معرفت ایک خدائی عطیہ
Al-Risala, June 2011, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان بے شمار چیزوں کا ضرورت مند ہے۔ مگر ان ضرورت کی چیزوں میں سے کوئی بھی چیز وہ خود سے پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ تمام چیزیں خدا کی طرف سے انسان کو یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملتی ہیں۔ خدا اگر یہ عطیہ نہ دے تو انسان آخری حد تک تباہ ہو کر رہ جائے۔
انسانی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جہاں سے معرفتِ رب کا آغاز ہوتا ہے۔ جب اپنی اس حیثیت کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے تو وہ خدائی فیضان کا وعایہ (container)
بن جاتا ہے۔ کسی انسان کے اندر اس قسم کے شعور کا پیدا ہونا، خدا کے ساتھ اس کی صحیح نسبت کا قائم ہو جانا ہے۔ جب کسی انسان کو یہ نسبت حاصل ہو جائے تو اس کے بعد وہ مسلسل طور پر خدائی فیضان (divine inspiration) پانے لگتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر معرفت رب کا عمل (process) جاری ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے کوئی منفی سبب پیدا نہ کرے تو معرفت کا یہ عمل اس کے اندر برابر جاری رہے گا۔ اس کی معرفت مسلسل ترقی کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے حد کمال کو پہنچ جائے۔
معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ (divine gift) ہے۔ جس انسان کو معرفت کا عطیہ ملا، وہی وہ انسان ہے جو آخرت میں جنت کے عطیہ کا مستحق قرار معرفت گویا کہ کسی انسان کے لیے خدا کا دنیوی انعام ہے، اور جنت کسی انسان کے خدا کا اُخروی انعام۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت سچائی کی سیٹ (55 : 54) پر ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ جو چیز کسی انسان کو جنت کے لیے غیر مستحق بناتی ہے، وہ کذب (جھوٹ) ہے، کذب جلی بھی اور کذب خفی بھی۔ جو آدمی اپنے آپ کو ہر قسم کے کذب سے بچائے، وہی وہ انسان ہے جو جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے گا۔ معرفت آدمی کو سچا انسان بناتی ہے اور سچائی انسان کو جنت تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔