Al-Risala · June 2011

اعلیٰ معرفت سے محرومی کیوں

Al-Risala, June 2011, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطابق ، خدا کی اعلیٰ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جس کو اللہ سے اعلیٰ تعلق قائم ہو جائے ۔ اللہ سے اعلیٰ تعلق کی پہچان یہ ہے کہ انسان کو اللہ سے حب شدید (165: 2) اور اللہ سے خوف شدید (18 :9) پیدا ہو جائے ۔ جب کسی انسان کو اللہ کے ساتھ اس قسم کا گہرا تعلق حاصل ہو جائے تو اس کے اندر ذکر کثیر (41 :33) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ، یعنی اللہ کو بہت زیادہ

یاد کرنا، اللہ کے لیے بہت زیادہ سوچنا۔ اللہ کے ساتھ تعلق میں اگر ایک فی صد بھی کمی آ جائے تو ایسے انسان کو اللہ کی اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہوگی۔

یہود کا حال بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ ان کا گہرا تعلق اللہ سے نہ رہا، بلکہ اپنے احبار اور رہبان سے ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں وہ اللہ کی اعلیٰ معرفت سے محروم ہو گئے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہے۔ مسلمانوں کے ہر گروہ کے کچھ بڑے (bigs) ہیں اور ان کا گہرا تعلق اپنے انھیں بڑوں سے ہے، نہ کہ خداوند ذوالجلال سے۔ اپنے ان بڑوں کو انھوں نے مقدس نام دے رکھے مثلاً اکابر، اسلاف، مشائخ، بزرگان دین، وغیرہ۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے انھیں مفروضہ بڑوں سے گہرا قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ اس گہرے قلبی تعلق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے ان بڑوں کے خلاف تنقید کو بالکل پسند نہیں کرتے۔

یہ غیر خدا کے ساتھ حب شدید کا تعلق قائم کرنا ہے اور جو لوگ کسی غیر خدا کے ساتھ حب شدید کی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کی اعلیٰ معرفت کی توفیق نہیں پاتے۔ ایسے لوگوں کے حصے میں صرف رسمی عقیدہ آتا ہے، نہ کہ اعلیٰ ایمان۔ جو آدمی جو آدمی کو اعلیٰ معرفت تک پہنچانے والا ہو۔ کی ایک قیمت ہے، اور یہ قیمت ادا کیے بغیر کسی کو اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اللہ کی محبت قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: والذین آمنوا أشد حبًّا لله (165 :2)۔ آیت کے مطابق، اللہ کا مومن بننے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا مذکورہ قرآنی آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان اللہ سے حب شدید کرتے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ اہل ایمان کے اندر اللہ سے حب شدید ہوتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ محبت جواب (response) کے طور پر کسی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ ایک انسان اللہ کو اپنے سب سے بڑے محسن اور منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سینے میں اللہ کے لیے محبت کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام حب شدید

محبت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دریافت کا نتیجہ ہے، وہ محض ایک حکم کی تعمیل نہیں۔ انسان جب اپنے آپ کو احسنِ تقویم (95: 4) کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے ساتھ تکریم (70: 17) کا معاملہ کیا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے لیے زمین اور آسمان کو مسخر کر دیا ہے، جب وہ ان بے شمار نعمتوں کو دریافت کرتا ہے جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، جب وہ اللہ کے اس احسان کو دریافت کرتا ہے کہ اُس نے پیغمبر کے ذریعے اس کی ہدایت کا انتظام فرمایا، جب کہ وہ اس سے پوری طرح بے خبر تھا، جب وہ کائناتی پیمانے پر اللہ کی تخلیق اور اس کی ربوبیت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا بے پناہ جذبہ امنڈ پڑتا ہے۔ یہی شکر الہی محبت الہی کا منبع ہے۔ اِس سے انسان کے اندر وہ گہرا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید کہا گیا ہے۔

اصل بات یہ نہیں ہے کہ محبت کرو، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو اتنے بڑے منعم کی حیثیت سے دریافت کرو کہ تمھارے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہو جائے۔

Printed page