Al-Risala · June 2011

انسانی زندگی کا مقصد

Al-Risala, June 2011, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (51:56) یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت اس میں ”لیعبدون“ کی تشریح عبد اللہ بن عباس نے ”ليعرفون“ سے کی ہے، یعنی خالق کی

معرفت کے لیے۔ یہی بات ایک روایت میں ان الفاظ میں آئی ہے: کنت کنزاً مخفیاً، فأردت أن أعرف فخلقت الخلق (کشف الخفاء، 2/1011)

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی شروع سے آخر تک معرفت کا ایک سفر ہے۔ اس سفر معرفت کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں گزرتا ہے، اور اس کا انتہائی اور ابدی حصہ آخرت کی دنیا میں گزرے گا۔ معرفت ایک لامتناہی سمندر ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس لامتناہی سفر کا مسافر بنے، موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں بھی اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں بھی۔ موجودہ دنیا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: واتاکم من كل ما سألتموه (14:34) یعنی خدا نے تم کو ہر اُس چیز میں سے دیا جس کو تم نے اس سے مانگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ وہ معرفت کا سفر طے کرے، لیکن جینے کے سامان کے طور پر اس کو وہ تمام چیزیں دے دی گئی ہیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ کی زندگی بھی حقیقتہً معرفت کی زندگی ہے۔ دنیا کی زندگی میں معرفت کا جو سفر ابتدائی طور پر شروع ہوا تھا، وہ آخرت کی زندگی میں بھی اپنے اعلیٰ ترین صورت میں جاری رہے گا۔ آخرت میں انسان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ خالق کا براہِ راست مشاہدہ کرے، وہ خالق کا شریکِ مجلس بنے، وہ خالق سے کلام کرسکے۔ تاہم آخرت میں انسان خدا کا مہمان بن کر رہے گا۔ دنیا میں زندگی کی جو چیزیں اس کو درجۂ ضرورت میں ملی تھیں، وہ آخرت میں انسان کو درجۂ اشتهاء (41:31) میں حاصل ہو جائیں گی۔ معرفت ایک ذاتی دریافت قرآن میں، ہزار سے زیادہ آیتیں ہیں۔ ان میں ایک آیت وہ ہے جو قرآن کی سب سے زیادہ لمبی آیت ہے۔ یہ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 282 ہے۔ یہ آیت، قرض (debt) کی کتابت (writing) کے بارے میں ہے۔ اس آیت میں نہ صرف قرض کے معاملے کی کتابت کا حکم ہے، بلکہ اس کی جزئی تفصیلات تک اس میں بتائی گئی ہیں۔

اس کے برعکس معاملہ معرفت کا ہے۔ قرآن میں معرفت کا ذکر ہے، لیکن اس میں کہیں بھی

معرفت کی تفصیلات (details) بیان نہیں کی گئی ہیں۔ معرفت کا مادہ (root) ع، ر، ف ہے۔ کے مشتقات (derivatives) قرآن میں تقریباً 70 بار آئے ہیں، مگر کہیں بھی معرفت کی تفصیل مثال کے طور پر قرآن کی سورہ المائدہ میں یہ آیت آئی ہے: وإذا سمعوا ما أنزل إلى الرسول ترى أعينهم تفيض من الدمع مما عرفوا من الحق (83 : 5)۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک گروہ کو کلام اللہ سن کر معرفت ملی، لیکن قرآن کے اس بیان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ متعین طور پر وہ معرفت کیا تھی جو اس گروہ کو حاصل ہوئی۔

قرآن کی ان دونوں آیتوں کے تقابل سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ معرفت، فقہی مسئلہ جیسی کوئی چیز نہیں ہے جس کو تعین کی زبان (specific language) میں بیان کیا جا سکے۔ معرفت ایک ایسی چیز ہے جو ذاتی دریافت (self-discovery) کے طور پر کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ معرفت یا تو خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) کے طور پر حاصل ہوگی، یا پھر وہ سرے سے حاصل ہی نہ ہوگی۔ معرفت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے طالب معرفت کے لیے وہی طریقہ رکھا ہے جس کو فن تعلیم میں ڈسکوری متھڈ (discovery method) کہا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک ایسی چیز ہے جس کو آدمی خود اپنے غور و فکر سے دریافت کرتا دوسرے لفظوں میں، یہ کہ معرفت ایک اجتہادی موضوع ہے، وہ تقلیدی موضوع نہیں۔ معرفت کے حصول کے لیے تخلیقی ذہن (creative mind) درکار ہے۔ معرفت کسی شخص کو لمبی فکری جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ معرفت ایک ذاتی دریافت ہے، معرفت کسی ایسے مقرر کورس کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی جو آپ نے کسی شخص کے بتانے سے جانا ہو، جو آپ نے کسی شخص سے بطور تقلید حاصل کیا ہو۔

Printed page