معرفت کا سادہ فارمولا
Al-Risala, June 2011, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کا قول ہے: عرفتُ ربی بفسخ العزائم (میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا)۔ یہ معرفت کا ایک ایسا فارمولا ہے جو ہر آدمی کو ہر وقت حاصل ہر عورت اور ہر مرد کو روزانہ ایسے تجربات ہوتے ہیں، جب کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو چاہا تھا، وہ نہیں ہوا، کبھی چھوٹا تجربہ اور کبھی بڑا تجربہ۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو اس کی محدودیت (limitation) یاد دلاتا ہے۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو بتاتا ہے کہ چاہنا اس کے اختیار میں ہے، لیکن اپنے چاہنے کو تکمیل تک پہنچانا اُس کے اختیار میں نہیں۔ جب بھی آدمی کا ارادہ پورا نہیں ہوتا تو یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہوتی ہے کہ انسان کی ایک حد (limit) ہے۔
جہاں آدمی کی حد آجائے اٗس کو فوراً محسوس کرنا چاہیے کہ اس کے بعد خدا کی حد شروع ہوگئی، خواہ وہ ایک چھوٹا واقعہ ہو، مثلاً کسی چیز کا ہاتھ سے چھوٹ کر گرنا یا کوئی بڑا واقعہ، مثلاً کسی منصوبے کا اپنی خواہش کے مطابق پورا نہ ہونا۔ اگر آدمی کے اندر شعوری بیداری (intellectual awakening) آچکی ہو تو ایسے ہر موقع پر وہ خدا کو دریافت کرے گا، ایسا ہر موقع اس کے لیے خدا کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا۔
یہ ایک سادہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ آدمی ہر وقت معرفت کے غذالے سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سند یافتہ ہو یا غیر سند یافتہ، اس قسم کا تجربہ ہر عورت اور مرد کوروزانہ بار بار پیش آتا ہے۔
اگر آدمی اپنے ذہن کو کھلا رکھے، اگر اُس کے اندر (thinking) کی صلاحیت زندہ ہو تو وہ اپنی
روزمرہ کی زندگی (daily life) میں ہر لمحہ، معرفت کی خوراک حاصل کرتا رہے گا۔ اس کے دل و دماغ میں معرفت کا سر چشمہ مسلسل طور پر جاری رہے گا۔