Al-Risala · January 2011

تائید دین

Al-Risala, January 2011, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تاریخی عمل کا تیسرا دور وہ ہے جس کو حدیث میں تائید دین کہا گیا ہے۔ مذکورہ کام کی انجام دہی کے بعد اب ضرورت تھی کہ خدائی سچائی کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔ مگر اس عالمی دعوت کی انجام دہی کے لیے امتحان کی اس دنیا میں اسباب کی ضرورت تھی۔ خصوصی طور پر ایسے مواصلاتی ذرائع جن کی مدد سے پیغام رسانی کے کام کو عالمی سطح پر انجام دینا ممکن ہوجائے۔ عالمی دعوت کے لیے ایسے مواصلاتی نظام کو وجود میں لانے کا کام مسلمان انجام نہ دے سکے۔ چناں چہ اللہ تعالی نے اس مقصد کے لیے مغرب کی غیر مسلم قوموں کو استعمال کیا۔ یہ گویا کہ وہی طریقہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ مغربی قوموں نے لمبی

جدوجہد کے بعد ایک نیا دور پیدا کیا۔ یہ دور مواصلاتی دور (age of communication) ہے جو عالمی پیغام رسانی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان موافق اسباب کی فراہمی کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کر کے خدا کے کلام کو ساری دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔ آؤٹ سورسنگ کے اس طریقے کو حدیث میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ ایک طویل حدیث میں اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله ليؤيّد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسير، باب: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر) یعنی اللہ بے شک اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔

Printed page