Al-Risala · June 2011

عارفانہ شخصیت

Al-Risala, June 2011, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ: اتقوا فراسة المومن، فإنه ينظر بنور الله (الترمذی، رقم الحديث: 3127) یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس حدیث میں فراست مومن سے مراد فراست عارف (wisdom of a realized person) یہ ایک حقیقت ہے کہ جس شخص کو معرفت حاصل ہو جائے، وہ ایک بے پناہ شخص بن جاتا ہے۔ خدا کی روشنی میں چلنے لگتا ہے، اور خدا کی روشنی کو بجھانے کی طاقت کسی کے اندر بھی نہیں۔ جس آدمی کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہو جائے، وہ انتہائی حد تک ایک باشعور انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے جس کو ذہنی بیداری (intellectual awakening) کہا جاتا ہے۔ وہ ایک نفس مطمئنہ (complex-free soul) بن اس کے اندر فرقان (29: 8) کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کر کے دیکھنا۔ اس کے اندر مستقبل بینی کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر کے اندر وہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ آدمی چیزوں کے اضافی پہلو کو دیکھ سکے۔ یہی وہ صفت ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے:

A wise man is one who knows the relative value of things. معرفت کسی آدمی کے اندر زہد کی صفت پیدا کر دیتی ہے، یعنی دنیا سے بے رغبتی۔ انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: ما زهد عبد فی الدنیا إلا أنبت الله

الحكمة في قلبه، وأنطق بها لسانه، وبصّره عیب الدنیا وداء ها ودواء ها، وأخرجه منها سالماً إلى دار السلام (الفردوس بمأثور الخطاب، رقم الحديث: 6214)، یعنی جو بندہ دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت اگا دیتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت کو جاری کر دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کے عیب دکھا دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کی بیماری اور اس کے علاج سے باخبر کر دیتا ہے، اور اس کو وہ دار السلام (جنت) تک سلامتی کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔ منفی سوچ نہیں حدیث میں آیا ہے کہ تم امعة نہ بنو، یعنی تم یہ نہ کہو کہ دوسرا شخص تمھارے ساتھ جو سلوک کرے گا، وہی سلوک تم اس کے ساتھ کرو گے۔ اس کے بجائے تمھارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص تمھارے ساتھ برا سلوک کرے گا، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے (لا تكونوا إمعة، تقولون: إن أحسن الناس أحسنا، وإن ظلمونا ظلمنا، ولكن وطّنوا أنفسكم إن أحسن الناس أن تُحسنوا، وإن أساؤا فلا تظلموا ۔ سنن الترمذی، رقم الحديث: 2007)۔ معرفت صرف اُن عورتوں اور مردوں کو ملتی ہے جو ہمیشہ مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ رہنے والے ہوں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی موافق حالات کا ملنا ایسی حالت میں مثبت سوچ پر قائم رہنے کا فارمولا (formula) صرف ایک ہے، اور وہ یک طرفہ اخلاقیات (unilateral ethics) یعنی یک طرفہ طور پر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، خواہ وہ اچھا سلوک کرتا ہو یا برا سلوک۔

معرفت صرف اُس سینے میں جگہ پاتی ہے جو مکمل طور پر منفی احساس سے خالی ہو۔ جس دل کے اندر نفرت اور غصہ اور انتقام موجود ہو، اُس دل میں کبھی معرفت جگہ نہیں پائے گی۔ انسان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں خود قانون فطرت کے تحت روزانہ نا خوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی آدمی کے لیے معرفت کے حصول کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ وہ منفی تجربہ (negative experience) کو مثبت سبق میں تبدیل کر سکے۔

ناخوش گوار حالات میں بھی اپنی مثبت سوچ پر قائم رہے۔ وہ اپنے اندر وہ برتر سوچ (high thinking) پیدا کرے جس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ماحول سے اثر قبول کئے بغیر اپنی بلند فکری کو برقرار رکھے ۔ یہی وہ صفت ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کا سفرِ معرفت رُکے بغیر ہر حال میں جاری رہے۔

Printed page