Al-Risala · April 2011

سیکولر سو یلائزیشن، اِسپر یچول سو یلائزیشن

Al-Risala, April 2011, pp. 35–39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (51: 56)۔ اِس آیت میں 'يعبدون' سے مراد 'يعرفون' ہے، یعنی اللہ نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ غور وفکر (contemplation) ہے، یعنی تخلیقات میں غور کر کے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور پھر اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔

مقصد تخلیق کے بارے میں ایک مشہور قول یہ ہے: كُنتُ كنزاً مخفياً، فأحببتُ أن أُعرف، فخلقت الخلق (کشف الخفاء، 2/1011) یعنی اللہ نے فرمایا کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر

میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، تو میں نے اس مقصد کے لیے خلق (انسان) کو پیدا کیا۔ کسی عارف کا یہ قول اصلا سورہ الذاریات کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔ قائل نے کلام کی رعایت سے اس کو حدیث قدسی کے اسلوب میں بیان کر دیا ہے۔ اگر اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو معروف تفسیری اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا : کان اللہ کنزاً مخفياً، فأحب أن يُعرف، فخلق الخلق ۔

اللہ تعالیٰ نے پہلے جنات کو پیدا کیا۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ کائنات میں چھپے ہوئے رموز معرفت کو دریافت کریں اور خدا کی عظمت کا اعلان واظہار کریں۔ مگر جنات کے سردار ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات (12 :7) کی نفسییات میں مبتلا ہوگئے، وہ اللہ کی کبریائی کی معرفت حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنات نے خود اپنی عظمت (self-glory) کو جانا، مگر وہ خدا کی عظمت (glory of God) کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کی تخلیق اس لیے ہوئی کہ وہ جنات کے بعد اُن کا جانشین بنے۔ وقت یہ معاملہ فرشتوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ انھوں نے یہ اشکال ظاہر کیا کہ جس طرح جن، مقصد تخلیق کو پورا کرنے میں ناکام رہے، اُسی طرح انسان بھی ناکام رہے گا، وہ تخلیق کے مقصد کو پورا نہ کر سکے گا۔ فرشتوں کے اشکال کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ (demonstration) کا اس مظاہرے کا خلاصہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے : علم آدم الأسماء كلها (31 :2)۔ اس آیت میں اسماء سے مراد مسمیات ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اضافی انعام کے طور پر انسان کو تمام اشیا کا علم عطا فرمایا، اُس نے انسان کی فطرت میں تمام تخلیقات کا علم داخل کر دیا۔ اس طرح انسان اپنے لاشعور (unconscious mind) کی سطح پر بطور امکان (potentially) ہر چیز سے واقف ہوگیا۔ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے وقتی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے بعد فرشتے مطمئن ہوگئے۔ قرآن کے اس حصے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کو دماغ دیا گیا تھا، لیکن اجزاء معرفت کا پیشگی علم اُنھیں حاصل نہ تھا۔ اُن سے مطلوب تھا کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے کائنات میں چھپے ہوئے رموز معرفت کو دریافت کریں۔ اُنھیں غور وفکر کے ذریعے اپنے نامعلوم کو معلوم

بنانا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں نا کام رہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام کے ساتھ انسان کو پیدا فرمایا۔ وہ مزید اہتمام یہ تھا کہ جن اجزاء معرفت کو اُسے دریافت کرنا تھا، اس کو پیشگی طور پر اس کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: بل هو آيات بينات في صدور الذين أتوا العلم (29:49) یعنی تمام اجزاء معرفت پیشگی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اس لاشعور کو شعور میں لے آئے۔ دریافت یا ان فولڈنگ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو علمی دنیا میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے، وہ حقیقت میں دریافت نہیں ہے، بلکہ وہ ان فولڈنگ (unfolding) ہے، یعنی جو چیزیں انسان کی فطرت میں پہلے سے بالقوہ (potential) طور پر موجود ہیں، اُن کو بالفعل (actual) طور پر وقوع میں جنات کو اپنے لامعلوم کو معلوم بنانا تھا، اس میں وہ ناکام ہو گئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی مخلوق کے لیے تیسیر کا معاملہ فرمایا، یعنی غیر شعوری سطح پر موجود چیزوں کو شعور کی سطح پر معلوم بنانا۔ سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سائنس دانوں کی ہر دریافت اتفاقی دریافت ہے، وہ صرف اتفاقی طور پر سائنس داں کے علم میں آتی ہے:

It is discovered by scientist by the way of accident. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سائنسی دریافتوں کا معاملہ ایکسیڈنٹ (accident) کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ کو انسیڈینٹس (co-incidence) کا معاملہ ہے، یعنی سائنس داں کوئی تجربہ کر رہا ہوتا ہے، اُس وقت ایک چیز فلیش (flash) کرتی ہے۔ یہ فلیش اس کے لاشعور میں موجود ایک علم سے مطابقت کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنس داں مزید تجربہ کر کے ایک نئی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سائنس داں ایک باریک برتن کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس برتن کے اوپر ایک ڈھکن تھا اور برتن میں پانی بھرا ہوا تھا۔ برتن کے نیچے آگ جل رہی تھی۔ پانی کا درجہ حرارت جب

100 ڈگری تک پہنچ گیا تو اس کے اندر پیدا ہونے والی بھاپ سے ڈھکن اوپر اٹھ گیا۔ سائنس داں اس پر غور کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے دریافت کیا کہ پانی کا درجہ حرارت جب بڑھتا ہے تو اس کے مالکیول (molecule) ٹوٹ کر ادھر ادھر اڑنے لگتے ہیں ۔ مالکیول کے اس انتشار (molecular disintegration) سے اسٹیم پاور پیدا ہوتا ہے۔ اس پاور کے ذریعے انجن چلائے جاسکتے پانی کی یہ خاصیت پہلے سے اس کے لاشعور میں موجود تھی ۔ مذکورہ مشاہدہ اس کے لاشعور سے مطابقت کر گیا۔ مطابقت کے نتیجے میں انسان نے وہ چیز دریافت کی جس کو اسٹیم پاور (steam power) کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دریافتیں کو انسڈینیس کا نتیجہ ہوتی ہیں: Discoveries are results of co-incidence. حصول معرفت کا ذریعہ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود پر سوچتا ہے، وہ کائنات کے مظاہر میں غور وفکر کرتا ہے۔ اس طرح غور و فکر کے ذریعے وہ رموز معرفت کو دریافت کرتا ہے۔ رموز معرفت میں پچاس فی صد حصہ خارجی مظاہر کا ہے، اور پچاس فی صد حصہ داخلی اعتبار سے علم اشیا کا۔ یہی وہ علم اشیا ہے جس کو وجدان (intuition) کہا جاتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ آدمی دونوں کے درمیان مطابقت کو دریافت کرتا ہے۔ یہ واقعہ مسلسل پیش آتا ہے اور اس طرح مومن کا سفر معرفت مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔

معرفت کا حصول کوئی پر اسرار چیز نہیں، وہ تخلیق میں تدبر کر کے خالق کو دریافت کرنے کا نام یہ عمل اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں میں ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہو گیا تھا۔ کے ذریعے ان کے اندر تحریک ہوئی اور وہ کائنات کی چیزوں میں معرفت کے نقطۂ نظر سے غور وفکر مثال کے طور پر ایک صحابی رسول ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ: ولقد تر کنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، و ما يقلّب طائر جناحيه في السماء، إلا ذكر لنا منه علماً (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 131) یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ

ایک چڑیا بھی آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تھی تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔ تخلیق کے نظام میں غور وفکر کر کے معرفت کی خوراک حاصل کرنے کا کام مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر شروع ہوا اور صدیوں تک جاری رہا۔ علم کلام میں جس چیز کو مبنی بر براہیں استدلال کہا جاتا ہے، وہ یہی ہے۔ مگر مسلمان علم معرفت یا سائنس آف معرفت کو ایک حد سے آگے نہ بڑھا سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں غور وفکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک (traditional framework) موجود تھا، اور روایتی فریم ورک میں مشاہدہ اور تجربہ کا عمل صرف محدود دائرے میں ممکن ہوتا تھا۔ اس معاملے میں زیادہ وسیع غور وفکر صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا، جب کہ دور بین (telescope) اور خوردبین (microscope) جیسے آلات ایجاد ہوئے۔ دور بین کو پہلی بار گیلیو نے 1609 میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیا۔ خوردبین پہلی بار 1590 میں دریافت ہوئی۔ ان دریافتوں کے بعد عالم کبیر (macro world) اور عالم صغیر (micro world) دونوں کا مشاہدہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ممکن ہو گیا۔ معرفت کے حقائق جو اب تک انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے، وہ اب انسان کے براہ راست علم میں آنے لگے۔ بعد کے دور میں یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مغربی علماء کے ذریعے فطرت کی تحقیقات سامنے آئیں، انھوں نے معرفت خداوندی کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ پہلے جو چیز صرف عقیدہ کا درجہ رکھتی تھی، وہ اب علمی مسلمہ کے درجے میں ایک ثابت شدہ واقعہ بن گئی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج)۔ مغربی سائنس دانوں نے موجودہ زمانے میں جو کام کیا، وہ علم معرفت کے اعتبار سے بہت بڑا اس اعتبار سے، یہ مغربی علماء پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا مصداق تھے: إن الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر۔

Printed page