Al-Risala · April 2011

مسلم دور اقتدار

Al-Risala, April 2011, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اور اصحابِ رسول 622 عیسوی میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مدینہ میں مسلمانوں کا ایک سٹی اسٹیٹ (city state) قائم ہو گیا، یعنی شہری 632 عیسوی میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو پورا عرب مدینہ کے سیاسی سنٹر کے تحت آچکا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کا سیاسی اقتدار تیزی سے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔ یہ مسلم اقتدار مختلف نشیب و فراز کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک باقی رہا۔

یہ مسلم سیاسی اقتدار اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک ایمپائر (empire) کا درجہ رکھتا تھا۔ اصولاً اسلام کی آئیڈیالوجی پر قائم تھا۔ اس طویل دور اقتدار میں انسانیت کو بہت سے مثبت فائدے مثلاً انسانی مساوات کے دور کا آنا، توہم پرستی کا خاتمہ، عدل وانصاف کا قیام، وغیرہ۔ اگر چہ فطرت کے عام قانون کے مطابق مسلم اقتدار کے طویل دور میں بہت سی کمیاں پائی جاتی تھیں، لیکن عملی اعتبار سے اس دور نے انسانی تاریخ کو ایک نئے دور ترقی سے آشنا کیا۔ مسلم دورِ اقتدار کا سب سے زیادہ دور رس رول یہ تھا کہ اُس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار علم کو عمومی توسیع کے درجے تک پہنچایا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے علم کا دائرہ بہت محدود تھا۔ عام طور پر لوگ

ناخوانده (illiterate) ہوتے تھے۔ مطالعۂ کتب کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی کتابیں برکت کے طور پر پڑھی جائیں یا بادشاہوں کے حالات کا مطالعہ کیا جائے۔

Printed page