معرفتِ الہی
Al-Risala, June 2011, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی معرفت (realization of God) ایک شعوری دریافت ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو اس طرح نہیں ہو سکتی کہ وہ اللہ، اللہ، کی لفظی تکرار کرے، یا مراقبہ کر کے وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ دل کی ہر دھڑکن میں اس کو اللہ اللہ کی آواز سنائی دینے لگے۔ اس قسم کی چیزیں ایک غیر متعلق ورزش کی حیثیت رکھتی ہے، ان کا خدا کی معرفت سے کوئی تعلق نہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ: خلق اللہ آدم علی صورته (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6227) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ اسی کو لے کر ایک عربی مقولہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: من عرف نفسه فقد عرف ربه، یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
یہ بات بلا شبہہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح ایک انا (I) ہے، اُسی طرح خدا زیادہ بڑے پیمانے پر ایک انا ہے۔ یہ شعوری انا، ساری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت یہ واقعہ انسان کی اپنی حیثیت کو بتاتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ خدا کے وجود کو بھی ثابت کرتا اس لیے کہ اگر اس کائنات میں انسان کی صورت میں ایک چھوٹا استثنا (small exception)
موجود ہے تو یہ واقعہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک بڑا استثنا (big exception) بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کا وجود لازمی طور پر خدا کا وجود کا ثبوت بن جاتا ہے۔ اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ــ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا، یعنی جس طرح خدا ایک استثنائی وجود ہے، اُسی طرح انسان بھی کائنات میں ایک استثنائی وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اگر اس استثنا کے ظاہر پر غور کرے تو وہ یقینی طور پر خدا کو دریافت کرلے گا، وہ پکار اٹھے گا کہ ــ میں ہوں، اس لیے یقینی طور پر خدا بھی ہے:
I am, therefore, God is. معرفت کا استحقاق ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: الکبریاء ردائی، والعظمة إزاری، فمن نازعنی واحداً منهما، فقذفته فی النار (سنن أبى داؤد، رقم الحديث: 4090) یعنی الله نے فرمایا کہ ــ کبریا ئی میری چادر ہے، اور عظمت میرا ازار ہے، ان دونوں میں سے کسی کے معاملے میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا۔
اس حدیث قدسی سے تواضع (modesty) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ساتھ انسان کی نسبت صرف حقیقی تواضع کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ انسان کے اندر اگر ایک ذرہ کے برابر بھی اپنی بڑائی کا احساس پایا جائے تو خدا سے اُس کی نسبت ہی نہیں قائم ہوگی، اور جس آدمی کی نسبت خدا سے قائم نہ ہو، اُس کا حال یہ ہوگا کہ وہ معرفت کا لفظ بولے گا، لیکن وہ معرفت سے کلی طور پر بے خبر رہے گا۔ حقیقی تواضع کی پہچان یہ ہے کہ ــ آدمی کا حال یہ ہو جائے کہ تعریف اُس کو خوش نہ کرے اور تنقید سے اس کو ناگواری نہ ہو۔
جس آدمی کے اندر حقیقی تواضع نہ ہو، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں ۔ اس قسم کا احساس اس کے لیے خدا سے تعلق قائم کرنے میں حتمی رکاوٹ بن اس کی مثال یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب اس کی یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب
(absorb) کرلے گی۔ اس کے برعکس، گیلی زمین پانی کا ایک قطرہ بھی جذب نہیں کرے گی۔ انسان (modest man) اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے معرفت کے فیضان (inspiration) کو پوری طرح قبول کرے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر کامل تواضع نہ ہو، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ معرفت کے فیضان کو قبول کرنے کے لیے اس کا آخذ (recipient) نہ رہے گا، وہ معرفت کی بارش کے ماحول میں بھی معرفت سے محروم رہے گا۔