Al-Risala · June 2011

معرفت کا خزانہ

Al-Risala, June 2011, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں کلمات اللہ (31:27) کا ذکر ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ان کلمات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کی گنتی کی جائے تو اُن کی گنتی کبھی ختم نہ ہو۔ یہ کلمات اللہ کیا ہیں، یہ کوئی مبہم چیز اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو اسرارِ کائنات (mysteries of the universe) کہا جاتا جدید سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انھیں کلماتِ الہی کو دریافت کرنے کا نام ہے۔

جدید سائنس کی تاریخ تقریباً پانچ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس دوران سائنس دانوں نے قوانینِ فطرت کے اعتبار سے بے شمار چیزیں دریافت کی ہیں۔ دور بین (telescope) اور خورد بین (microscope) کی ایجاد نے ان دریافتوں کا دائرہ بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ہے کہ جدید سائنس اپنی نوعیت کے اعتبار سے، معرفت کا علم ہے۔ اُس نے اہلِ ایمان کے لیے معرفت کا ایک عظیم خزانہ کھول دیا ہے۔

یہاں سائنس سے مراد ٹیکنکل سائنس (technical science) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد پاپلر سائنس (popular science) ہے۔ پاپلر سائنس کے موضوع پر ہر زبان میں کتابیں موجود یہ کتابیں آسان زبان میں ہوتی ہیں اور ہر آدمی اُن کو پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ تخلیقِ خداوندی میں غور و فکر کرنا غور و فکر کے لیے ہمیشہ معاون ڈیٹا (supporting data) درکار ہوتا ہے۔ سائنس کے ظہور سے پہلے اس معاملے میں صرف محدود ڈیٹا دستیاب تھا۔ اب سائنس نے طالبِ معرفت کے لیے لامحدود ڈیٹا کی عظیم لائبریری فراہم کر دی ہے۔ اب طالبِ معرفت کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے سفرِ معرفت کو لامناہی طور پر (endlessly) جاری رکھے ۔ وہ ہر لمحہ معرفتِ رب کی غذا حاصل کرتا اس کے اندر روحانی ارتقا کا عمل (process) مسلسل طور پر جاری رہے۔ روحانی ارتقا کا یہ عمل موت سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی ختم نہ ہو۔

Printed page