Al-Risala · June 2011

تو سم ذریعہ معرفت

Al-Risala, June 2011, pp. 11–14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ربانی انسان کی ایک صفت تو سم (75 : 15) بتائی گئی ہے۔ تو سم کا مطلب تفرس ہے، یعنی ظاہری علامت کے ذریعے کسی داخلی صفت کو پہچاننا۔ صاحبِ تو سم آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں سے سبق لے سکے، وہ مادی تجربات کے دوران روحانی غذا حاصل کر سکے۔ تو سم کی یہ صلاحیت معرفت کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر تو سم کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقیناً معرفت سے بھی محروم رہے گا۔

(Australian Education International) آسٹریلیا کے عالمی تعلیمی ادارہ کی طرف سے 2010 میں 60 صفحے کا ایک میگزین شائع ہوا۔ اس کے ایک صفحے پر پوری دنیا کا نقشہ (world map) بڑے سائز میں چھپا ہوا ہے۔ اس نقشے میں ایک طرف سفید رنگ میں انڈیا ہے، اور دوسری طرف دس ہزار میل کے فاصلے پر ہرے رنگ میں آسٹریلیا۔ کے اوپر ہندوستانی نو جوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں— تم یہاں ہو (You are here)۔ اس کے بعد آسٹریلیا کے نقشے پر لکھا ہوا ہے کہ — تمھارا مستقبل یہاں ہے (Your future is here)۔

آپ نے اس نقشے کو دیکھا۔ اس کے بعد اچانک آپ کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ انسان آج موت سے پہلے کی دنیا میں ہے، لیکن اس کا ابدی مستقبل موت کے بعد کی دنیا میں ہے۔ تلاش کرنے کی جگہ موجودہ دنیا نہیں ہے، بلکہ وہ بعد کو آنے والی آخرت کی ابدی دنیا ہے۔ اسی انتقال فکر (intellectual shift) کا نام تو سم ہے، یعنی مادی واقعات سے روحانی سبق لینا، مادی واقعات کو عارفانہ تجربے میں تبدیل کرنا:

To convert material events into spiritual experience. اس تو سم کا سامان ہر چیز میں موجود ہوتا ہے، کوئی بھی چیز اس سے خالی نہیں۔ اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو تو وہ ہر چیز میں تو سم کے ذریعے معرفت کی غذا حاصل کرتا رہے گا۔ مبنی بر عقل معرفت معرفت کا ذریعہ، قرآن کے الفاظ میں، تفکر اور تدبر (191: 3) ہے۔ معرفت کا حصول غور وفکر (contemplation) کے ذریعے ہوتا ہے، اور غور وفکر کا تعلق تمام تر عقل یا دماغ (mind) انسان کے جسم میں صرف دماغ یا برین (brain) وہ حصہ ہے جس کے اندر سوچنے کا عمل جاری ہوتا ہے۔ اسی سوچنے کے عمل کے ذریعے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو معرفت (realization) کہا جاتا ہے۔

قدیم زمانے سے ایک روحانیت پسند طبقہ رہا ہے جو معرفت کا ذریعہ قلب کو بتاتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت، قلبی مراقبہ (meditation) کا طریقہ رائج ہوا۔ مگر یہ نظریہ دینِ خداوندی کی پیداوار نہیں، یہ نظریہ تمام تر وحدتِ وجود (monism) کے تصور کے تحت پیدا ہوا ہے۔ وحدتِ وجود یا ادویت واد کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنے اس عقیدے کے تحت ایک نظریہ وضع کیا اس نظریے کو وہ ان ڈویلنگ گاڈ (in-dwelling god) کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، یعنی دل کے اندر بسنے والا خدا۔ مگر یہ نظریہ تمام تر صرف قیاس (supposition) پر مبنی ہے، اُس کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔

قرآن میں قلب (heart) کے حوالے سے فقہ (فہم) کا حوالہ آیا ہے (179 :7)، مگر یہ صرف ادبی استعمال (literary usage) کے طور پر ہے، وہ حقیقی معنی کے اعتبار سے نہیں۔ زمانے میں قلب کی تحقیق کرنے والوں نے بتایا ہے کہ قلب گردش خون (blood circulation) کا جو عمل کرتا ہے، اس کے دوران قلب اور دماغ کے مابین کمیونیکیشن (communication) ہوتا ہے۔ مگر اس سے سوچنے والے دل (thinking heart) کا نظریہ ثابت نہیں ہوتا، کیوں کہ دماغ کے ساتھ اس قسم کا کمیونیکیشن جسم کے ہر عضو (organ) کے ساتھ ہوتا ہے۔ جدید علم تشریح الاعضا (anatomy) کے ذریعے جو چیز ثابت ہوئی ہے، وہ اعضا (organs) کے درمیان صرف کمیونیکیشن ہے، نہ یہ کہ قلب یا کوئی اور عضو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا (organs) اس اعتبار سے، دماغ کے ماتحت (subservient to the brain) ہیں، اس میں قلب کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ معرفت کا ذریعہ معرفت کا ذریعہ کسی قسم کے اوراد واشغال نہیں ہیں۔ معرفت ایک زندہ دریافت کا نام معرفت کے حصول کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے، غور وفکر کے ذریعے اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرنا، جب کہ آدمی مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے دوران معرفت کا رزق پاتا رہے۔

روزمرہ کے واقعات کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر معرفت کی دریافت کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ قرآن کی سورہ النساء پڑھ رہے ہیں۔ آپ اس آیت تک پہنچتے ہیں: وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطاراً فلا تأخذوا منه شيئاً (20: 4) یعنی اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو، تو تم اُس میں سے کچھ واپس نہ لو۔

قرآن کی اِس آیت پر غور کرتے ہوئے آپ کی سمجھ میں آتا ہے کہ دئے ہوئے مال کو واپس نہ لینا، یہ ایک شرافت کا معاملہ ہے۔ اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اِسی شرافت کا حکم دیا ہے اور غیر شریفانہ طرزِ عمل سے منع کیا ہے۔ پھر آپ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس شرافت کا حکم دیا ہے، وہ شرافت خود اللہ تعالیٰ میں بے حساب گنا زیادہ ہوگی۔ یہ سوچتے ہوئے آپ تڑپ اٹھتے ہیں اور آنسوؤں کی زبان میں یہ کہتے ہیں کہ— خدایا، تو نے دنیا میں مجھ کو ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ اب کیا آخرت میں تو ان نعمتوں کو مجھ سے چھین لے گا۔ موت سے پہلے کی زندگی میں تو نے مجھ کو جنت میں رکھا۔ یہ تیری اعلیٰ شرافت کے خلاف ہے کہ تو موت کے بعد کی زندگی میں مجھ کو جہنم میں ڈال دے۔

اِسی کا نام پوائنٹ آف ریفرنس ہے، یعنی واقعات اور تجربات کے حوالے سے اللہ کو یاد کرنا، واقعات اور تجربات کو تخلیقی معرفت کا ذریعہ بنا لینا ۔ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو اس انداز میں اپنے ذہن کی تربیت کرے، دوسرا کوئی طریقہ معرفت کے حصول کا نہیں۔

Printed page