Al-Risala · June 2011

خالق کی بے پناہ عظمت

Al-Risala, June 2011, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الرعد میں یہ آیت آئی ہے: الله الذي رفع السماوات بغير عمدِ ترونها (13:2) یعنی اللہ ہے جس نے آسمان کو بلند کیا بغیر ایسے ستون کے جو تمھیں نظر آئیں۔ اس آیت میں ایک عظیم کائناتی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اتنی زیادہ عظیم ہے کہ اس کو سوچ کر آدمی کا دل دہل اٹھے اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

قدیم روایتی زمانے میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ چیزیں کسی مادی سہارے پر قائم ہیں۔ ستارے کسی آسمانی چھت سے لٹکائے گئے ہیں، اور زمین کسی مادی سہارے پر قائم ہے۔ زمانے میں جب دوربین ایجاد ہوئی اور خلا (space) کا دور بینی مشاہدہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ساری کائنات ایک خلا میں ہے۔ کہکشائیں، شمسی نظام، ستارے اور سیارے، سب ایک اتھاہ خلا میں کسی سہارے کے بغیر گھوم رہے ہیں۔ یہ سارا معاملہ اتنے وسیع خلا میں ہورہا ہے کہ انتہائی طاقت ور

دوربینوں کے ذریعے بھی اُن کی حدوں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔

کسی سہارے کے بغیر قائم یہ کائناتی نظام اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کا صرف قیاس کیا جا سکتا ہے۔ وسیع کائنات کے بارے میں جو اندازے کئے گئے ہیں اور اس کے جو فوٹو حاصل کئے گئے ہیں، وہ اتنے زیادہ بڑے ہیں کہ اُن کے فاصلوں کو عام اِعداد کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا، چناں چہ اُن کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے: Light year: A unit of astronomical distance, equal to the distance that light travels in one year, approximately 6,000,000,000,000 miles. لامحدود خلا میں انتہائی وسیع کائنات کا معلق ہونا، خالق کی عظمت کا ناقابلِ بیان ثبوت ہے۔ جنت قریب، جنتِ بعید قرآن کی سورہ القمر میں اہل جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: اِنّ المتقین فی جنات ونہر، فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54-55) یعنی بے شک اللہ سے ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے، بیٹھے ہوئے سچائی کی سیٹ پر، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ قرآن کی اس آیت اور دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے دو درجے ہیں— ایک، جنت قریب، اور دوسری، جنتِ بعید۔ جنت قریب، خدا کے پڑوس میں ہوگی۔ لوگ بسائے جائیں گے جو اعلیٰ معرفت والے لوگ ہوں گے۔ جنتِ بعید سے مراد خدا کے پڑوس سے دور کی جنت ہے۔ اس جنت میں عام اہل ایمان کو جگہ ملے گی۔ عام اہل ایمان بھی جنت میں جگہ پائیں گے، لیکن ان کو جنتِ بعید میں جگہ ملے گی، نہ کہ جنتِ قریب میں۔

اعلیٰ معرفت والے لوگ وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: والذین امنوا اشد حبا لله (البقرة: (165) یعنی جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ محبت اللہ سے رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ اصحاب معرفت ہیں جنھوں نے اللہ کو ایسی برتر ہستی کے طور پر دریافت کیا جو کامل طور پر ان کے دل و دماغ پر چھا گیا۔ ان کی ساری محبتیں ایک اللہ کے لیے وقف ہو گئیں۔ وحدہ لا شریک ہی اُن کا سب سے بڑا اکسرن (supreme concern) بن گیا۔ اُن کی سوچ تمام تر

اللہ والی سوچ (God-oriented thinking) بن گئی۔

جن لوگوں کو اللہ سے محبت کے درجے کا تعلق ہو جائے، وہ اللہ کے حضور (presence) میں جینے لگتے ہیں۔ اُن کو دنیاہی میں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔

ایسے لوگوں کو دنیا میں یہ قربت (closeness) نفسیات کی سطح پر ملتی ہے، آخرت میں اُن کو قربت کا یہ تجربہ عملی سطح پر ہونے لگے گا۔ وہ دنیاہی کی زندگی میں خدا کی قربت کا تجربہ کر رہے تھے، آخرت میں اُنھیں قربت الہی کے مزید اعلیٰ درجات حاصل ہو جائیں گے۔

Printed page