ایک مغالطہ
Al-Risala, April 2011, pp. 39–42
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید سائنس کی دریافتیں دراصل آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔
وہ خالق کی معرفت کا ایک نیا خزانہ کھولنے کے ہم معنی تھیں۔ لیکن جن مغربی علماء نے اس میدان میں کام کیا، وہ سب سیکولر ذہن کے لوگ تھے۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ یہ دریافتیں معرفتِ رب کے بجائے سیکولر نظریے کی حمایت بن کر رہ گئیں۔ حالاں کہ سائنس کا یہ سیکولرائزیشن (secularization) صرف ایک مغالطہ (fallacy) کی حیثیت رکھتا تھا۔
مثلاً ایک مغربی مفکر نے جدید سائنس کی دریافتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان دریافتوں سے معلوم ہوا کہ فطرت (nature) میں ایک قانونِ اسباب (law of causation) قائم ہے، یعنی ہر واقعہ اسباب وعلل کے نظام کے تحت واقع ہوتا ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نے لکھا ہے کہ۔ اگر واقعات فطری اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے: If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے، کیوں کہ فطرت کا قانون اپنے آپ میں تو توجیہہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس اعتبار سے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ۔ اگر واقعات قوانین سے کنٹرول ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کا ایک کنٹرول کرنے والا ہو: If events are controled by laws, then there must be a controller of laws. جرمن سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے فطرت کے نظام کا گہرا مطالعہ اس کو نظر آیا کہ فطرت کے نظام میں نہایت بامعنی ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اس طرح وہ گویا کہ معرفت کے دروازے تک پہنچ گیا، لیکن اس نے یہ کہہ دیا کہ ۔ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے:
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. یہ بلاشبہ ایک مغالطہ آمیز بیان ہے۔ آئن اسٹائن نے جب فطرت میں غیر معمولی معنویت
دیکھیے تو اس کو برعکس طور پر یہ کہنا چاہیے تھا کہ فطرت میں اتنی زیادہ معنویت پائی جاتی ہے کہ ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو:
Nature is so well-designed that it is inconceivable that there is no designer of it. جنت کا دور قرآن کی سورہ الکہف کی آخری چند آیتیں یہ ہیں: إن الذين امنوا وعملوا الصالحات كانت لهم جنات الفردوس نزلاً۔ خالدين فيها لا يبغون فيها حولاً۔ قل لو كان البحر مداداً لكلمات ربي، لنفد البحر قبل أن تنفد كلمات ربي، ولو جئنا بمثله مدداً (107-109: 18) یعنی بے شک جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے، تو سمندر ختم ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگر چہ ہم ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد کے لیے لے آئیں۔ قرآن کی ان آیات کے چار حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصہ (إن الذين امنوا وعملوا الصالحات) میں یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیقی منصوبہ کے مطابق، خدا کا مطلوب انسان کون ہے۔ انسان ہے جو خالق کو دریافت کرے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ اس کی پوری زندگی ہر اعتبار سے اس کے مطابق ڈھل جائے، وہ کامل معنوں میں ایک ربانی انسان بن جائے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت کی دنیا میں خدا کے سب سے بڑے انعام کا مستحق قرار پائے گا۔
آیت کا دوسرا حصہ یہ ہے: كانت لهم جنات الفردوس نزلاً۔ اس حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربانی انسان کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر قیام جنت کی دنیا میں یہ قیام مہمانی (hospitality) کے طور پر ہوگا، یعنی جنت میں ان ربانی انسانوں کا قیام سادہ طور پر صرف عیش کے لیے نہ ہوگا، بلکہ وہ مہمانی کے طور پر ہوگا۔ خدائی منصوبہ کے مطابق، اہل جنت مکمل طور پر ایک سرگرم زندگی گزاریں گے۔ یہ زندگی ان کے
لیے پوری طرح تعب اور مشقت سے خالی ہوگی۔ وہ اُن کے لیے شغلِ فا کہ (55:35) کے ہم معنی ہوگی، یعنی پر لطف سرگرمیوں (enjoyable activities) کی زندگی۔
اس جنتی زندگی کے بارے میں تیسری بات یہ فرمائی کہ: خالدين فيها، لا يبغون عنها یعنی اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود اہل جنت کبھی اکتاہٹ (boredom) کا شکار نہ ہوں وہ دوامی طور پر انتہائی معنوں میں ایک پر لطف مشغولیت کے ساتھ جنت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ یہ سرگرمیاں کبھی ختم نہ ہوں گی اور نہ کبھی ان کی دل چسپیوں کی حد آئے گی۔ اہل جنت کے لیے ایک ایسی مسرت ہوگی جو کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی۔
مذکورہ قرآنی بیان کا چوتھا حصہ یہ ہے: قل لو كان البحر مداداً لكلمات ربي، لنفد البحر قبل أن تنفد كلمات ربي، ولو جئنا بمثله مدداً۔ قرآن کے یہ الفاظ اہل جنت کی اُس اعلیٰ ترین سرگرمی کو بتاتے ہیں جس میں اہل جنت کامل لذت ومسرت کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ کلمات اللہ کی دریافت (discover) کرنا اور اس طرح اعلیٰ معرفت کے حصول کے لامناہی سفر میں مشغول رہنا۔
انسان کے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں، اس کو پورا فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہو۔ اس کو انسان کی زندگی کا مادی تقاضا کہہ سکتے یہ تمام تقاضے جنت میں انتہائی کامل اور آئیڈیل صورت میں پورے ہوں گے۔ قرآن میں اسی کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: ولكم فيها ما تشتهي أنفسكم، ولكم فيها ما تدعون (41:31) یعنی تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے، اور تمھارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو گے۔