Al-Risala · June 2011

If God created man, who created God.

Al-Risala, June 2011, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی معرفت کے بارے میں بلاشبہ یہ سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان کا ذہن ایک محدود ذہن ہے۔ اس کے باوجود انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ لامحدود خدا کی معرفت حاصل کرے۔ کا معاملہ اصلا یہی ہے کہ ایک محدود ہستی، ایک لامحدود ہستی کو دریافت کرے اور کامل یقین کے ساتھ اس کو مان لے۔ یہی معرفت ہے۔ اس مرحلے کو پار کیے بغیر کسی کو معرفت کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ خدا کی دریافت کا معاملہ دوسری چیزوں کی دریافت سے مختلف ہے۔ مثلاً قوتِ کشش (gravity) بھی ایک دریافت کا موضوع ہے، لیکن یہ دریافت صرف ایک علمی دریافت ہے، اس کی بنیاد پر کسی کو ابدی انعام ملنے والا نہیں۔ لیکن خدا کی دریافت کے ساتھ ایک عظیم انعام جڑا ہوا خدا کی دریافت کرنے والے کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ لیے خدا کی دریافت کی ایک قیمت رکھ دی گئی۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کسی کو خدا کی دریافت کا کریڈٹ نہیں مل سکتا۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی محدود ذہن کے ساتھ لامحدود کا احاطہ کرے، وہ

عالم مشاہدہ (seen world) میں غیر مشہود خدا (unseen God) کو دریافت کرلے۔ اسی دریافت کا نام معرفت ہے، اور جنت کی قیمت یہی معرفت ہے۔ خاموشی اور معرفت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طويلَ الصَّمت (مسند احمد، رقم الحديث: 20311) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خاموش رہتے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں خاموشی (silence) کی اہمیت کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔

عليكم بالصُّمت (الدّارمي، رقم الحديث: 2440) یعنی تم لوگ خاموشی کو لازم پکڑو۔

فليقل خيراً اوليصمت (مسند احمد، رقم الحديث: 6621)

یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے یا وہ خاموش رہے۔

من صمتَ نجا (مسند احمد، رقم الحديث: 6481) یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔

وأن يكون صمتى فكراً (جامع الأصول، رقم الحديث: 9317)

یعنی یہ کہ میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔

خاموش رہنا صرف خاموش رہنا نہیں ہے، خاموش رہنے کا مطلب ہے— سوچنا اور غور وفکر ایک مومن جب خاموش رہے گا تو وہ اپنے رب کے بارے میں سوچے گا، اسی کا نام معرفت خاموشی معرفت کا دروازہ ہے۔ سچی خاموشی آدمی کو سچی معرفت تک پہنچاتی ہے۔ خاموشی آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے۔ وہ اپنے مشاہدات اور تجربات میں توجیہہ (explanation) کا اضافہ کرے— وہ سادہ معلومات کو بامعنی معلومات بنائے۔ وہ عالم ظاہر سے نکل کر عالم باطن کا سفر کرے۔ وہ نفسیات کی سطح پر خدا اور

فرشتوں سے رابطہ (contact) قائم کرے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کی معرفت میں اضافہ کرتی ہیں۔ معرفت کا ذریعہ غور وفکر ہے، اور خاموشی کے بغیر غور وفکر کا عمل ممکن نہیں۔ خاموشی کسی انسان کو غیر خدا سے دور، اور خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ خاموشی کسی انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پورے عالمِ وجود سے معرفت کی غذا حاصل کرے، اُس کا عارفانہ سفر غیر منقطع طور پر (non-stop) جاری رہے۔ ایک صحابی کی مثال مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اپنی بیماری میں روئے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اے ابو ہریرہ، کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا: میں تمھاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت اور جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھ کو ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (بکـی أبو هريرة في مرضه، فقيل له ما يبكيك يا أبا هريرة ـ قال، أما أنني، فلا أبكي على دنیاکم هذه، ولكنّي أبكي لبعد سفري وقلة زادي۔

أصبحتُ في صعود مهبطة على جنّة ونار، فلا أدري إلى أيّها يُسلك بی۔

(الطبقات الكبرى لابن سعد، رقم الأثر : 5699)

صحابی رسول کا یہ کلمہ اعلیٰ معرفت کا کلمہ ہے۔ جب انسان کی معرفت بڑھتی ہے تو اُس وقت اُس کا حال وہی ہو جاتا ہے جس کی ایک مثال صحابی رسول کے مذکورہ قول میں ملتی ہے۔ اعلیٰ معرفت کیا ہے۔ اعلیٰ معرفت یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت جب کوئی انسان اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کی نظر میں اس کا اپنا وجود بالکل حقیر بن جاتا ہے۔ وہ جنت کے مقابلے میں اپنے اعمال کو بے حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کے پاس خدا کے دربار میں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اس کو اُس آخری حد تک پہنچا دیتا ہے جس کی تصویر حضرت ابو ہریرہ کے مذکورہ قول میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف، اللہ کا ارحم الراحمین ہونا، اُس کے اندر امید کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

دوسری طرف، اپنے عمل کی بے بضاعتی کو دیکھ کر وہ اس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں کسی بھی انعام کا مستحق نہیں۔ بے حس انسان صرف اپنے پلس پوائنٹ کو دیکھتا ہے اور حساس انسان کو صرف اپنا مائنس پوائنٹ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو عارف انسان کو غیر عارف انسان سے الگ کرتا ہے۔

Printed page