معرفت کا دروازہ
Al-Risala, June 2011, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کا تعلق مفروضہ قسم کے رومناوی عشق سے نہیں ہے۔ معرفت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی گہرائی کے ساتھ یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کا مستقبل تمام تر صرف ایک اللہ سے وابستہ ہے۔ اس کی محبوب جنت صرف اللہ کے دینے سے ملے گی۔
اسی طرح مبغوض جہنم سے نجات بھی اسی وقت ممکن ہوگی جب کہ اللہ اس کو اس سے نجات کسی آدمی کے اندر جب اس قسم کا گہرا شعور پیدا ہو جائے تو اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
معرفت کوئی فلسفیانہ تصور نہیں۔ معرفت لازمی طور پر ہر آدمی کے ذاتی انٹرسٹ سے جڑی ہوئی اعلیٰ معرفت کا حصول صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی ایک طرف فکری سطح پر معرفت کو نظریاتی اعتبار سے آدمی یہ جان لے کہ معرفت کے سوا کوئی اور چیز اس کی حقیقی منزل نہیں بن سکتی۔ آدمی کا ذہن پوری طرح اس کی صداقت پر مطمئن ہو جائے۔
دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا ذاتی انٹرسٹ مکمل طور پر معرفت کے ساتھ وابستہ اس معاملے میں اس کی دریافت اتنی زیادہ بڑھے کہ وہ شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگے کہ معرفت کے حصول کے بغیر اس کا وجود بے معنی ہو جائے گا، اس کی زندگی اجڑ جائے گی، اس کے لیے مستقبل کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے، وہ ہر اعتبار سے نا کام و نامراد انسان ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی کا یہ حال ہو کہ اس طرح وہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے، آخری حد تک معرفت کا
طالب بن جائے تو اس کے فوراً بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ معرفت کا کوئی بھی دروازہ اُس پر بند نہیں رہتا۔ یہی معرفت کا راستہ ہے۔ سوا کسی اور راستے سے معرفت کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔