Al-Risala · May 2011

اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے

Al-Risala, May 2011, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ذہین اور تعلیم یافتہ نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ اُن کو دوسروں سے شکایت تھی کہ وہ اُن کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں غلطی آپ کی ہے، دوسروں کی غلطی نہیں۔ اپنے کو اپنے پوٹینشل (potential) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ کو آپ کے ایکچول (actual) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے، یعنی اپنے امکان کو واقعہ کی صورت دے دیجئے ۔ اس کے بعد آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ یہی اکثر باصلاحیت لوگوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ وہ غیر ضروری طور پر دوسرے لوگوں کی شکایت کرنے لگتے ہیں ۔ وہ فرض کر لیتے ہیں کہ دوسروں کے اندر اعتراف کا مادہ نہیں، مگر اس طرح کے تمام معاملات میں اصل غلطی شکایت کرنے والے کی ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں اپنے امکان کو واقعہ بنانے سے ایک دن پہلے بھی لوگ کسی کا اعتراف نہیں کرتے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اپنی امکانی صلاحیت کے اعتبار سے تسلیم نہیں کیا جاتا، دنیا اس کو صرف اُس وقت تسلیم کرتی ہے جب کہ اس نے اپنی امکانی صلاحیت کو مسلسل جدوجہد کے ذریعے ایک کھلا واقعہ بنا دیا ہو۔ لوگ عام طور پر ظاہر بیںہوتے ہیں ۔ وہ امکان کو دیکھ کر رائے قائم نہیں کرتے، بلکہ وہ صرف واقعہ کو دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی شکایت نہ کرے، بلکہ وہ قانونِ فطرت (law of nature) کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کرے کہ اپنی ساری طاقت اپنے امکان کو واقعہ بنانے میں لگا دے۔ جس دن ایسا ہوگا، اُس دن لوگ کسی اعلان یا مطالبہ کے بغیر آپ کا اعتراف کر لیں گے۔

آدمی کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دوسروں کو بدل نہیں سکتا۔ اِس کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو بدل کر ، دوسروں کو بدل جانے پر مجبور کر دے ۔ یہی فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کسی کے لیے کوئی استثنا (exception) نہیں۔

میں سی پی ایس کے دعوتی مشن سے وابستہ ہوں ۔ میں غیرمسلموں کو قرآن کا ترجمہ (ہندی، انگریزی) مطالعے کے لیے دیتا ہوں ۔ اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، غیرمسلم کے لیے قرآن کا چھونا ہی جائز نہیں۔ میں اس سلسلے میں علماء کا مسلک جاننا چاہتا ہوں (خرم قریشی، نئی دہلی)۔

ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (وفات: 62 ہجری) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف (قرآن) کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے، اور وہ ان کے لیے مصحف لکھ دیتا تھا (إنــه كان إذا أراد أن يتخذ مصحفاً أمر نصرانياً فنسخه (المحلی لابن حزم، جلد 1، صفحه (84) اسی طرح بیان میں کہا گیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے لیے حیرہ کے ایک نصرانی نے ایک مصحف 70 درہم میں لکھا تھا (أن عبد الرحمن بن أبى ليلى كتب له نصراني من اهل الحيرة مصحفاً بسبعين درهماً، مصنف عبد الرزاق، باب بيع المصحف، جلد 8، صفحه 144) ۔ پانچویں صدی ہجری کے مشہور عالم ابن حزم الاندلسی (وفات : 656 ہجری) کسی قید اور شرط کے بغیر علی الاطلاق مس قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں۔

جو لوگ مس قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں، ان کے استدلال کی ایک بنیاد یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہنشاہ ہرقُل کے نام جو مکتوب روانہ کیا تھا، اس میں قرآن کی آیت بھی درج تھی ۔ رسول اللہ کا یہ مکتوب صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی میں مکمل طور پر نقل ہوا ہے ۔ ہندوستان کے مشہور عالم مفتی کفایت اللہ صاحب نے غیرمسلم کو ترجمہ قرآن دینا جائز بتایا وہ اپنی کتاب کفایت المفتی میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ مسلمانوں کے حق میں قرآن کا حکم رکھتا ہے، اور اسے غیر مسلموں کو تبلیغ کے لیے دینا جائز ہے۔

Printed page