عالمی انذار و تبشیر
Al-Risala, April 2011, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے: تبارك الذی نزل الفرقان علی عبده ليكون للعالمين نذيرا (25:1)۔ یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کو عالمی انذار و تبشیر کے لیے اتارا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اترا۔ اُس وقت اور اس کے بعد ہزار سال تک وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کر کے قرآن کرہ ارض کے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے، نہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، نہ تیز رفتار سواریاں تھیں، نہ جدید کمیونیکیشن تھا۔ زمانے میں ساری دنیا میں صرف علاقائی زبانیں (regional languages) تھیں ۔ بین الاقوامی زبان (international language) موجود نہ تھی جس میں ترجمہ کیا جائے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کیوں کر یہ ممکن تھا کہ قرآن کا مقصد نزول پورا ہو اور پہنچانے والے اس کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔
اس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۃ الانعام میں یہ آیت آئی ہے: وأوحي إلي هذا القرآن لأنذركم به ومن بلغ (6: 19) یعنی اے رسول کہہ دو کہ مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اُس سے خبردار کردوں، اور وہ بھی جسے یہ قرآن پہنچے، یعنی میں اپنے زمانے کے لوگوں کو آگاہ کروں، اور میرے بعد آنے والے اہلِ ایمان اپنے زمانے کے لوگوں کو اس سے آگاہ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے ہم زمانہ (contemporaries) لوگوں تک قرآن کو پہنچادے۔ اس کے بعد امت کی یہ مستقل ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور کے لوگوں تک قرآن کو پہنچاتی رہے۔ امت کی ہر نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک اُسی طرح قرآن کو پہنچائے جس طرح پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک قرآن کو پہنچایا تھا۔ قرآن کی دعوتی اشاعت کا یہ کام نسل در نسل کیا جانے والا کام ہے۔ اس ابتدائی دور میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا کام جن لوگوں نے انجام دیا، اُن کو صحابی اور تابعین اور مفسرین، وغیرہ کہا جاتا اسی طرح دور آخر میں بھی امت کا ایک خصوصی گروہ ہوگا جو اپنے زمانے کے نئے پیدا شدہ مواقع دعوت کو استعمال کرکے قرآن کی عمومی اشاعت کا یہ کام انجام دے گا۔ آخری دور کا یہی وہ خصوصی گروہ ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے۔