معرفت کے دو پہلو
Al-Risala, June 2011, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی معرفت کے دو پہلو ہیں محبت، اور خشیت۔ خدا ایک طرف رحیم ہے، اور
دوسری طرف وہ عادل ہے۔ انسان جب خدا کی بے پایاں رحمت کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں: أشَدُّ حَبًّا للہ (165: 2) کہا گیا ہے، یعنی اللہ سے بہت زیادہ محبت کرنے والے۔ اسی طرح جب ایک انسان خدا کے عادل ہونے کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں: ولم یخش إلا اللہ (18: 9) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
مومن کی شخصیت اُنھیں دو کیفیات کے ذریعے بنتی ہے۔ ایک طرف، وہ اپنے رب سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف، وہ اپنے رب سے بہت زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے۔ خدا کی محبت ایک ایسی محبت ہے جو سراپا درد سے بھری ہوتی ہے۔ اسی طرح خدا سے خوف ایک ایسا خوف ہے جو محبت کے جذبات سے معمور ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں آدمی جس ہستی سے پانے کی امید رکھتا ہے، اُسی ہستی کے بارے میں اس کو یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کہیں اپنی رحمتوں سے اس کو محروم نہ کر دے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا امتزاج ہے جس کو محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہی اعلیٰ معرفت کی پہچان ہے۔ اعلیٰ معرفت سکون بھی ہے اور تڑپ بھی۔ اعلیٰ معرفت امید بھی ہے اور خوف بھی۔ اعلیٰ معرفت یقین بھی ہے اور بے یقینی بھی۔ اعلیٰ معرفت قربت بھی ہے اور دوری اعلیٰ معرفت ایک ایسا مقام ہے جہاں بندے کو کبھی یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ منزل پر پہنچ گیا اور کبھی اس کو یہ شبہہ ہوتا ہے کہ وہ ابھی راستے میں سرگرداں ہے۔ کبھی وہ اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ وہ فل اسٹاپ (full stop) تک پہنچ گیا، اور کبھی وہ اِس شک میں مبتلا رہتا ہے کہ ابھی وہ کاما (comma) کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ محبت اور خشیت کی اُنھیں کیفیات کا نام معرفت ہے۔ معرفت ایک تخلیقی موضوع معرفت کا کوئی سَٹ کورس (set course) نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اوراد و وظائف یا ذکر واشغال کا کوئی بنا بنایا طریقہ ہے، جو شخص بھی اس کو دہرائے، اُس کو اپنے آپ معرفت
حاصل ہو جائے گی۔ اس قسم کا کوئی نظریہ معرفت خداوندی کی تصغیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک تخلیقی موضوع (creative subject) ہے۔ معرفت کے لیے اجتہادی ذہن درکار ہے۔ معرفت ایک طوفانی تجربہ ہے۔ معرفت کسی شخص کو ذاتی دریافت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جو معرفت کسی تقلیدی فارم کے دہرانے سے حاصل ہو، وہ کچھ اور چیز ہوسکتی ہے، وہ معرفت نہیں جس خدا کی صفت کلّ یوم ہو فی شان (29: 55) ہو، اس کی معرفت کسی جامد یا تقلیدی کورس کے ذریعے حاصل نہیں کی جاسکتی۔
جس چیز کو سیکولر اصطلاح میں تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے، مذہب کی زبان میں اُسی کا نام اجتہادی فکر ہے۔ اجتہادی فکر کا مطلب آزادانہ سوچ نہیں ہے، اجتہادی فکر کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بیانات میں چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جائے۔ معانی کی یہ دریافت اجتہادی فکر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اِس اجتہادی فکر سے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدائی کتاب (قرآن) اس لیے اتاری گئی ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں، وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اُس سے نصیحت حاصل کریں (29-37)۔ وفکر پر مبنی نصیحت کا دوسرا نام معرفت ہے۔ اجتہادی معرفت کے حصول میں قرآن کی حیثیت ایک رہنما کتاب کی ہے۔ معرفت کے بنیادی اصول قرآن میں بتا دئے گئے ہیں۔ ان بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں غور کر کے اُن کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کرنا ہی اجتہاد ہے۔ اور اسی اجتہادی عمل کے ذریعے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔