مشترک تائیدی عمل
Al-Risala, April 2011, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کی جماعت کا بننا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا، وہ ایک لمبے تائیدی عمل کے ذریعے انجام پایا۔ یہ تائیدی عمل تھا۔ صحرائی حالات میں خصوصی تربیت کے ذریعے بنو اسماعیل کی نسل کو وجود میں لانا۔ اس نسل کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ غیر فطری ماحول کی کنڈیشنگ سے پاک تھی۔ پر یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی استثنائی صلاحیت رکھتے تھے۔ اسی صلاحیت قبولیت کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: یکاد زيتها يضيئ ولو لم تمسسه نار (24:35)۔
بیسویں صدی عیسوی میں ڈی کنڈیشنگ کا یہ واقعہ ایک اور نظام کے تحت پیش آیا۔ تہذیب کے تحت سیکولر تعلیم اور سیکولر افكار (secular thoughts) کا نظام تھا۔ موجودہ زمانے کے سیکولر تعلیمی اداروں کو بعض لوگوں نے منفی نام دے کر قتل گاہ (slaughter house) بتایا۔ انھوں نے جدید سیکولر تہذیب کو اسلام دشمن تہذیب کہا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ادارے ڈی کنڈیشنگ کے ادارے (institutions of de-conditioning) تھے۔ ان جدید تعلیمی اداروں نے یہ کیا کہ وہاں تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلہ کو توڑ کر اُن کو اس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات (prejudices) سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اٹ از (as it is)
ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔
اس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پا کر جو افراد تیار ہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے ’’بنو اسماعیل‘‘ تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت، غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اس قابل تھے کہ اُن کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اُس کے بارے میں آزادانہ طور پر سوچیں اور اس کو قبول اس طرح یہ جدید نسل اُن لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔ یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔