Al-Risala · June 2011

اعلیٰ معرفت

Al-Risala, June 2011, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر تمام انسانوں میں کوئی ایک شخص ہے جو اعلیٰ معرفت تک پہنچا ہے تو وہ میں ہوں۔ تمام انسانوں میں کوئی ایک شخص ہے جو اعلیٰ معرفت سے محروم رہا تو وہ میں ہوں— یہ احساس اس انسان کا ہوتا ہے جو اعلیٰ معرفت کے درجہ تک پہنچے۔ اعلیٰ معرفت تک پہنچنا ممکن ہے مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل ہوا ہے۔

اس بے یقینی کا سبب یہ ہے کہ معرفت کسی خارجی کورس کا نام نہیں ہے کہ اس کو پورا کر کے آدمی سمجھ لے کہ میں نے معرفت کا کورس کر لیا اس لیے اب میں معرفت تک پہنچ گیا۔ تر ایک داخلی حالت کا نام ہے۔ اور داخلی حالت کے بارے میں کوئی فیصلہ دینا صرف خداوند عالم الغیب کے لیے ممکن ہے۔ کوئی انسان حتی کہ خود طالب معرفت بھی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

خدا کی اعلیٰ معرفت دراصل خدا کی اعلیٰ دریافت کا نام ہے۔ جب کوئی بندہ اس اعلیٰ دریافت تک پہنچتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں اس کی حیثیت تمام تر صفر (zero) کی ہوگئی خدا سب کچھ ہے اور وہ خود کچھ بھی نہیں۔ یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں فیصلہ کا سارا اختیار صرف خدا کو ہے، فیصلہ میں اس کا اپنا دخل کچھ بھی نہیں۔ یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ سارا معاملہ تمام تر یک طرفہ (unilateral) ہے۔

صاحب معرفت کون ہے۔ صاحب معرفت صرف وہ ہے جس کو خدا صاحب معرفت قرار اور خدا فیصلہ کے دن (Day of Judgement) سے ایک سیکنڈ پہلے بھی کسی کو کچھ نہیں بتاتا۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب معرفت اپنی طرف سے سب کچھ کرنے کے باجود اس معاملے میں آخر وقت

تک مکمل طور پر ایک قسم کی بے یقینی (uncertainty) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ معرفت کی راہ میں رکاوٹ ایک امریکن اسکالر نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اسلام پر ایک کتاب لکھی۔ اپنی اس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ— اسلام کا سب سے بڑا کنسرن اللہ ہے:

Printed page