ادخال کلمہ
Al-Risala, January 2011, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
ادخال کلمہ سے مراد وہ دعوتی عمل ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الاسلام، بعزّ عزيز وذلّ ذليل (مسند احمد، جلد 6، صفحہ (4) یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا گھر یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلت والے کی ذلت کے ساتھ (willingly or unwillingly)۔
پچھلی صدیوں میں خدا کا دین مستند متن (authentic text) کے اعتبار سے پوری طرح محفوظ اس کے بعد دنیا میں مذہبی آزادی کا دور اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ قائم ہو گیا۔ بعد اگلا کام یہ ہوا کہ دنیا میں جدید مواصلات (modern communication) کا زمانہ پوری طرح ان موافق اسباب کے ظہور کے بعد اب اکیسویں صدی میں آخری طور پر جو کام انجام پانا ہے، وہ یہ کہ ادخال کلمہ کی پیشین گوئی پوری ہو اور جدید مواصلاتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خدا کا کلام تمام دنیا کے مردوں اور عورتوں تک پہنچ جائے۔
تاریخ دعوت کے پہلے دور کا کام (اعلانِ حق) خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ دوسرے دور کا کام (اظہار دین) بنیادی طور پر اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا
تیسرے دور کا کام (تائید دین) اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو ہم سائنس دانوں کے گروہ (scientific community) کے نام سے جانتے ہیں۔ چوتھے دور کے کام (ادخال کلمہ) کو اکیسویں صدی عیسوی میں انجام پانا ہے۔ جو اہل ایمان تاریخ دعوت کے اِس تقاضے کو سمجھیں اور اِس کو درست طور پر انجام دیں، وہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، اللہ کے یہاں اخوانِ رسول کا درجہ پائیں گے۔ اِسی چوتھے کام کی انجام دہی پر تاریخ کا خاتمہ ہو جائے گا۔