I think, therefore, I exist.
Al-Risala, June 2011, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ مفکر صغیر کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں مفکر کبیر بھی موجود ہے : The existence of small thinker is a proof of the existence of the big thinker. یہی معاملہ احساسِ تلذذ (sense of pleasure) کا ہے۔ انسان اگر غور کرے تو وہ دریافت کرے گا کہ وسیع کائنات میں وہ ایک انوکھا وجود ہے جو استثنائی طور پر لذت کا شعور (sense of pleasure) رکھتا ہے۔
اس حقیقت کی دریافت اپنے آپ میں ایک اور بڑی حقیقت کی دریافت ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں جب شعورِ لذت کا وجود ہے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کے فل فل منٹ (fulfilment) کا سامان بھی ہونا چاہیے، کیوں کہ ہماری دنیا میں ہر چیز کی تکمیل کے لیے اس کا جوڑا (pair) موجود ہے۔ اس عام قانونِ فطرت کے مطابق، یقینی طور پر ایسا ہونا چاہیے کہ شعورِ لذت (sense of pleasure) کا
جوڑا، یعنی فل فل مینٹ بھی اس دنیا میں موجود ہو۔ یہ ظاہر جنت کے وجود کا یقینی ثبوت ہے۔ معرفت کی قیمت ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو اس کی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ طرح معرفتِ الہی کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت طالب معرفت کی خود اپنی ذات ہے۔ کم کوئی چیز معرفت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ خدا کی معرفت کسی آدمی کو ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ملتی اپنی نفی نہیں تو خدا کی بھی معرفت نہیں۔
اپنی نفی کا مطلب نام نہاد قسم کی پر اسرار ورزشیں نہیں۔ یہ معاملہ تمام تر غور وفکر کے ذریعہ انجام پاتا ہے، نہ کہ روحانیت کے نام پر کچھ جسمانی ورزشوں کے ذریعے۔ نفی خویش (self-negation) کیا نفی خویش یہ ہے کہ آدمی رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کے مقابلے میں اُس کو خود اپنا وجود سرا سر بے حقیقت نظر آنے لگے۔
نفی خویش کا مزاج دراصل عجز، تواضع ، اعتراف، محاسبہ، بے نفسی، سادگی، خدا ترسی، جہنم کا خوف اور جنت کا اشتیاق، جیسی صفات کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صفات متصوفانہ ریاضت کے ذریعے بیدار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ فکری عمل (thinking process) کے ذریعے کسی شخص کو حاصل ہوتی ہیں۔
نفی خویش کا عمل حقائق ربانی کی گہری دریافت کے بعد شروع ہوتا ہے، اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک برابر جاری رہتا ہے۔ نفی خویش دراصل اپنی حقیقت واقعی کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے ، انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک معمولی حادثہ اُس کے لیے نا قابلِ برداشت بن کسی بھی چیز کا علم اس کو یقین کے درجے میں حاصل نہیں۔
انسان ہر لمحہ خارجی اسباب کا محتاج ہے۔ انسان کے وجود کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت اپنا فطری کام کرنا بند کر سکتا ہے۔ انسان نہ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانتا اور نہ اپنی موت کی حقیقت کو جانتا۔ انسان بہت سی چیزیں چاہتا ہے، لیکن کسی بھی چیز پر اُسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان بظاہر آزاد
ہے، لیکن ارادہ (will) کے سوا ہر اعتبار سے، وہ مجبور ہے۔
انسانی وجود کے ان تمام پہلوؤں کے شعور ہی کا دوسرا نام نفی خویش ہے، اور یہی نفی خویش معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نفی خویش ایک اعتبار سے، خدا کو قادرِ مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام ہے، اور دوسرے اعتبار سے، اپنے آپ کو عاجزِ مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام۔