مسائل دین، معرفت دین
Al-Risala, June 2011, pp. 45–46
By Maulana Wahiduddin Khan
علمِ دین کے دو پہلو ہیں— ایک ہے مسائل دین کا علم، اور دوسرا ہے معرفت دین کا علم۔ مسائل کا تعلق دین کے فارم سے ہے، اور معرفت کا تعلق دین کی اسپرٹ سے۔ دین دار بننے کے لیے دونوں ضروری ہیں۔ مسائل کا علم آدمی کو معرفت کا علم عطا نہیں کرتا، لیکن معرفت کا علم حاصل ہو جائے تو آدمی مسائل کے علم تک بھی ضرور پہنچ جائے گا۔ دین کا سفر معرفت سے شروع ہوتا ہے اور مسائل تک
اس کے برعکس، مسائل کا علم خود بخود کسی کو معرفت تک نہیں پہنچاتا۔ معرفت کیا ہے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو حقیقت حیات کی دریافت ہو جائے، آدمی کو اس کی داخلی تلاش کا جواب مل جائے، آدمی اپنی زندگی کی صحیح آئیڈیالوجی کو پالے۔ معرفت کو ایک لفظ میں ، داخلی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ کسی انسان کے اندر جب یہ داخلی انقلاب آتا ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے— اس کا سوچنا ، اس کا بولنا، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک، زندگی کے بارے میں اس کے حوصلے اور آرزوئیں، معاملات میں اس کا نقطہ نظر (outlook)، کسی چیز کو لینے اور کسی چیز کو نہ لینے کے بارے میں اس کا معیار، غرض ہر چیز اللہ کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ معرفت کے حصول کے بعد آدمی کی جو شخصیت بنتی ہے، اس کے مختلف مظاہر ہیں۔ مظاہر میں سے ایک مظہر وہ ہے جس کو عبادت کہا جاتا ہے۔ مسائل کا تعلق انھیں مظاہر سے ہے۔ مظاہر اصلا داخلی تحریک کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔
مسائل کا رول یہ ہے کہ وہ ان مظاہر کے صحیح حدود کو بتائیں۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ معرفت (داخلی اسپرٹ) کے پیدا کرنے پر سب سے زیادہ زور دے۔ یہی اصلاح کا فطری طریقہ ہے۔ کے برعکس، اگر مسائل پر زور دیا جانے لگے تو وہ انتقال تاکید (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا۔ اس طرح کی تبدیلی سے کبھی مطلوبہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ ایسا کرنے سے مسائل پر مبنی دین بن جائے گا، حالاں کہ دین کو معرفت پر مبنی دین ہونا چاہیے۔
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 022-42214700, Fax: 022-28236323