Al-Risala · June 2011

محبت الہی

Al-Risala, June 2011, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ البقرہ میں اہلِ ایمان کی ایک بنیادی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: والذین امنوا اشد حبا لله (165: 2) یعنی جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں اہلِ ایمان سے مراد اہل معرفت ہیں۔ دریافت کے درجے میں خدا کو پائے، وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن جاتا ہے، اور جو انسان صاحبِ معرفت ہو، اس کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہو جائیں گے۔ خدا اس کے قلب و دماغ کا واحد مرکز بن جائے گا۔

انسان اپنی محدودیت (limitations) کی بنا پر موجودہ دنیا میں خدا کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ خدا کی رحمتوں (blessings) کا ہر آن تجربہ کرتا ہے، اور یہی تجربہ محبت الہی کا اصل سرچشمہ ہے۔ آدمی کو اس دنیا میں جو کچھ ملا ہوا، وہ سب کا سب خدا کی رحمت ہے۔ آدمی جتنا زیادہ ان ملی ہوئی چیزوں پر غور کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے محبت کا سرچشمہ انعام کی دریافت ہے، نہ کہ منعم کا مشاہدہ۔

انسان کو کس نے پیدا کیا، خدا نے۔ انسان کو مختلف قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کس نے دیں، خدا انسان کے لیے زمین جیسا ایک استثنائی سیارہ کس نے بنایا، خدا نے۔ انسان کے لیے یہاں لائف سپورٹ سسٹم کس نے قائم کیا، خدا نے۔ انسان کی تمام حاجتوں کی تکمیل کا انتظام کس نے کیا، خدا نے۔

انسان کو وہ دماغ کس نے دیا جو زمین پر رہتے ہوئے ساری کائنات کا احاطہ کرسکتا ہے، خدا نے۔ اُنہیں تمام انعام (blessings) کے منعم (giver) کی دریافت کا نام معرفت ہے۔ کو جب یہ معرفت حقیقی معنوں میں حاصل ہوجائے تو اس کے اندر خدا سے محبت کا سر چشمہ اہل پڑتا اس کے دل کی گہرائیاں خدا کی محبت سے روشن ہو جاتی ہیں۔

خدا کی اطاعت بلا شبہ ایمان کا تقاضا ہے، لیکن یہ خدا سے محبت کی تصغیر (underestimation) ہے کہ اُس کو صرف اطاعت کے معنی میں لیا جائے ۔ اطاعت، خدا سے تعلق کا صرف ایک قانونی اظہار ہے، جب کہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود خدا کی یاد میں ڈھل گیا، انسان اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کا اعتراف کامل کرنے والا بن گیا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ : الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر (صحیح مسلم، رقم الحديث : 5256) یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور غیر مومن کے لیے جنت۔ اس حدیث کو عام طور پر مادی معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی دنیا کی مادی چیزوں میں مومن کو سکون نہیں ملتا، جب کہ غیر مومن ان مادی چیزوں کو پا کر خوش ہو جاتا ہے۔ یا یہ کہ مومن کو شریعت کے نواہی ( ممنوعات ) میں جینا پڑتا ہے، جب کہ غیر مومن اپنے آپ کو اس قسم کی شرعی پابندیوں سے آزاد سمجھتا ہے۔

لیکن اس حدیث کا ایک اور مطلب ہے جو اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھتا ہے۔ جب حقیقت کی دریافت کے اُس ارتقائی مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں اُس کو اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، اُس وقت دنیا اُس کے لیے ایسی ہو جاتی ہے جیسے کہ وہ ایک نفسیاتی قید خانے میں ہے، جیسے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اُس کے لیے بنائی نہیں گئی، جہاں اُس کی روحانی تسکین کا سامان موجود نہیں۔

ایسے مومن کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا وجود اس کا

متمل نہیں، اُس کے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعے وہ اپنی عارفانہ دریافت کو بیان کر سکے، اُس کے پاس ایسے سامعین نہیں جو اس کی باتوں کو سمجھ سکتے ہوں، اُس کے آس پاس وہ ماحول نہیں جہاں وہ اپنی معرفت کے ساتھ جی سکے۔

ایسا باشعور مومن ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے جیسے کہ وہ ایک قفس میں ہے، تمام چیزیں اس کو اپنی عارفانہ سطح کے اعتبار سے غیر موافق نظر آتی ہیں۔ یہی اعلیٰ کیفیت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا خدا جس انسان کو ایسی حالت میں پاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کو جنت میں داخل کردو، کیوں کہ جنت کو میں نے ایسے ہی بندوں کے لیے بنایا ہے۔ ہی بندوں کے لیے ہے اور ایسے بندے صرف جنت کے لیے۔

Printed page