بے یقینی نہیں
Al-Risala, June 2011, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
ہدایت کے معاملے میں خدا کا ایک قانون وہ ہے جس کو سورہ الانعام میں قانونِ التباس کہا گیا ہے (8: 6)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں شبہ کا ایک عنصر (element of doubt) موجود ہوتا یہ قانون مصلحتِ امتحان کی بنا پر ہے۔ جو شخص شبہ کے اس پردے کو پھاڑ سکے، وہ سچائی کو پاۓ گا۔ اور جو شخص شبہ کے اس پردے کو پھاڑنے میں ناکام رہے، وہ سچائی کو پانے میں بھی ناکام رہے گا۔
کوئی بھی دوسری چیز اس معاملے میں آدمی کو بچانے والی نہیں۔
معرفت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جو آدمی معرفت کے سفر کا مسافر بنے، اس کو بار بار ایسی صورت حال کا سامنا پیش آئے گا، جب کہ وہ محسوس کرے گا کہ وہ شبہہ اور یقین (doubt and conviction) کے درمیان ہے۔ وہ ایک چیز پر یقین کرنا چاہتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ کچھ ایسے اسباب بھی ہیں جو اُس کو شبہہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ایک چیز کو ماننا چاہتا ہے، لیکن وہ اس کو مان نہیں پاتا۔ تذبذب (hesitation) کی یہ حالت اکثر لوگوں پر گزرتی ہے۔ یہ تذبذب معرفت کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
جب بھی کوئی شخص تذبذب کی کیفیت کا شکار ہوتا ہے تو ہمیشہ اس کے سامنے دو حالتیں ہوتی ہیں ۔ ایک طرف ، عقل (reason) کی سطح پر وہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں چیز علمی معیار پر بالکل درست ہے، لیکن اسی کے ساتھ اپنے روایتی خیالات کی بنا پر وہ اس شک میں رہتا ہے کہ کہیں اس کے اندر کوئی غلطی نہ ہو۔ علمی طور پر مدلل ہونے کے باوجود موہوم شبہہ کی بنا پر بے یقینی کی حالت میں پڑا رہتا ہے۔
بے یقینی کی یہ حالت کسی کے لیے عذر نہیں بن سکتی۔ معرفت کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تذبذب کی اِس حالت سے نکلے۔ وہ شبہہ کے مقابلے میں علم کو ترجیح (priority) دے۔ بے ثبوت شک کی فضا سے باہر آئے۔ وہ ثابت شدہ چیز پر یقین کرتے ہوئے اس کو اختیار کرلے۔ معرفت کے حصول کی لازمی شرط ہے۔