Al-Risala · May 2011

وضو اور قرآن

Al-Risala, May 2011, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ مسئلہ قرآن کی کسی آیت یا حدیث کی روایت سے ثابت نہیں۔ اس مسئلے کے حق میں کوئی بھی نص شرعی موجود نہیں۔ اس سلسلے میں جو حوالے دیے جاتے ہیں، وہ سب کے سب استنباط پر مبنی ہیں، نہ کہ کسی نص قطعی پر۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے وضو کی شرط لگانا، قرآن کے احترام میں غلو کی بنا پر ہے، اور دین میں غلو کا کوئی درجہ نہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لاغلو فی الإسلام۔ اس نقطۂ نظر کی تائید میں قرآن کی سورہ الواقعہ کی ایک آیت کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے: اِنَّہ لقرآن کریم ، فی کتاب مکنون، لا یمسّه اِلَّا المطهرون۔ تنزیل من ربّ العالمین (56: 77-80) یعنی یہ ایک با عزت قرآن ہے، ایک محفوظ کتاب میں۔ اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اتارا ہوا ہے پروردگارِ عالم کی طرف سے۔

قرآن کی اس آیت کا کوئی تعلق وضو کے مسئلے سے نہیں۔ اس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کی تنزیل کا عمل فرشتوں کے ذریعے ہوتا ہے، اور فرشتے ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو خدا نے پیدائشی طور پر طاہر بنایا ہے۔ اس آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ مُطَہَّر ہے، نہ کہ متوضأ، یعنی پاکیزہ نہ کہ مُطَہَّر کا لفظ قرآن میں دوسرے مقام پر ازواجِ جنت کے لیے آیا ہے (25: 2)۔ وہاں بھی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ ازواج ہمیشہ باوضو ہوں گی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اُن کو پیدائشی طور پر پاکیزہ اور طاہر بنایا ہوگا: ومطہرۃ للإشعار بأن الله طهر هن (التفسیر المظہری 1/40) قرآن کے الفاظ کے مطابق، قرآن کو وہ مخلوق چھوتی ہے جو خود اپنی تخلیق کے اعتبار سے پاکیزہ ہے، جس کو خالق نے پیدائشی طور پر پاک بنایا ہے، یہ مخلوق بلاشبہ فرشتے ہیں۔ وہ قرآن کو اللہ سے لیتے ہیں اور پیغمبر تک پہنچاتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ سے یہ نہیں نکلتا کہ قرآن کو اللہ سے لینے سے پہلے فرشتے وضو کر لیتے ہیں۔ فرشتے اپنی اصل تخلیق کے اعتبار ہی سے مکمل طور پر پاکیزه ہیں۔

اس سلسلے میں دوسرا استدلال اُس واقعے سے کیا جاتا ہے جو روایات میں حضرت عمر بن الخطاب کے اسلام کے بارے میں آیا ہے۔ یہ ایک لمبی روایت ہے۔ اس کا ایک جز یہ ہے کہ عمر بن الخطاب کو معلوم ہوا کہ ان کی بہن فاطمہ اور ان کے شوہر سعید بن زید نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ وقت تک عمر بن الخطاب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ عمر بن الخطاب اپنی بہن کے گھر گئے اور دونوں کو اتنا مارا کہ وہ خون آلود ہو گئے۔ خون کو دیکھ کر عمر بن الخطاب کے اندر ندامت پیدا ہوئی۔ نے اپنی بہن سے کہا کہ مجھے وہ قرآن دکھاؤ جو محمد پر اترا ہے۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فقالت فاطمة: يا أخي، إنك نجس على شركك، وإنه لا يمسه إلا المطهرون۔

فقام عمر فاغتسل، فأعطته الصحيفة (السيرة النبوية لابن كثير 2/35) یعنی فاطمہ نے کہا کہ اے میرے بھائی، تم اپنے شرک کی بنا پر نجس ہو، اور قرآن کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھوتے ہیں۔ چناں چہ عمر بن الخطاب اٹھے اور انھوں نے غسل کیا، پھر فاطمہ نے اُن کو صحیفہ (قرآن) دیا۔ اس روایت سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے۔ اس روایت سے اگر کوئی چیز نکلتی ہے تو وہ یہ کہ قرآن کو چھونے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔ حالت میں بیان کرنے والوں کو یہ مسئلہ بیان کرنا چاہیے کہ قرآن کو چھونے سے پہلے غسل کرو، غسل کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اس روایت کے مطابق، فاطمہ نے عمر بن الخطاب کے ہاتھ میں قرآن کا صحیفہ اُس وقت دیا جب کہ ابھی وہ شرک پر قائم ہونے کی بنا پر نجس تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شرک کا خاتمہ غسل سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ تو بہ اور کلمۂ شہادت کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس واقعے سے وضو کا مسئلہ نکالنا سر تا سر ایک غیر متعلق (irrelevant) بات کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب کا ایک اور واقعہ روایات میں اس طرح آیا ہے۔ عمر بن الخطاب ایک بار ایک جماعت کے ساتھ تھے جو کہ ایک صحیفہ کے ذریعہ قرآن کو پڑھ رہے تھے۔ اس درمیان عمر قضاء حاجت کے لیے گئے، پھر وہ واپس آئے اور انھوں نے دوبارہ قرآن کو پڑھنا شروع کیا۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ آپ قرآن پڑھ رہے ہیں، حالاں کہ آپ باوضو نہیں ہیں۔ عمر بن الخطاب نے کہا: مَــــــنْ

أفتاک هذا، أُمسيلمةُ الكذاب، یعنی کس نے تم کو یہ مسئلہ بتایا ہے، کیا مسیلمہ کذاب نے۔ طرح سے علی بن ابی طالب کے بارے میں روایت میں آیا ہے کہ وہ صحیفہ کو لے کر قرآن پڑھتے تھے، حالاں کہ وہ باوضو نہیں ہوتے تھے (موطأ امام مالك، شرح العلامة عبد الحي اللكنوى، كتاب الطهارة، باب الرجل يمس القرآن وهو جنب أو على غير وضو، 2/83)۔

حضرت عمر فاروق کا مذکورہ واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول کے زمانے میں اِس معاملے میں کیا مزاج پایا جاتا تھا۔ اٌس زمانے میں لوگوں کا سارا دھیان تمام تر قرآن کے معانی پر مرتکز ہوتا تھا، نہ کہ اس کے ظاہری مسائل پر۔ یہ مسئلہ کہ وضو کے بغیر قرآن چھونا جائز نہیں، یہ دراصل دور صحابہ کے بعد اُس زمانے میں پیدا ہوا جب کہ لوگ ظواہر کو اہمیت دینے لگے اور معنویت کا پہلو پس پشت چلا گیا۔ کے زمانے میں یہ معاملہ صرف قرآن کے ساتھ پیش نہیں آیا، بلکہ دین کے تمام معاملات میں ایسا ہی لوگ معنوی پہلوؤں پر زور دینے کے بجائے ظاہری مسائل پر زیادہ زور دینے لگے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو انتقالِ تاکید (shift of emphasis) کہا جاتا ہے۔ وضو کے بغیر قرآن نہ چھونے کا مسئلہ اِسی بعد کے دور کا ایک ظاہر ہ ہے، وہ قرآن اور حدیث کے نصوص سے ماخوذ مسئلہ نہیں۔ کشمیر میں موجود بے شمار دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو لوگ اِس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ حسبِ ذیل پتے پر رابطہ کریں: Executive Director “KIIPS”

الرسالہ کے تقریباً تمام شمارے MP3 Format میں، نیز الرسالہ اور الرسالہ مطبوعات درج ذیل پتے سے حاصل کی جاسکتی ہیں:

N0. 9/A, 2nd Cross, Model Colony, Yeshwanthapur Banglore-460022, Ph.: 23376184 Mob.: 9342899616

Printed page