Al-Risala · June 2011

معرفت کی تمثیلات

Al-Risala, June 2011, pp. 37–40

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات معرفت کا ایک عظیم دفتر ہے۔ کائنات کی ہر چیز معرفت کی ایک داستان ہے۔ ہر چیز معرفت کو مجسم کئے ہوئے ہے۔ بقیہ کائنات میں جو چیز فطرت کے قانون کے تحت ظاہر ہوئی ہے، وہی انسان کی سطح پر شعوری معرفت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ انسان اگر غور کرے تو کائنات کی ہر چیز اس کو معرفت کا سبق دیتی ہوئی نظر آئے گی۔

سورج تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ معرفت وہی معرفت ہے جو انسان کے وجود کو اندر سے باہر تک روشن کر دے۔ بہتا ہوا دریا انسان کو بتا رہا ہے کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھاری روح میں چشمہ بن کر جاری ہو جائے ۔ درخت کی ہری بھری شاخیں جب ہوا سے ہلتی ہیں تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھارے لیے ایک پر اهتزاز تجربہ (thrilling experience) بن جائے ۔ چڑیاں جب چہچاتی ہیں تو وہ انسان سے کہتی ہیں کہ خدا کے کمالات اس طرح دریافت کرو کہ تمھاری زبان پر حمد خداوندی کا نغمہ جاری ہو پہاڑ کی بلندی خاموش زبان میں یہ پیغام دے رہی ہے کہ خدا کو اس کی اعلیٰ عظمتوں کے ساتھ دریافت کرو، وغیرہ۔

یہی حال پوری کائنات کا ہے۔ کائنات کی ہر چیز فطرت کی زبان میں معرفت کا پیغام دے رہی گویا کہ کائنات معرفت کی ایک عظیم لائبریری ہے۔ جس طرح ایک اسکالر لائبریری میں داخل ہو کر کتابوں کے ذریعے معلومات اخذ کرتا ہے، اسی طرح ایک سچا انسان کائنات کی خدائی لائبریری سے معرفت کی فکری غذا (intellectual food) حاصل کرتا ہے۔

کائنات کی لائبریری انسان کے لیے معرفت کا ایک لامحدود خزانہ ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ معرفت کے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں درخت کا ہر پتہ اپنے اندر معرفت کا دفتر سموئے اسی بات کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے دانش مند انسان کی نظر میں سر سبز درختوں کا ہر پتہ معرفت خداوندی کا ایک دفتر لئے ہوئے ہے:

برگ درختان سبز، در نظر ہوشیار ہر ورقی دفتری است، معرفت کردگار معرفت کا آغاز ایک عربی مثل ہے: لا أدری، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے)۔ بے خبری کو جان لینا، علم کا نقطہ آغاز (starting point) ہے۔ آدمی جب یہ جان لے کہ میں نہیں جانتا تو اس کے بعد اس کے اندر جاننے کی اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اسپرٹ آخر کار اس کو علم تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، وہ اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا دیتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ چاہیے کہ وہ سب سے پہلے یہ دریافت کرے کہ وہ معرفت سے خالی ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر تلاش معرفت کا جذبہ پیدا ہوگا، جو آخر کار اس کو معرفت تک پہنچادے گا۔

علم کا آغاز روح تجسس (spirit of enquiry) ہے۔ یہی اسپرٹ معرفت کے لیے بھی آدمی کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ معرفت کے بغیر وہ اندھیرے میں ہے۔ کے ساتھ جینا روشنی میں جینا ہے، اور معرفت کے بغیر جینا اندھیرے میں جینا۔ معرفت کے بغیر انسان کے لیے صرف ناکامی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معرفت آدمی کو برتر سطح پر جینے والا بناتی معرفت والا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو بے آمیز (as it is) انداز میں سمجھ سکے۔ معرفت آدمی کو فرشتوں کا ہم نشیں بناتی ہے۔ معرفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اُس کو خدا کا فیضان (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ معرفت کسی انسان کو انسان کامل بناتی ہے۔ معرفت دنیا میں ہدایت کا ذریعہ ہے اور آخرت میں جنت کا ذریعہ۔

معرفت کسی انسان کے لیے اس کے سفر حیات کا صحیح آغاز ہے۔ معرفت کسی انسان کو بے شعور

زندگی سے نکال کر باشعور زندگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔ معرفت کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بے خدا طرز زندگی سے نکل کر با خدا طرز زندگی کو اختیار کر سکے۔ معرفت کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اعلی امکانات (potentials) کو دریافت کرے اور خدا کی مدد سے اس کو معرفت تکمیل علم کا ذریعہ ہے، اور تکمیل حیات کا ذریعہ بھی۔ معرفت کی زمین ایک پودے کے اگنے کے لیے زرخیز زمین (fertile land) درکار ہوتی ہے۔ زمین ہی میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہاں ایک پودا اُگے اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ ایک ہرا بھرا درخت بن اس قسم کا واقعہ کسی بنجر زمین (barren land) میں نہیں ہو سکتا۔ زرخیز زمین درخت کے اُگنے کے لیے موافق زمین ہے اور بنجر زمین درخت کے اگنے کے لیے غیر موافق زمین۔ یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا نشو و نما صرف ایک موافق انسان کی شخصیت میں ہوتا غیر موافق انسان کی شخصیت میں کبھی معرفت کا نشو و نما نہیں ہوتا۔ اس موافق شخصیت کو ایک لفظ میں، مثبت شخصیت (positive personality) کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح غیر موافق شخصیت کو ایک لفظ میں منفی شخصیت (negative personality) کہنا صحیح ہوگا۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ اس کے اندر معرفت کا باغ پرورش پائے، اس کو چاہیے کہ وہ ہر قیمت پر اپنے آپ کو منفی شخصیت بننے سے بچائے۔ وہ اپنے آپ کو مثبت شخصیت بنائے، خواہ اُس کو اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ منفی شخصیت والا انسان وہ ہے جو رد عمل کی نفسیات میں جیتا ہو، جو ماحول کا اثر قبول کرتا رہے، جو اپنی شعوری نا پختگی (immaturity) کی بنا پر خارجی واقعات سے متاثر ہوتا رہے۔ ایسا انسان منفی شخصیت والا انسان ہے۔ ایسے انسان کو کبھی معرفت کا رزق نہیں مل سکتا۔

مثبت شخصیت والا انسان وہ ہے جو اپنی شعوری پختگی (maturity) کی بنا پر اس قابل ہو کہ وہ خارجی حالات سے اوپر اٹھ کر زندگی گزارے، جو خارجی اثرات سے غیر متاثر رہ کر اپنے ذہن کی تشکیل کر سکے، جو منفی تجربات کو مثبت سبق (positive lesson) میں تبدیل کر سکے۔

یہی مثبت شخصیت ہے۔ اسی مثبت شخصیت کو خدا کی توفیق سے یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مثبت انداز میں سوچے، اُس کو معرفت کی دریافت ہوتی رہے۔ اس کے اندر عارفانہ شخصیت کی تشکیل کا عمل (process) جاری رہے معرفت کا حصول صرف مثبت شخصیت کی زمین پر ہوتا ہے، نہ کہ منفی شخصیت کی زمین پر۔

Printed page