Al-Risala · June 2011

The greatest concern of Islam is Allah.

Al-Risala, June 2011, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نہایت درست بات ہے۔ معرفت کا دروازہ صرف اُس کے لیے کھلتا ہے جوایک اللہ کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنالے۔ اسی طرح معرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا واحد کنسرن نہ بناسکے۔ معرفت کے سلسلے میں بلاشبہ یہی سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی آدمی جس چیز کو اپنا واحد کنسرن بنائے، وہی چیز اس کی سوچ کا مرکز بن جاتی وہ اُسی چیز کی یاد کو لے کر سوتا ہے اور اُسی چیز کی یاد کو لے کر جاگتا ہے۔ وہ چیز آدمی کے دماغ پر اتنا زیادہ چھا جاتی ہے کہ عملاً دوسری تمام چیزیں اس کی یاد سے حذف ہو جاتی آدمی اسی موضوع پر سوچتا ہے۔ وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ وہ اسی کے بارے میں پڑھتا ہے۔ وہ اسی کے بارے میں ڈسکشن (discussion) کرتا ہے۔ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اسی چیز کی یاد سے اس کو سکون ملتا ہے۔ وہ اکیلے میں بھی اسی چیز کی بابت سوچتا ہے اور جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تب بھی وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔

یہی کسی چیز کو اپنا واحد کنسرن بنانا ہے۔ اور خدا کی معرفت صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو اسی معنی میں خدا کو اپنا واحد کنسرن بنا لے ۔ جو شخص اس معنی میں خدا کو اپنا واحد کنسرن نہ بنا سکے، وہ یقینی طور پر خدا کی معرفت سے محروم رہے گا۔ خواہ زبانی طور پر وہ اللہ کا نام لے، وہ تسبیح کے دانوں پر الحمد للہ اور سبحان اللہ کا لفظی وظیفہ پڑھتا رہے۔

معرفت کے حصول میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا بڑا ابنالے۔ کو بڑا بنانے کا یہ کام کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر نتیجہ دونوں کا ایک ہے، اور وہ

ہے خدا کی اعلیٰ معرفت سے محرومی۔ جس عورت یا مرد کو خدا کی اعلیٰ معرفت مطلوب ہو، اس کو بہ ہر حال یہ قیمت دینی پڑے گی ۔ اس کو بہ ہر حال یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی توجہ کو دوسری چیزوں سے ہٹائے اور صرف ایک اللہ کو اپنا واحد مرکز توجہ بنا لے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک نفسیاتی قربانی ہے۔ جو شخص یہ قربانی دے، اُسی کو وہ ربانی نعمت ملتی ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔

Printed page