Al-Risala · April 2011

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا مشترک رول

Al-Risala, April 2011, pp. 29–32

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول ایک ہی امت کے دو مختلف گروہ ہیں۔ دونوں گروہوں کے درمیان بظاہر ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہوگا۔ دونوں اپنے اپنے دور کے اعتبار سے دعوت الی اللہ کا کام انجام دیں گے، مگر دونوں گروہوں کے درمیان ایک چیز مشترک (common) ہوگی، وہ

یہ دونوں اللہ کی خصوصی توفیق سے ایک ایسے منفی اتحاد (nexus) کو توڑیں گے جو دعوتی مشن کے راستے میں سنگین رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اِس زمانے میں یہ صورتِ حال تھی کہ ہزاروں سال کی روایات کے نتیجے میں شرک اور پولیٹکل پاور کے درمیان خطرناک قسم کا اتحاد (nexus) قائم ہوگیا تھا۔ یہ اتحاد، دعوت الی اللہ کے کام کو آگے بڑھانے میں ایک مستقل رکاوٹ (road block) بنا ہوا تھا۔ شرک کے علم بردار پولیٹکل پاور کی مدد سے توحید کی دعوت کو ابتدا ہی میں کچل کر ختم کر دیتے تھے۔ اصحابِ رسول نے شرک اور پولیٹکل پاور کے اِس منفی اتحاد کو اپنی بے پناہ قربانیوں کے ذریعے ختم کیا۔

ساسانی ایمپائر اور رومی ایمپائر کے خلاف مسلح ٹکراؤ اِسی قسم کا آخری اور فیصلہ کن واقعہ تھا۔ ٹکراؤ کا آغاز دونوں ایمپائر کی طرف سے کیا گیا۔ اُس وقت اصحابِ رسول نے خلیفہ عمر فاروق کی قیادت میں بے مثال قربانی کا ثبوت دیا، یہاں تک کہ دونوں ایمپائر ٹوٹ گئے۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ توحید کا رکا ہوا سیلاب ایک طوفان بن کر سارے عالم میں پھیل گیا۔

اِسی طرح بیسویں صدی میں ایک نیا غیر مطلوب اتحاد (nexus) قائم ہوا ہے۔ اِس اتحاد کو الحاد (atheism) اور سائنس کے درمیان اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علمِ فطرت کا نام ہے، لیکن الحاد کے علم برداروں نے سائنس کو غلط تعبیر کے ذریعے الحادی نظریات کی حمایت کے لیے استعمال کیا، انھوں نے سائنس کو اپنے مقصد کے لیے ہائی جیک (highjack) یہ گویا سیکولرائزیشن آف سائنس (secularization of science) کا معاملہ تھا۔ طرح عملاً یہ ہوا کہ جدید سائنس دعوتِ توحید کی معاون بننے کے بجائے اس کی رقیب (rival) بن بدقسمتی سے لوگوں نے ہائی جیکڈ سائنس (highjacked science) کو جانا، وہ پیور سائنس (pure science) سے بے خبر رہے۔ اِس لیے وہ سائنس کے بارے میں منفی ہوگئے، انھوں نے سائنس اور الحاد کو ہم معنی سمجھ لیا۔

بعد کے زمانے کے اخوانِ رسول دوبارہ یہ کارنامہ انجام دیں گے کہ وہ سائنس اور الحاد کے اس اتحاد کو توڑیں اور دوبارہ توحید کو ایک فکری اور نظریاتی سیلاب کا درجہ عطا کردیں۔ اصحابِ رسول کو اس مقصد کے لیے مسلح جہاد کرنا پڑا تھا۔ اخوانِ رسول کے زمانے میں حالات بدل چکے ہوں گے۔ اخوانِ رسول اپنا مقصد فکری جہاد (ideological jihad) کے ذریعے حاصل کریں گے۔ اخوانِ رسول کا رول پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ خدا کے آخری رسول تھے۔ آپ کے زمانے میں پہلی بار آپ کے متبعین (followers) کی ایک طاقت ور اس ٹیم کو تاریخ میں، اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی ایک پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں دوبارہ آپ کے متبعین کی ایک طاقت ور ٹیم بنے گی۔ اس دوسری ٹیم کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ دوسری ٹیم خدا کی خصوصی مدد سے آخری زمانے میں اہم دعوتی رول ادا کرے گی۔ ان دونوں جماعتوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الفتح کی آخری آیتوں کے مطالعے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:” محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں کے اوپر شدید ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کے لیے مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں، سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ان کی نشانی اُن کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ زارعین کو بھلا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ ان سے منکروں کو ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور ایک بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔

قرآن کے اس حصے میں دو حالوں کا ذکر ہے، تو رات اور انجیل۔ تو رات کے حوالے سے اصحاب رسول کا وہ انفرادی کردار بیان ہوا ہے جس کا اظہار دورِ اول میں خود زمانہ رسالت میں پیش آیا۔

خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبرِ اسلام کو پہچاننا اور کسی تحفظ (reservation) کے بغیر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ اعلیٰ درجے کے بااصول افراد تھے۔ وہ کامل معنوں میں عبادت گزار تھے۔ وہ اللہ پر اعتماد کرنے والے تھے۔ موجودہ تورات میں ان کے لیے قدسیوں (saints) کا لفظ آیا ہے (33:2 Deuteronomy)۔ انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اصحابِ رسول کا ذکر آیا ہے، وہ درخت کی تمثيل کے روپ میں ہے (13:31-32 Mathew)۔ درخت کی تمثیل سے مراد تاریخی عمل (historical process) اصحابِ رسول کا ایک رول وہ ہے جو انہوں نے اپنے زمانے میں ادا کیا۔ ان کا دوسرا رول وہ تھا جو اس کے روپ میں انجام پایا۔ اصحابِ رسول کے انقلابی عمل نے تاریخ میں ایک پر اس جاری کیا جو مختلف صورتوں میں بعد کی نسلوں میں آگے بڑھتا رہا۔

چار ہزار سال پہلے ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک پر اس جاری ہوا اس پر اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور پر ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول (companions of the Prophet) کا گروہ وجود میں آیا۔ اس کے بعد دوسرا تاریخی پر اس وہ تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے انقلابی عمل کے ذریعے تاریخ میں شروع ہوا۔ اس دوسرے تاریخی پر اس کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول (brothers of the Prophet) کہا گیا ہے۔

احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوانِ رسول کا یہ گروہ غالباً اُس زمانے میں پیدا ہونے والا تھا جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اخوانِ رسول کا گروہ سائنسی زمانے کی دریافتوں سے واقف ہو کر اعلیٰ معرفت رب حاصل کرے گا۔ دوسری طرف وہ نئے طاقت ور ذرائع کو استعمال کر کے اِس عالمی دعوت کو انجام دے گا جس کو حدیث میں ادخال الکلمۃ فی کل البیوت (ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخلہ) کہا گیا ہے۔

Printed page