Al-Risala · April 2011

اخوانِ رسول کا دور

Al-Risala, April 2011, pp. 25–29

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ میں تیسرا رول اُس گروہ کا ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ودہتُ أنا قد رأينا إخواننا، قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله، قال: أنتم أصحابى، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، رقم الحديث: 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن میں ساتھ دینے والے معاصر اہلِ ایمان (contemporary believers) کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں پیغمبر اسلام کے دعوتی مشن کے لیے دوبارہ اٹھنے والے غیر معاصر اہلِ ایمان کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعوتِ الی اللہ کے مشن کو دوبارہ دریافت کریں گے اور آخری زمانے کے انسانوں تک حق کا پیغام پہنچائیں گے۔ اخوانِ رسول کا مشن ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس میں اُن کے

دعوتی مشن کو ادخالِ کلمہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لا يبقی علی ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4) یعنی زمین کی پشت پر کوئی خیمہ یا کوئی گھر باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کی سیاسی حکومت ساری دنیا میں قائم ہو جائے گی۔ یہ حدیث واضح طور پر دعوتی توسیع کے معنی میں ہے، نہ کہ حکومتی توسیع کے معنی میں۔ حدیث میں 'کلمۂ اسلام' کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام کا لفظ۔ دعوت کی عالمی توسیع کا یہ کام آخری زمانے میں سائنٹفک کلچر کی تائید سے انجام پائے گا۔ آخری زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے ایسے وسائل اور ایسی ٹکنالوجی دریافت ہوگی جو تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دے گی کہ کرہ ارض پر بسے ہوئے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچ جائے۔ خواہ نہ ماننے والے اُس کو نہ مانیں، اور ماننے والے اس کو مان کر خدا کے انعام کے مستحق بنیں۔ اس پیشین گوئی سے مراد واضح طور پر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ظاہر ہونے والا وہ دور ہے جس کو کمپیوٹرائج (computer age) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کا آخری رول الصالحون (105: 21) کے لیے مقدر ہے۔ یہ رول قیامت کے بعد جنت میں ملکوتی کلچر (angelic culture) کی تائید سے انجام پائے گا۔

حدیث رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں اخوانِ رسول کا ظاہر ہونا یقینی ہے، تاکہ وہ دعوتی عمل انجام پائے جو آخری زمانے کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ جس طرح ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے لیے ایک رول مقدر تھا جس کو انھوں نے انجام دیا، اسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے لیے ایک رول مقدر ہے جس کو وہ اللہ کی توفیق سے انجام دیں گے۔ میں کوئی فرشتہ ظاہر ہو کر یہ اعلان نہیں کرے گا کہ فلاں گروہ اخوانِ رسول کا گروہ ہے۔ اس قسم کا اعلان صرف آخرت میں ہوگا۔ البتہ صاحبِ معرفت افراد اُس کو پہچانیں گے اور اس کا ساتھ دے کر آخرت کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔

اخوان رسول کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے اس کو یقینی طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ دو بڑے دوروں (periods) میں تقسیم ہے— روایتی دور، اور سائنسی دور۔ امتِ مسلمہ سے ہر زمانے میں ایک ہی کام مطلوب ہے، اور وہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ روایتی دور میں جن لوگوں نے اِس کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیا، وہ اصحاب رسول کہے جاتے ہیں۔ اِس طرح بعد کے سائنسی دور میں جو لوگ دعوت کے کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیں، وہ اخوان رسول قرار پائیں گے۔

مزید مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول نے جو کام انجام دیا، وہ قرآن کے الفاظ میں، اظہارِ دین (48: 29) کا کام تھا۔ بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول جو کام انجام دیں گے، وہ حدیث کے الفاظ میں، ادخالِ کلمۂ اسلام کا کام ہوگا۔ ادخال کلمہ کا لفظ اپنے آپ یہ متعین کر رہا ہے کہ اس کا زمانہ کیا ہوگا۔ دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں ادخال کلمہ کا کام صرف اُس وقت انجام دیا جاسکتا ہے جب کہ اُس کے لیے اُس کے موافق اسباب پیدا ہو چکے ہوں۔ مثلاً عالمی کمیونیکیشن، مذہبی آزادی، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب پیدا ہو چکے ہیں، اِس لیے یقینی ہے کہ وہ زمانہ اب وقوع میں آچکا ہے جب کہ اخوانِ رسول کی جماعت ظاہر ہواور وہ نئے مواقع کو استعمال کر کے عالمی ادخال کلمہ کا کام انجام دے۔

مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سارا کام بشر کی سطح پر ہوگا، نہ کہ فوق البشر کی سطح پر۔ اصحاب رسول بشر انھوں نے بشر کی سطح پر اپنے رول کو انجام دیا۔ اصحابِ رسول کو اُن کے معاصرین میں سے صرف اُن لوگوں نے پہچانا جو یہ جانتے تھے کہ اصحاب رسول بشر ہیں، نہ کہ فوق البشر۔ اِس طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کا رول بھی بشر کی سطح پر ہوگا۔ اِس بنا پر اخوانِ رسول کو پہچاننے اور ان کا ساتھ دینے کی توفیق صرف وہ لوگ پائیں گے جو اِن کو بشر کی سطح پر پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اخوانِ رسول کے بارے میں کوئی پراسرار تصور رکھتے ہوں، جو اِن کو بشر کے بجائے فوق البشر کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہوں، وہ اخوانِ رسول کے زمانے میں اخوانِ رسول کو پہچاننے میں اُسی طرح نا کام رہیں گے

جس طرح اصحاب رسول کے زمانے میں لوگ اصحاب رسول کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ تائید بذریعہ سیکولر تہذیب ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062) یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید کرے گا فاجر انسان کے ذریعے ۔ اس حدیث میں فاجر کا لفظ گناہ گار کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ سیکولر یا غیر مومن (unbeliever) کے معنی میں ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بار بار ایسا ہوا کہ ایک غیر مومن یا غیر متقی انسان نے کسی موقع پر دینِ خداوندی کی مدد کی۔ مثلاً ہجرت کے مشکل سفر میں عبداللہ بن ارقط کی رہنمائی، خیبر کے غزوہ میں قُزمان الظفری کا صحابہ کے ساتھ لڑنا، وغیرہ۔ اس قسم کی تائیدِ دین کا غالباً سب سے بڑا واقعہ وہ ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ جدید دور میں مغرب کے مفکرین اور سائنس دانوں نے غیر معمولی محنت کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا۔ اس کے نتیجے میں جدید مغربی تہذیب وجود میں آئی۔ یہ تہذیب ایک سیکولر تہذیب تھی اور اس کو وجود میں لانے والے افراد بھی سب کے سب سیکولر تھے۔ نیز اس کا استعمال بھی عام طور پر سیکولر مقاصد کے لیے کیا گیا، لیکن اس جدید تہذیب کے اندر ایک اور عظیم امکان چھپا ہوا تھا۔ یہ دعوتی امکان تھا۔ ان دعوتی مواقع نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنایا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام موثر انداز میں پہنچا دیا جائے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔

عالمی سطح پر ادخالِ کلمہ کا دعوتی کام پر اصرار طور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کام قدیم روایتی وسائل کے ذریعے بھی انجام دینا ممکن نہ تھا۔ مثلاً عقبہ بن نافع تابعی (وفات: 683ء) گھوڑے پر سوار ہو کر افریقہ کی شمالی سرحد تک گئے، لیکن اُس زمانے میں بحر اٹلانٹک کو (Atlantic Ocean) کو پار کرنے کا کوئی وسیلہ موجود نہ تھا، اس لیے اُن کا دعوتی مشن افریقہ کے ساحل سے آگے نہ بڑھ سکا۔ مغربی تہذیب کے ذریعے دعوت کے جو نئے مواقع کھلے، وہ بنیادی طور پر دو قسم کے مواقع تھے۔

اس کا ایک پہلو وہ تھا جس کو فکری پہلو کہا جاسکتا ہے، یعنی فکری اور نظریاتی اعتبار سے نئے دعوتی مواقع کا مثلاً مکمل مذہبی آزادی، عمومی سطح پر روح تجسس (spirit of enquiry) کا وجود میں آنا، مذاہب کا غیر اعتقادی مطالعہ، وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا کہ سائنسی مطالعے کے نتیجے میں فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔ ان دریافتوں کے نتیجے میں مذہب توحید کو خود انسان کے قائم کردہ علمی معیار پر مدلل کرنا ممکن ہو گیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا عظیم دعوتی امکان ہے جسے قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بطور پیشین گوئی اس طرح بیان کیا گیا تھا: سنریهم آیاتنا فی الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (53 :41)۔

اس سلسلے میں پہلا اہم واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے دعوت کے کام کو دستی کتابت کے مرحلے سے نکال کر پرنٹنگ کے مرحلے میں پہنچا دیا۔ اسی طرح جدید کمیونکیشن کی دریافت ہے۔ جدید کمیونکیشن اور ملٹی میڈیا نے بیسویں صدی عیسوی میں پہلی بار حقیقی طور پر اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدائی پیغام کو نہ صرف سارے عالم میں پہنچایا جاسکے، بلکہ اس کو اتنی سرعت کے ساتھ انجام دیا جائے کہ وقت کا معاملہ اضافی (relative) یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فوری مواصلات (instant communication) کہا جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمیونکیشن اور میڈیا کے میدان میں یہ ناقابل قیاس ترقی اسی لیے ہوئی کہ آخری دور کے داعیوں کی جماعت (اخوان رسول) اُس کو استعمال کرکے ادخال کلمہ کے عمل کو مؤثر طور پر انجام دے سکے۔

Printed page