Al-Risala · June 2011

معرفت کا تجربہ

Al-Risala, June 2011, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مرتبہ میں سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں، میں خدا کے دیکھنے کا تجربہ کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد اچانک مجھ کو خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح دیکھتا ہوگا۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں۔ اسی طرح میں نے ایک بار کسی کے بولنے کو سنا۔ اُس وقت مجھے خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح بولتا اور سنتا ہوگا۔ اس طرح ایک بار میں نے کسی بات کو سوچا، اُس وقت مجھے محسوس ہوا کہ خدا بھی تو اسی طرح سوچتا ہوگا، وغیرہ۔

ایک دن صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرے کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اُس وقت یہ تمام تجربات مجھے یاد آنے لگے۔ اچانک شدتِ احساس کے ساتھ میں چیخ اٹھا۔ تھوڑی دیر کے لیے میں ایک اور دنیا میں پہنچ گیا۔ اس تجربے کو قریب تر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ـــ مجھے ایسا لگا جیسے کہ میں اپنے وجود کی صورت میں بلا تشبیہہ خدا کی موجودگی (presence) کو محسوس کر رہا ہوں۔ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں، میں خدا کے سننے کو سن رہا ہوں، میں خدا کے سوچنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میرا وجود بلا تشبیہہ خدا کے وجود میں ڈھل گیا۔ اُس وقت خدا میرے لیے اتناہی یقینی وجود بن گیا، جتنا کہ مجھے خود اپنا وجود یقینی معلوم ہوتا ہے۔ ابن عربی کے اس شعر کو اگر وحدتِ وجود کے معنی میں نہ لیا جائے، جوکہ ایک باطل نظریہ ہے، تو غالباً وہ اسی قسم کے ربانی تجربے کا ایک بیان ہوگا: العبد عبد، ولو ترقّی والرب ربّ، ولو تنزّل اس طرح کے تجربات مختلف احوال کے درمیان مجھے بار بار پیش آتے ہیں۔ یہ تجربات میرے

لیے خدا کی معرفت کو اُس سطح پر دریافت کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں جس کو قرآن میں بصیرت (14 :75) کہا گیا ہے۔ انسان کو خدا نے قدرت (omnipotence) کے سوا اپنی تمام صفات بشری سطح پر دے دیں، تاکہ انسان خدائی صفات کو بشری تجربات کی سطح پر سمجھ سکے۔ وہ خدا کے دیکھنے کو دیکھے، وہ خدا کے سُنے کو سُنے، اور پھر کامل یقین کے درجے میں وہ خدا کا عارف بن جائے۔

Printed page