جنت کی طلب
Al-Risala, May 2011, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما رأيت مثل الجنة نام طالبہا (الترمذي، كتاب الجنة)۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ جنت کا مستحق وہ شخص ہے جو حقیقی معنوں میں جنت کا طالب بن جائے۔ مگر انسان اتنا زیادہ غافل ہے کہ وہ جنت جیسی قیمتی چیز کا طالب نہیں بنتا اور غفلت کی نیند سوتا رہتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب ایک شخص جنت کی اہمیت کو دریافت کرلے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ وہ اس کا طالب بن جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آدمی دنیا کی ہر چیز میں جنت کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ ہر تجربہ اُس کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جاتا ہے، جس کے حوالے سے وہ جنت کو یاد کرے اور اللہ سے جنت کی دعا کرتا رہے۔ جنت کی دریافت سے آدمی جنت کا طالب بنتا ہے، اور جب ایک شخص حقیقی معنوں میں جنت کا طالب بن جائے تو وہ بار بار جنت کی دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے۔ مثال کے طور پر ایسا ایک طالب جنت، قرآن کو پڑھتے ہوئے سورہ النساء کی اس آیت تک پہنچتا ہے: وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج واٰتیتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا یعنی اگرتم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اُس پہلی بیوی کو بہت سامال دے چکے ہو، تو تم اُس مال میں سے کچھ بھی اُس سے واپس نہ لو۔
ایک طالب جنت جب اس آیت کو پڑھتا ہے تو اس کے اندر سوچ کا ایک طوفان جاگ اٹھتا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ اخلاق کا ایک اصول بتایا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرتا ہے۔ اس تعلق کے دوران وہ اس کو کافی مال دے دیتا ہے۔ اس کے بعد اُس کے دماغ میں کسی وجہ سے ایک سیکنڈ تھاٹ (second thought) آتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسری خاتون سے نکاح کرلے۔ مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر تم
ایسا نہ کرو کہ سابقہ بیوی سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے لو۔ جو مال تم اس کو دے چکے ہو، اُس کو واپس لینا، اعلیٰ اخلاقی اصول کے خلاف ہے۔
قرآن کی یہ آیت بظاہر طلاق کے بارے میں ہے، لیکن اس کے اندر ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) موجود ہے۔ اس کو لے کر ایک طالبِ جنت کے لیے اللہ سے دعا کرے ۔ وہ یہ کہے کہ ــــ خدایا، تو نے اپنی کتاب میں یہ اصول بتایا ہے کہ دی ہوئی چیز کو واپس لینا اسی طرح تو نے مجھے دنیا کی زندگی میں بے شمار چیزیں عطا کیں ۔ یہ چیزیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ کسی شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کو دئے ہوئے قنطار (treasure) سے ہزاروں بلین گنا سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔ پھر کیا تو میرے ساتھ ایسا کرے گا کہ تو مجھے اپنی رحمت کا قنطار دے اور موت کے بعد کے دورِ حیات میں تو مجھ سے تمام دی ہوئی چیزیں واپس لے لے اور مجھ کو محروم کر کے چھوڑ جس اعلیٰ اخلاقی اصول کی تعلیم تو نے انسان کو دی ہے، میں امید کرتا ہوں کہ تو مزید اضافے کے ساتھ یہی اعلیٰ اخلاقی معاملہ میرے بارے میں کرے گا۔
قرآن کی اس آیت میں طلاق کا ایک حکم بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں طلاق کا مادہ 15 بار آیا ہے، لیکن اس آیت میں استثنائی طورپر طلاق کے بجائے، استبدال (replacement) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظی فرق بے حد با معنی ہے۔ یہ ایک طالبِ جنت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ یہ سوچ سکے کہ استبدال زوج کی طرح میرا معاملہ بھی استبدالِ مقام کا معاملہ ہے، یعنی موت کے بعد موجودہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں جانا۔
اس مشابہت میں طالبِ جنت کے لیے ایک بشارت (good tiding) موجود ہے۔ سوچ سکتا ہے کہ استبدالِ زوج کا معاملہ میرے استبدالِ مقام کے معاملے پر بھی یکساں طور پر چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ یہاں ایک طالبِ جنت یہ امید کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا لفظی فرق اس لیے رکھا، تا کہ ایک طالبِ جنت اس میں اپنی تصویر دیکھے اور گہری امیدوں کے ساتھ وہ اللہ سے جنت کا طالب بن جائے۔