استثنائی رول تھا۔ وہ رول یہ تھا کہ وہ تاریخ میں الحمدلغیر اللہ کلچر کے غیر مطلوب تسلسل کو توڑیں اور الحمد للہ کلچر کے مطلوب دور کا آغاز کریں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں قتال (جنگ) کا لفظ زمانے کی رعایت سے آیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صورت حال تھی کہ الحمدلغیر اللہ کلچر نے

سیاسی اقتدار (political power) کی سرپرستی حاصل کرلی تھی، اس لیے الحمدلغیر اللہ کلچر کا خاتمہ کرنے کے لیے وقت کے سیاسی اقتدار سے مسلح ٹکراؤ پیش آیا۔

ساتویں صدی عیسوی میں دو بڑے سیاسی ایمپائر تھے جو الحمدلغیر اللہ کلچر کے فعال سرپرست بنے ہوئے تھے۔ یہ تھے — رومن ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر۔ وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ الحمدلغیر اللہ کلچر کا رواج پوری طرح قائم رہے۔ چناں چہ انھوں نے عرب کے صحرا میں اٹھنے والی تحریک توحید یا الحمدلغیر اللہ کلچر کو اپنے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا اور اس کے خلاف خود اپنی طرف سے مسلح کارروائی کا آغاز کردیا۔ اس کے نتیجے میں اصحاب رسول کورومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں دفاعی طور پر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں اصحاب رسول کی طاقت تقریباً صفر (zero) کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کی۔ پیدا ہوئے کہ دونوں ایمپائرز دس سال کے اندر دو بار خود ایک دوسرے کے خلاف مسلح جنگ میں مبتلا ہو گئے۔ اس باہمی ٹکراؤ نے دونوں کو آخری حد تک کمزور کر دیا۔ باہمی جنگ کے ذریعے پیش آنے والی یہی دوطرفہ مغلوبیت ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ الروم کی ابتدائی آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے (30:2-5)۔ بائبل میں کئی ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کا تعلق اصحاب رسول سے ہے۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جس کا تعلق رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کی مغلوبیت کے اسی واقعے سے ہے۔ اس واقعے کو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — اٗس نے نگاہ کی اور قو میں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے، قدیم ٹیلے جھک گئے :

He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)

خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب کے زمانہ خلافت (644-634ء) میں صحابہ کی جماعت ایران میں ان کی فتوحات کو دیکھ کر ایران کا سپہ سالار رستم مرعوب ہو گیا۔ اس نے صحابہ کے وفد کو اپنے دربار میں گفت و شنید کے لیے بلایا۔ گفتگو کے دوران رستم نے صحابی رسول ربعی بن عامر سے پوچھا

کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں داخل ہوئے۔ ربعی بن عامر نے بےخوفی کے ساتھ جواب دیا: اللہ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلىٰ عبادة الله (اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تا کہ وہ جس کو چاہے، ہم اُس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں ۔

صحابی رسول کے اس قول کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ اللہ نے اپنے ایک منصوبے کے تحت ہم کو اٹھایا ہے، وہ منصوبہ یہ ہے کہ دنیا سے الحمد للغیر اللہ کلچر کے غیر مطلوب دور کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں الحمد للہ کلچر کا ربانی دور شروع ہو جائے۔ اصحاب رسول کا یہ اقدام اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کسی قسم کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ زیادہ وسیع تر معنی میں تھا۔ اصحاب رسول کا مشن یہ تھا کہ وہ دنیا میں ایک نئی تہذیب (civilization) کا غلبہ قائم کریں۔ یہ ایک دور تہذیب کی جگہ دوسرے دور تہذیب کو لانا تھا، نہ کہ محدود معنوں میں ایک حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری حکومت کو لانا، یعنی الحمد للغیر اللہ پر مبنی تہذیب کی جگہ الحمد للہ پر مبنی تہذیب۔

Printed page