علمی توسیع کا اصل سبب
Al-Risala, April 2011, pp. 23–25
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کی اس توسیع کا اصل سبب بلا شبہ قرآن تھا۔ قرآن، انسانی تاریخ کی پہلی کتاب ہے۔ میں بار بار نہایت تاکید کے ساتھ یہ بات کہی گئی کہ زمین و آسمان کی چیزوں میں غور کرو۔ قرآن نے اس غور و فکر کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو عبادت کا درجہ دے دیا۔ سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں کائنات میں غور و فکر کرنے والوں کو خصوصی مقام دیتے ہوئے فرمایا: الذین يتفكرون في خلق السماوات والأرض (191: 3)۔ اور سورہ فاطر میں بارش کے نظام، نباتات اور حیوانات اور پہاڑوں کی ساخت وغیرہ کا مطالعہ کرنے والوں کو علماء (28: 35) کا درجہ دیا گیا۔ قرآن میں پہلی بار اس حیثیت کا انکشاف کیا گیا کہ زمین و آسمان کو اس کے خالق نے انسان کے لیے مسخر (subservient) بنا دیا ہے (13: 45)۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیچر انسان کو اپنا خادم نظر آنے لگی، نہ کہ معبود۔ اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ قرآن کی ان آیتوں نے اہل ایمان کو علم کے ایک توسعی مفہوم سے متعارف کیا۔ اس کے مطابق، پوری کائنات گویا کہ ایک وسیع لائبریری علم ایک محدود شعبہ نہ رہا، بلکہ وہ ایک آفاقی شعبہ بن گیا۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا رواج تھا۔ دراصل مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ شرک کے نظریے کے تحت، فطرت (nature) پرستش کی چیز بنی ہوئی تھی۔ جو چیز پرستش کا موضوع (object of worship) کا درجہ رکھتی ہو، وہ اسی وقت تحقیق کا موضوع (object of investigation) نہیں بن سکتی۔ مسلم دورِ اقتدار میں، قرآن کی آئیڈیالوجی کے تحت، یہ ہوا کہ عمومی طور پر فطرت (nature) کو الوہیت (divinity) کے درجے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مظاہر فطرت بڑے پیمانے پر تحقیق و مطالعے کا موضوع بن گئے۔ اس نئے کلچر کا پہلا مرکز مدینہ بنا۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچا۔
کے بعد قاہرہ اور بغداد میں اس کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس کے بعد وہ مسلم اسپین تک پہنچا اور قرطبہ اور غرناطہ اس کا مرکز بنے۔ مسلم اقتدار کے تحت ، اس دورِ علم نے کائنات کی تمام چیزوں کو مطالعہ اور تحقیق کا موضوع بنا دیا ، جب کہ اس سے پہلے اُس کو صرف تقدس اور عبودیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس حقیقت کا اعتراف مختلف اہل علم نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975) نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ فزیکل سائنس (physical science) تمام تر فطرت(nature) کی دریافت کا نام ہے۔ یہ فطرت ہمیشہ سے دنیا میں موجود تھی ۔ انسان ، اول دن سے اس کو دیکھ رہا تھا ، پھر ایسا کیوں ہوا کہ فطرت کی یہ دریافت بہت زیادہ تاخیر کے ساتھ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوسکی۔ آرنلڈ ٹائن بی نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ قدیم زمانے میں انسان نے نیچر (فطرت) کو مقدس (sacred) سمجھ لیا تھا۔ وہ نیچر کو خدائی کا درجہ دئے ہوئے تھا۔ اس بنا پر انسان، نیچر کی تحقیق یا اس کو مسخر کرنے کی بات نہ سوچ سکا۔ ٹائن بی (Arnold Toynbee) کے مطابق، بعد کے زمانے میں جب توحید (monism) کو فکری غلبہ حاصل ہوا اور اس نے شرک کے نظریے کو ختم کیا تو اس کے بعد انسان کے اندر نیچر کے بارے میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی جو آخر کار سائنسی انقلاب کا سبب بنی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’اسلام دورِ جدید کا خالق‘‘)۔ انسان مرکزی پلان خدا کا تخلیقی منصوبہ انسان مرکزی منصوبہ (man-centered plan) ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وسخر لكم ما في السماوات ومافي الأرض جميعاً منه (13 :45) یعنی زمین اور آسمان کا پورا نظام انسان کی ضرورت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ ہر چیز براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسان کی کسی نہ کسی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ عیسوی میں جب قرآن نازل ہوا ، اس وقت یہ بات صرف ایک عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اکیسویں صدی عیسوی میں یہ چیز ایک سائنسی حقیقت بن چکی ہے۔ جدید ترین سائنسی تحقیقات نے بتایا ہے کہ پوری کا ئنات کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی مکمل طور پر انسانی تقاضوں کے مطابق۔
انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کرنے کے لیے ہر دور میں خدا کی طرف سے پیغمبر بھیجے یہ پیغمبر عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتے تھے، اس لیے اُن کے معاصرین اُن کو پہچان نہ انھوں نے ان کا استہزا (35:30) کیا اور ان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ دعوتی مشن کے لیے ہمیشہ ایک خارجی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے انبیاء کو یہ تائید معجزہ (miracle) کے ذریعے دی گئی۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا (59:17)۔ اس کے برعکس، آپ کے لیے خصوصی منصوبہ کے تحت، قابلِ کار انسانوں کی ایک طاقت وٹریم فراہم کی گئی۔ اس ٹیم کی تائید سے پیغمبر اسلام نے اپنے تاریخی مشن کو مکمل کیا۔ اسی ٹیم کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیم ایک صحرائی کلچر (desert culture) کے ذریعے تیار کی گئی۔ اس صحرائی کلچر نے گویا کہ تائید کا وہ کام کیا جو پیغمبروں کے زمانے میں معجزہ کے ذریعے انجام پایا تھا۔