Al-Risala · June 2011

معرفت کا سفر

Al-Risala, June 2011, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں خدا کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: إنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون (36: 82) یعنی خدا جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہو جا اور پھر وہ چیز ہو جاتی ہے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت اتنی زیادہ ہے کہ وہ چیزوں کو ایک لمحے

کے اندر وجود میں لا سکتا ہے، مگر تخلیق کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے ایسا نہیں کیا۔ جدید سائنس کی دریافت کے مطابق، موجودہ کائنات کی عمر تقریباً 15 بلین سال ہے۔ خدا نے سب سے پہلے تمام کائناتی ذرات کا مجموعہ بنایا۔ اس مجموعے کو سپر ایٹم (super atom) کہا جاتا ہے۔ پھر اس سپر ایٹم میں دھماکہ (explosion) ہوا۔ اور جمنے ہوئے ذرات منتشر ہو کر وسیع خلا میں پھیل گئے۔ ذرات نے ستاروں اور سیاروں کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد نظامِ شمسی (solar system) بنا۔ پھر اسی نظامِ شمسی کے اندر موجودہ زمین کی تشکیل ہوئی۔ پھر دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid water) وجود میں آیا۔ اس کے بعد نباتات اور حیوانات کا ظہور ہوا۔ آخر میں انسان کو پیدا کر کے اُس کو زمین پر بسایا گیا۔

یہ پورا واقعہ اگر ایک تخلیقی کرشمہ کے طور پر اچانک ایک لمحے کے اندر ظہور میں آتا تو وہ انسان کے لیے صرف تحیّر (bewilderment) کا سبب ہوتا، وہ انسان کے لیے غور و فکر کا ذریعہ نہ بنتا۔ نے ایسا کیا کہ کائنات کو ایک لمحے میں پیدا کرنے کے بجائے، ایک لمبے عمل (process) کے ذریعے کائنات کی تخلیق میں بے شمار عوامل (factors) شامل ہو گئے۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ انسان کائنات پر غور کرے اور لامتناہی طور پر وہ اس کے قوانین کو دریافت کرتا رہے۔ اس طرح کا ئنات، انسان کے لیے ابدی معرفت کا ذریعہ بن گئی۔ انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ صبح و شام کائنات میں چھپے ہوئے تخلیقی عمل پر غور کرے۔ اسی طرح وہ مسلسل طور پر خدا کے تخلیقی کرشموں کو دریافت کرتا رہے، اس کا سفرِ معرفت کبھی ختم نہ ہو۔

Printed page