معرفت کیا ہے
Al-Risala, June 2011, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کے لفظی معنی پہچاتنے کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں ،معرفت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کو پہچانے۔ وہ اپنے شعور کو اس طرح بیدار کرے کہ اس کو خالق اور مخلوق اور عبد اور معبود کے درمیان تعلق کی گہری پہچان ہو جائے۔ معرفت شعوری دریافت کا نام ہے، وہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں۔ معروف لغوی اور مفسر راغب الاصفهانی (وفات: 1108ء) نے لکھا ہے: المعرفة والعرفان إدراك الشيء بتفكر وتدبر لأثره، ومعرفة البشر لله هي بتدبر اثاره دون إدراك ذاته (المفر دات فى غريب القرآن، صفحه 331) یعنی معرفت یا عرفان کا لغوی مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کی علامت میں غور وفکر کر کے اس کی حقیقت کو دریافت کرے۔ اور اللہ کی معرفت یہ ہے کہ انسان اللہ کو اس کی نشانیوں میں غور وفکر کے ذریعے دریافت کرے، نہ کہ اس کی ذات میں۔ اس سے معلوم ہوا کہ معرفت کا تعلق مجرد علم سے نہیں ہے، بلکہ معرفت کا تعلق غور وفکر سے ہے۔ علم کسی آدمی کے اندر معرفت کی ابتدائی صلاحیت پیدا کرتا ہے، یعنی چیزوں پر گہرائی کے ساتھ غور وفکر جب کوئی شخص معرفت کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے، وہ مسلسل طور پر اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیقات میں خالق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس غور وفکر کے نتیجے میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت اسی شخصیت کا نام عارف انسان ہے۔
جس شخص کو اس قسم کی معرفت حاصل ہو جائے، وہ انتہائی سنجیدہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عارفانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔ اس کی عبادت اور اس کے اخلاق و معاملات میں معرفت کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا لگاؤ سب سے زیادہ اُن چیزوں میں ہو جاتا ہے جو معرفت کی غذا دینے والی ہوں۔ وہ معرفت کے ماحول میں جیتا ہے اور معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔