Al-Risala · January 2011

تعارف قرآن

Al-Risala, January 2011, pp. 21–29

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن، خدا کی کتاب ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں خدا کی طرف سے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پر عربی زبان میں اترا۔ قرآن اپنی اصل عربی زبان میں اب تک محفوظ قرآن، پورے معنوں میں، ایک محفوظ خدائی کتاب ہے۔ قرآن کے متن(text) میں نہ کوئی کمی ہوئی ہے اور نہ کوئی اضافہ۔

قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ اِس میں انسان کا خالق براہِ راست انسان سے خطاب کرتا ہے۔ قرآن کا پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ اِس کا خالق براہِ راست طور پر اس سے ہم کلام ہو کر کہہ رہا ہے کہ ــــ اے انسان، یہ تیرا خدا ہے جو تیری قابل فہم زبان میں تجھ کو خطاب کر رہا ہے۔ تو اس کلام کوسن اور اس کی اتباع کر۔ اس اتباع میں تیری نجات ہے۔ اس اتباع کے ذریعے تو اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔

قرآن میں چھوٹی، بڑی 114 سورتیں ہیں۔ اُس کی آیتوں کی تعداد مجموعی طور پر 6236 قرآن کی ہر سورہ کے شروع میں (به استثناء سورہ التوبہ) یہ جملہ ہوتا ہے : بسم الله الرحمن الرحيم (شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم والا ہے)۔ اس طرح، قرآن کی ہر سورہ اور مجموعی طور پر پورا قرآن یہ بتاتا ہے کہ قرآن ، خدا کی صفت رحمت کا اظہار ہے۔ قرآن کا نزولِ رحمت الہی کا تاہم یہ رحمت بارش کی طرح نہیں ہے کہ اُس کا فائدہ اپنے آپ ہر عورت اور مرد کو مل قرآن کا فائدہ صرف اُس انسان کو ملے گا جو کامل سنجیدگی کے ساتھ اِس پر غور کرے ، جو طالب بن کر اُس میں اپنے لیے ہدایت تلاش کرے۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں اترا۔ اُس وقت کا غذ وجود میں آچکا تھا۔ بعض مخصوص درختوں کے ریشے سے لے کر دستی صنعت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ اُس کو پپائرس (Papyrus) کہا جاتا ہے۔ قرآن کا کوئی حصہ جب بھی اُترا تو اُس کو اس کا غذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔

اس غذ کو عربی زبان میں قرطاس 7)کہاجاتا ہے۔ اسی کے ساتھ لوگ قرآن کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتے تھے۔ کیوں کہ اُس وقت قرآن ہی واحد اسلامی لٹریچر رہا۔ قرآن کو نمازوں میں پڑھا جاتا تھا اور دعوہ ورک کے تحت اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اِس طرح قرآن ایک بیک وقت لکھا بھی جاتا تھا اور اسی کے ساتھ اس کو یاد بھی کیا جاتا رہا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے تک قرآن کو محفوظ کرنے کا یہی طریقہ جاری آپ کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی، اس کے بعد ابو بکر صدیق اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ انھوں نے باقاعدہ اہتمام کے تحت، قرآن کا ایک مجلد نسخہ بنایا۔ یہ نسخہ قدیم زمانے کے کاغذ یا قرطاس پر بنایا گیا تھا۔ یہ مجلد قرآن چو کور صورت میں تھا۔ چناں چہ اس کو ربعہ (square) کہا جاتا اِس طرح قرآن، خلیفہ اول کے زمانے میں مجلد کتاب کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانے میں اس مجلد قرآن کے مزید نسخے تیار کیے گیے اور اس کو مختلف شہروں میں بھیج دیا گیا۔ یہ نسخے شہر کی جامع مسجدوں میں موجود رہتے تھے۔ لوگ اُن کو پڑھتے بھی تھے اور اُن سے مزید نسخے تیار کرتے تھے۔

کتابت قرآن کا یہ سلسلہ انیسویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور ساتھ ہی کا کاغذ بھی جدید صنعتی طریقے پر بڑی تعداد میں تیار کیا جانے لگا۔ طرح انیسویں صدی میں قرآن کو باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کے ذریعے چھاپنے کا آغاز ہو گیا۔ چھپائی کے طریقوں میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ اسی کے ساتھ قرآن کے مطبوعہ نسخے بھی زیادہ بہتر طور پر تیار ہونے لگے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے اتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں کہ وہ ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر لائبریری میں اور ہر مارکیٹ میں اس طرح وافر مقدار میں موجود ہیں کہ ہر انسان قرآن کے چھپے ہوئے خوب صورت نسخے حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ کُرۂ ارض کے کسی بھی مقام پر ہو۔ آج قرآن کا ایک مطبوعہ نسخہ اُسی نسخہ (ربعہ) کی عین نقل (true copy) ہوتا ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانے میں خلیفہ اول ابو بکر صدیق نے خصوصی اہتمام کے ذریعے تیار کرایا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی تنبیہ کی ایک کتاب ہے۔ وہ اسباق اور نصیحت کا ایک مجموعہ ہے، عام طرزِ تصنیف کے مطابق تیار نہیں ہوا۔ زیادہ صحیح طور پر قرآن ایک بک آف وزڈم قرآن کا مقصود یہ ہے کہ قرآن کو پڑھنے والا اگر قرآن کا صرف ایک صفحہ پڑھے، یا وہ اُس کا صرف ایک جملہ سنے تب بھی اُس کو اُس میں ایک مسیج مل جائے۔

قرآن ایک اعتبار سے، مُنعم کی طرف سے انعام کی یاد دہانی ہے۔ خدا نے انسان کو استثنائی اوصاف کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اُس کو زمین جیسے سیارے پر بسایا، جہاں انسان کے لیے ہر قسم کا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ انسان، فطرت کے ان انعامات سے استفادہ کرتے ہوئے مُنعم کو یاد رکھے۔ وہ انعامات کے خالق کا اعتراف کرے۔ انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کا اعتراف کرنا اور اُس کے تقاضے پورے کرنا، یہی ابدی جنت کا سرٹیفکٹ ہے۔ اور انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کو فراموش کر دینا، آدمی کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ قرآن در اصل اسی سب سے بڑی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔

قرآن کا اسلوبِ بیان بھی ایک منفرد اسلوب بیان ہے۔ قرآن کے اسلوبِ کلام کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اُس کا اسلوب ایک شاہانہ اسلوب ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کا مصنف ایک ایسے برتر مقام پر ہے جہاں سے وہ ساری انسانیت کو دیکھ رہا ہے۔ انسانیت اُس کا کَنسرن ہے۔ وہ اپنے مقامِ عظمت سے پوری انسانیت کو خطاب کر رہا ہے۔ خطاب کے دوران اُس کا رخ کبھی ایک گروہ کی طرف مڑ جاتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کی طرف۔ قرآن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اُس کا قاری کسی بھی لمحہ اُس کے مصنف سے کنسلٹ کر سکتا ہے۔ قرآن کا مصنف خدا ہے۔ وہ ایک زندہ خدا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ براہِ راست طور پر ہر انسان کی بات کو سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے۔ اس لیے قرآن کے قاری کے لیے ہر لمحہ یہ ممکن ہے کہ وہ خدا سے ربط قائم کر سکے۔ وہ خدا سے پوچھے اور خدا سے اپنے سوال کا جواب پالے۔ قرآن خالقِ کائنات کا تعارف ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کائنات کو

وہی اُس کو مسلسل طور پر سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ انسان کا ماضی، حال اور مستقبل تنہا اُسی کے قبضے میں ہے۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ابدی ہے۔ اس کے قبضے‘ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔

خالق کے تعارف کے بعد قرآن میں خصوصی طور پر جو چیز بتائی گئی ہے، وہ خدا کی تخلیق کے بارے میں ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے انسان کو باخبر کرے۔ قرآن، آدمی کو وہ چیز بتاتا ہے جس کو وہ اپنی کوشش سے نہیں جان سکتا تھا۔ آدمی کے ان بنیادی سوالات کا جواب دیتا ہے کہ ــــ میں کون ہوں، میری پیدائش کا مقصد کیا ہے، اس دنیا سے میرے تعلق کی نوعیت کیا ہے جہاں میں اپنے آپ کو پاتا ہوں، زندگی کیا ہے، اور موت کیا۔ سے پہلے مجھے کیا کرنا ہے، اور موت کے بعد میرے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ وہ کیا روش ہے جو مجھ کو نا کام بناتی ہے، اور وہ کیا روش ہے جو مجھ کو کامیابی عطا کرتی ہے۔ ان سوالات کا تعلق خدا کے تخلیقی پلان سے ہے، اور قرآن کا مقصد یہی ہے کہ وہ انسان کو خدا کے اس تخلیقی پلان سے آگاہ کرے۔ اس اعتبار سے، پیغمبر کا تعلق براہ راست طور پر قرآن سے جُڑا ہوا ہے۔ پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب کو پوری امانت کے ساتھ انسان تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی رہ نمائی میں لوگوں کے درمیان اپنی پوری زندگی اس طرح گزارتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قرآن کا ایک عملی مظاہرہ (demonstration) بن جاتا ہے۔ قرآن اگر آئیڈیالوجی کی کتاب ہے تو پیغمبر اس آئیڈیالوجی کی ایک عملی تصویر ہے۔ قرآن کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی قرآن کو پڑھنے کے ساتھ، پیغمبر کے کلام اور پیغمبر کی زندگی کا مطالعہ کرے ۔

قرآن کے بیان کے مطابق، انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ مگر انسان کی زندگی کو دو مختلف دوروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ــــ موت سے پہلے کا دور اور موت کے بعد کا دور ــــ موت کے پہلے کا دور عمل کا دور ہے، اور موت کے بعد کا دور اپنے عمل کا انجام پانے کا دور۔

موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد پاتا ہے۔ مگر یہ آزادی برائے انعام

نہیں ہے، بلکہ وہ برائے امتحان ہے۔ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں انسان کو آزادی دے کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اپنی آزادی کو صحیح طور پر استعمال کرنا، گویا خود سے اپنے آپ کو خدائی ڈسپلن میں رکھنا ہے۔ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے، اور جو لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں، وہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ راحتوں کی جگہ ہے، اور جہنم، ابدی مصیبتوں کی جگہ۔

موجودہ دنیا انسان کے لیے ایک بے حد موافق دنیا ہے، یہاں کامل طور پر اُس چیز کا انتظام کیا گیا ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق، یہ دنیا ہمیشہ اسی طرح رہنے قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ دنیا کے خالق نے جس طرح ہر عورت اور مرد کی ایک عمر مقرر کر دی ہے، اسی طرح اس دنیا کی بھی ایک مقرر عمر ہے۔ یہ سیارۂ زمین اور یہ شمسی نظام ہمیشہ اسی طرح رہنے والے نہیں۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ خدائی عمل کے مطابق، جب مقرر مدت پوری ہوگی تو اس دنیا کو اور اس کے پورے نظام کو توڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد، خدا اپنی قدرت سے ایک اور دنیا بنائے گا۔ یہ دوسری دنیا ایک کامل اور ابدی دنیا ہوگی۔ اس دوسری دنیا کے قوانین موجودہ دنیا سے مختلف ہوں گے۔

موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی ملی ہوئی ہے، لیکن اگلی دنیا براہِ راست خدا کے کنٹرول میں اس دوسری دنیا میں خدا عدل (justice) کو مکمل طور پر قائم کرے گا۔ اس دوسری دنیا میں وہ تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیںگی جو موجودہ دنیا میں مصلحتِ امتحان کی بنا پر چھپی ہوئی تھیں۔ جو لوگ قرآن کے ذریعے سچائی کو دریافت کریں، اُن کو قرآن عمل کا دو نکاتی پروگرام دیتا ہے— اپنی زندگی میں خدا کی ہدایت کی کامل پیروی، اور دوسرے انسانوں کو اس معلوم خدائی ہدایت سے باخبر کرنا۔ خدائی ہدایت کی پیروی کا آغاز معرفت یا خدائی حقیقت کی دریافت سے ہوتا ہے۔ جب قرآن کے ذریعے سچائی کو دریافت کرتا ہے تو اُس کے اندر ایک ذہنی انقلاب برپا ہوتا ہے۔

سوچ بدل جاتی ہے۔ اس کے چاہنے اور نہ چاہنے کا معیار تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی اندر سے باہر تک ایک نئے ربانی نقشے میں ڈھل جاتی ہے۔

معرفتِ خداوندی کا یہ اظہار جن صورتوں میں ہوتا ہے، اُس کو ذکر اور عبادت اور اخلاق حسنہ اور متقیانہ زندگی جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سچائی کی دریافت کوئی میکانیکل دریافت نہیں ہے، سچائی کی دریافت حقیقتِ حیات کی دریافت ہے۔ اور جس انسان کو زندگی کی حقیقت معلوم ہو جائے، وہ خود اپنی فطرت کے زور پر ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت کسی انسان کے لیے ایک جنم کے بعد دوسرا جنم لینا ہے۔ یہ نیا جنم ایک ایسے نمو پذیر درخت کے مانند ہے جو ہمیشہ بڑھتا رہے، جس کی ترقی کا سفر کبھی ختم نہ ہو۔

قرآن کے ذریعے جو لوگ سچائی کو دریافت کریں، ان کے عملی پروگرام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی خدائی سچائی سے دوسروں کو باخبر کرنا۔ یہ دعوتی عمل ایک بے حد سنجیدہ عمل ہے۔ وہ کامل ڈیڈی کیشن کا طالب ہے۔ اسی پہلو سے اس کو جہاد بھی کہا گیا ہے۔ مومنین قرآن کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ: وجاهدهم به جهاداً كبيرا (25: 52) یعنی قرآن کے ذریعے تم دوسروں سے جہادِ کبیر کرو۔

قرآن کے مطابق، جہاد کامل طور پر ایک غیر سیاسی عمل ہے۔ جہاد ایک ایسا عمل ہے جو شروع سے آخر تک کامل طور پر پر امن طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔ دعوتی جہاد کا نشانہ انسان کے دل کو اور اس کے دماغ کو بدلنا ہے۔ اور دل ودماغ میں تبدیلی صرف پر امن تبلیغ کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کسی قسم کے جبر یا تشدد کے ذریعے۔

قرآن کی کچھ آیتوں میں قتال (جنگ) کا حکم بھی آیا ہے۔ تاہم قرآن کے مطابق، جنگ کی صرف ایک ہی جائز صورت ہے اور وہ دفاع کی صورت ہے۔ دفاع (defence) کے سوا، کسی بھی دوسرے سبب کی بنا پر جنگ کرنا جائز نہیں۔ قرآن کے مطابق، زندگی میں امن کی حیثیت ایک عموم (rule) کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف ایک نادر استثنا (rare exception) کی۔

قرآن میں جنگ سے متعلق کچھ آیتیں ہیں جو پورے قرآن کے مقابلے میں اُس کا ایک فی صد سے بھی کم حصہ ہیں۔ یہ آیتیں قرآن کے ابدی حکم کو نہیں بتاتیں، بلکہ وہ صرف ایک وقتی تدبیر کو بتاتی ہیں۔ یہ آیتیں اُس وقت اتریں، جب کہ مومنین اور غیر مومنین کے درمیان حالتِ جنگ (state of war) قائم ہو گئی تھی۔ یہ حالتِ جنگ مخالف گروہ کی طرف سے مسلح حملے کی بنا پر قائم ہوئی تھی۔ پیغمبر اسلام نے ہمیشہ ان حملوں کے مقابلے میں کسی نہ کسی تدبیر سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح وہ ہمیشہ ان حملوں کوٹالتے رہے۔ صرف چند بارایساہواکہ اعراض کی ہرکوشش ناکام ہوگئی اور مجبورانہ طور پرجنگ کے میدان میں مقابلے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔

خدا نے انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی عطا کی ہے۔ یہی آزادی انسانی سماج میں مختلف قسم کے مسئلے پیدا کرتی ہے۔ لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کوئی اشتعال انگیز بات کرتا ہے جس سے دوسروں کو غصہ آجاتا ہے۔ کسی سے دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے، اس کے نتیجے میں دوسرے شخص کے اندر انتقام کا جذبہ جاگتا ہے۔ کوئی شخص کسی ذاتی سبب سے دوسرے سے نفرت کرتا اس بنا پر دوسرا شخص بھی اُس سے جوابی نفرت کرنے لگتا ہے۔ یہ منفی تجربات کبھی اتنا زیادہ شدید ہوجاتے ہیں کہ ایک شخص یا دوسرے شخص کے درمیان، یا ایک گروہ یا دوسرے گروہ کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایساہرانسانی سماج میں ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے ۔

اس صورتِ حال کے بارے میں قرآن واضح طور پر یہ ہدایت دیتا ہے کہ لوگ ردِّعمل کا شکار نہ وہ منفی رویّے کا جواب منفی رویّے سے نہ دیں، بلکہ وہ اس کا جواب مثبت انداز میں دیں۔ مثبت جواب کو قرآن میں صبر اور اعراض کہا گیا ہے۔

مثلاً قرآن میں مومنین قرآن کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب اُنھیں کسی کے اوپر غصہ آتا ہے تو وہ اس کو معاف کردیتے ہیں (37:42) ۔ قرآن کی اس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں ایک انسان کو دوسرے انسان سے جو تکلیف پہنچتی ہے، وہ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق ہے۔ خدا نے انسان کو

آزادی دی ہے، اس لیے اُس کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے دوسرے شخص کو یہ صورتِ حال خدا کی قائم کردہ ہے، اس لیے وہ قیامت سے پہلے ختم ہونے والی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس صورتِ حال کو فطری صورتِ حال سمجھے اور ردِ عمل کا اظہار نہ کرے، بلکہ وہ اس کو اوائڈ کرتے ہوئے اپنی مطلوب زندگی گزارے۔ اس صورتِ حال کو بدلنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں، اس لیے اس دنیا میں انسان کے لیے اعراض (avoidance) کے سوا کوئی اور چوائس بھی نہیں۔ اس سماجی صورتِ حال کی آخری صورت وہ ہے جس کو دشمنی کہا جاتا ہے۔ دشمنی کی صورتِ حال کے مقابلے کے لیے بھی قرآن اسی مثبت رویے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ’’اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا‘‘ (34: 41) قرآن کی اس آیت کے مطابق، دشمنی کوئی ابدی چیز نہیں۔ ہر دشمن آپ کا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اس لیے مومنینِ قرآن کو چاہیے کہ وہ اس امکان کو واقعہ بنائیں، وہ اپنے حسنِ عمل سے، دشمن کو دوستی میں تبدیل کر دیں۔ سماج کا ایک ظاہرہ یہ بھی ہے کہ اُس کے اندر ہمیشہ مختلف افکار و نظریات کے لوگ رہتے ہیں، ایسے لوگ جن کا کلچر اور مذہب ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایسے سماج میں پر امن طور پر رہنے کا فارمولا کیا ہے۔ ایسے سماج کے لیے پرامن فارمولا قرآن میں اس طرح دیا گیا ہے — تمھارے لیے تمھارا دین ہے، اور میرے لیے میرا دین (6: 109)۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، کثیر مذہبی سماج (multi-religious society) میں پُر امن طور پر رہنے کا فارمولا یہ ہے کہ — ایک کو اپناؤ اور دوسرے کا احترام کرو: Follow one, and respect all. قرآن کا مطلوب انسان ربانی انسان (79: 3) ہے، یعنی وہ انسان جو اس دنیا میں رب والا جو خدا رخی زندگی گزارے۔ ربانی انسان بننے کے اسی پر اس کو قرآن میں تزکیہ (2: 129) کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، جنت اُنھیں افراد کے لیے ہے جو اس دنیا میں

اپنا تزکیہ کریں، جو مزکّیٰ انسان بن کر اگلی دنیا میں داخل ہوں (76:20)۔ تزکیہ کے معنی ہیں۔ تطهیر (purification)، یعنی اپنی شخصیت کو نامطلوب چیزوں سے پاک شخصیت کو پاک کرنے کا یہ عمل ایک مسلسل عمل رہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک مومنِ قرآن کے اندر یہ عمل اس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پیدائشی طور پر ہر انسان مسٹر نیچر ہوتا ہے، مگر دنیا کی زندگی میں روزانہ ایسے تجربات ہوتے ہیں جو اس کی فطری شخصیت کے اوپر منفی دھبے ڈالتے رہتے ہیں، غصہ اور نفرت اور حسد اور لالچ اور تعصب اور کبر اور بے اعترافی اور انتقام، یہ سب یہی منفی دھبے ہیں، جو انسان کی فطری شخصیت کو آلودہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ بے لاگ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنا تزکیہ کرتا رہے۔ شخصیت کو فطری شخصیت بناتا ہے۔ ہر آدمی کا ماحول اُس کو ایک کنڈیشنڈ (conditioned) انسان بنا اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے دوبارہ اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنائے۔ اس مسٹر نیچر کا قرآنی نام ربانی انسان ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جو موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کریں اس تزکیہ کے بغیر کوئی عورت یا مرد جنت میں داخل ہونے والے نہیں۔

Printed page