Al-Risala · May 2011

سوال و جواب

Al-Risala, May 2011, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اردو پرچے میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت نگاہ سے گزرا ــــ دعوائے مہدویت اور مولانا وحید الدین خاں ۔ اسی طرح ایک صاحب نے آپ کے بارے میں کہا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرنے براہ کرم ، ان دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں (سید اقبال احمد عمری، تمل ناڈو) (1) مذکورہ مضمون میرے بارے میں ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ میں نے ہر گز اپنے بارے میں مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ میں نے جو کچھ کیا ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ مہدی کے ظہور کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں ، اپنے فہم کے مطابق ، ان کی توجیہہہہ کی ہے۔ یہ لوگ غالباً اپنے غیر علمی ذہن کی بنا پر توجیہ (explanation) اور دعویٰ (claim) کا فرق نہیں سمجھتے ، حالاں کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ظہور مہدی کے معاملے کی علمی توجیہ کرنے کا حق بلاشبہ اہل علم کو حاصل ہے، لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس سلسلے میں کوئی دعویٰ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی غیر سنجیدہ انسان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ ــــ میں مہدی ہوں ، سنجیدہ انسان کبھی ایسے الفاظ بول نہیں سکتا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مہدی کا رول ایک خدائی رول ہے۔ کوئی شخص خدا کی خصوصی توفیق کے ذریعے ہی مہدی کا رول ادا کرے گا۔ ایسی حالت میں مہدی کا دعویٰ کرنا، خدا کے ڈومین (domain) میں داخل ہونا ہے۔

ایک پیغمبر کو حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ ــــ أنا النبی لا کذب (میں نبی ہوں ، اس میں کوئی جھوٹ نہیں) کیوں کہ اس کو خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے براہ راست یہ بتایا جاتا ہے کہ تم پیغمبر ہو، لیکن مہدی کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ کوئی شخص خدا کی خصوصی توفیق سے ، اگر مہدی کا رول ادا کرے ، تب بھی اس کے پاس خدا کا فرشتہ یہ بتانے کے لیے نہیں آئے گا کہ تم مہدی ہو۔ ایسی حالت میں کسی انسان کو سرے سے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے بارے میں مہدی ہونے کا دعویٰ کرے ۔ ایسا دعویٰ کرنے والا اپنے خود ساختہ دعوے کی بنا پر خدا کے یہاں اپنے معاملے کو مشتبہ کرلے گا۔ یہ ایسا ہی ہے ، جیسے کوئی شخص

اپنے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ میں جنتی ہوں ۔ ایسا دعویٰ کرنے والا صرف اپنی جنت کو خدا کی نظر میں مشتبہ قرار دے رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کا جنتی یا مہدی ہونا براہ راست خدا کے فیصلے کا معاملہ ہے ، وہ ہرگز انسان کے فیصلے کا معاملہ نہیں ۔ مہدی کے معاملے میں کسی شخص کو صرف توجیہہ و تشریح کا حق حاصل ہے ، اس معاملے میں اُس کو ہرگز دعوے کا حق حاصل نہیں ۔ مہدی کا دعویٰ کرنا صرف اپنے آپ کو غیر مہدی ثابت کرنا ہے ، وہ ہرگز کسی کے مہدی ہونے کا ثبوت نہیں ۔

(2) جو لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں ، وہ بلاشبہ غیر سنجیدہ لوگ ہیں ۔ سنجیدہ ہوتے تو میری تحریروں میں وہ مجھ کو پہچان چکے ہوتے ۔ اس قسم کی باتیں بتاتی ہیں کہ انھوں نے میری تحریروں سے مجھ کو نہیں پہچانا ۔

میرا اپنا ذاتی احساس اس کے بالکل برعکس ہے ۔ میں اپنے عجز اور بے مائیگی کو سوچتے ہوئے تنہائی میں ، اکثر بے اختیار رونے لگتا ہوں ۔ میں سوچتا ہوں کہ میرے بارے میں اگر آخرت میں یہ کہہ دیا جائے کہ تم نے جو کام کیا ، وہ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ تم نے کچھ نئی دینی باتیں دریافت کیں ، جو کہ متن (text) میں لفظی طور پر موجود نہ تھیں ۔ اسی طرح اگر قیامت میں خدا یہ کہہ دے کہ تمھاری ان باتوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ، کیوں کہ میری عظمت و کبریائی اس کے بغیر ہی قائم ہے ۔ فرشتے اگر کہہ دیں کہ ہم تو ابد سے خدا کی تسبیح و تحمید میں لگے ہوئے ہیں ، جب کہ تم پیدا بھی نہیں ہوئے اسی طرح پیغمبر اگر یہ کہہ دیں کہ ہم نے پوری تاریخ میں خدائی سچائی کا اعلان کیا ، جب کہ تمھاری کتابیں وجود میں نہیں آئی تھیں ۔ اسی طرح اصحاب رسول اگر یہ کہہ دیں کہ ہم کو اللہ کی توفیق سے ، اصحاب رسول کا درجہ ملا ، جب کہ ہم نے کبھی تمھارا لٹریچر پڑھا نہیں تھا ۔ اسی طرح اگر ملائکۂ جنت یہ کہہ دیں کہ ہماری فہرست میں جن اہل جنت کا ذکر ہے ، اُن میں تمھارے جیسے کسی شخص کا نام درج نہیں ، قیامت میں اگر ایسا ہو تو میرا کیا حال ہوگا ۔

مولا ناساحب ، میں نے آپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم

کیا کریں، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشری عامر، پاکستان)

پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک منفی ملک کے طور پر وجود میں آیا۔ جس چیز کو پاکستان کے لوگ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کہتے ہیں، وہ کیا ہے۔ وہ دراصل اینٹی ہندو سوچ (anti-Hindu thinking) کا ایک خوب صورت نام ہے، اور اینٹی ہندو سوچ کا مطلب ہے— اینٹی مدعوسوچ، جو بلاشبہہ اسلام میں پاکستان اولاً اینٹی ہندو فکر کے تحت بنا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ فکر اینٹی آل فکر (anti-all thinking) بن گیا۔ پاکستان کے تمام مسائل دراصل اسی منفی سوچ (negative thinking) کا نتیجہ ہیں۔

میرے اندازے کے مطابق، اب یہ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ پاکستان میں منفی سوچ کا خاتمہ تقريباً ناممکن ہے۔ مجھے امید نہیں کہ اب پاکستان منفی سوچ سے مثبت سوچ کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب پاکستان میں مثبت بنیادوں پر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں۔ اب صرف ایک ہی چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ افراد اپنے آپ کو اس منفی طوفان سے بچائیں۔ سب سے پہلے آپ خود یہ کیجئے کہ آپ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں، اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتے وار اجتماع کی شکل میں اُن کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند (realist) بنیں، رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ فکر اقبال اور فکر مودودی کے خول سے مکمل طور پر باہر آ جائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔

Printed page