Al-Risala · May 2011

No criticism leads to intellectual stagnation.

Al-Risala, May 2011, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

تنقید انسانوں کی پہچان کی ایک کسوٹی ہے۔ اگر آپ کسی بڑی شخصیت پر تنقید کریں اور اس کو سن کر لوگ غصہ ہو جائیں تو وہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔ اور اگر آپ کی تنقید کو سن کر لوگ دلیل کی زبان میں اس کا تجزیہ (analysis) کریں تو وہ اصول پسند لوگ ہیں۔

صحت مند تنقید (healthy criticism) کا یہ فائدہ ہے کہ زیر بحث معاملے کے مختلف گوشے واضح ہوتے ہیں۔ لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ وسیع ذہن کے ساتھ کسی معاملے پر غور کر سکیں ۔ جب دو آدمی کھلے ذہن کے ساتھ آپس میں آزادانہ تبادلۂ خیال کرتے ہیں تو نئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ معاملے کے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں۔ اس طرح طرفین کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ منقح انداز میں بات کو سمجھ سکیں۔

غیر تنقیدی ماحول گویا کہ مقلدانہ ماحول ہے۔ ایسے ماحول میں فطری طور پر ایسا ہوگا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا، ان کی سوچ محدود ہو کر رہ جائے گی، ان کے ذہنی افق میں وسعت پیدا نہ ہو سکے گی، وہ نئی حقیقتوں سے بے خبر ہو کر رہیں گے، وہ ترقی کے زیادہ اعلیٰ درجات طے کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ تنقید ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے، اور تنقید کو شجر ممنوعہ قرار دینا ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا ذریعہ۔

Printed page