حقیقی تصویر، تاریخی تصویر
Al-Risala, April 2011, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
آج جب اصحاب رسول کا نام لیا جاتا ہے تو اُس وقت تک اٗس کو مکمل نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ اُن کے نام کے ساتھ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین جیسے تعظیمی الفاظ شامل نہ کیے جائیں۔ اصحاب رسول کا لفظ مسلّمہ طور پر ایک پر عظمت لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصحاب رسول کی یہ تصویر اُس وقت بنی ہے، جب کہ اُن کے ساتھ بعد کی تاریخی عظمتیں شامل ہوگئیں۔ لیکن اصحاب رسول کی تصویر اُن کے معاصرین کے لیے بالکل عام انسانوں جیسی تھی۔ صلح حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح کی گفتگو ہوئی تھی۔ اُس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو اصحاب اُس موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود الثقفی نے صحابہ کو دیکھ کر حقارت کے ساتھ اُن کو أشواب یعنی محض ایک بھیڑ (crowd) کا نام دیا تھا۔ (السيرة النبوية لابن كثير 3/317) یہی معاملہ یقینی طور پر بعد کے زمانے کے گروہ، اخوان رسول کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ معاصرین کی اکثریت ان کو پہچاننے میں ناکام رہے گی۔ یہ عام انسانی کمزوری ہے۔ مشہور مثل ہے کہ پیغمبر
اپنے زمانے میں پہچانا نہیں جاتا (A prophet is never honored in his own land)۔ کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنے معاصرین کو عام انسانوں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو ایسے فرد یا گروہ کے ساتھ بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات اُن کے نام کے ساتھ شامل بعد کے زمانے کے لوگ جب اُن کا نام لیتے ہیں تو ایک تاریخی انسان یا تاریخی گروہ کا تصور ان کے ذہن میں آتا ہے، نہ کہ اُس انسان یا اُس گروہ کا تصور جو کہ خود اپنے زمانے میں پایا حقیقی انسان اور تاریخی انسان کا یہی فرق دوبارہ کام کرے گا اور لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ سابق اصحاب رسول کی عظمت تو خوب بیان کریں گے، لیکن وہ اپنے معاصر اخوان رسول کو کم تر سمجھ کر اُنھیں نظر انداز کردیں گے۔