تاریخ کے فیصلے کو بدلنا
Al-Risala, July 2011, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
کعبہ کو تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے مکہ میں بنایا تھا۔ اُس وقت کعبہ مستطیل (rectangle) صورت میں تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریشِ مکہ نے کعبہ کی نئی اِس وقت انھوں نے کعبہ کی لمبائی کو کم کرکے اِس کو مربع (square) صورت میں تعمیر کیا۔ اِس مربع صورت میں آج تک موجود ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ عائشہ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کی عمارت کو دوبارہ میں ابراہیمی بنیاد پر بناؤں، مگر آپ اس سے باز رہے، کیوں کہ عملی اسباب کے تحت اب ایسا ہونا ممکن نہ تھا (صحیح البخاری، كتاب الحج، باب فضل مكة وبنيانها) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس واقعے سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کے پہیے کو دوبارہ الٹی طرف نہیں چلایا جا سکتا:
The wheel of history cannot be put in the reverse gear. یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس پیغمبرانہ واقعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کا سفر ہمیشہ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف ہوتا ہے۔
تاریخ میں یوٹرن (U turn) لینا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ تاریخ کے سفر کو مستقبل سے حال کی طرف اور حال سے ماضی کی طرف جاری کردے۔ تاریخ کے معاملے میں موجودہ صورت حال (statusquo) کو مان کر منصوبہ بنایا جاتا ہے، نہ کہ اس کا انکار کرکے۔ کعبہ کی تاریخ اِس معاملے کی ایک مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کے اِس قانون کو تسلیم کرتے ہوئے سابق ابراہیمی بنیاد پر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو عبداللہ بن زبیر (وفات : 692ء) کا زمانہ آیا تو انھوں نے کعبہ کی عمارت کو توڑ کر اس کو دوبارہ ابراہیمی بنیاد پر بنایا، لیکن عبداللہ بن زبیر کی وفات کے فوراً بعد حجاج بن یوسف الثقفی (وفات : 714ء) نے اس کو
توڑ دیا اور دوبارہ کعبہ کو اس کی سابق بنیاد پر تعمیر کر دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس اصول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اس لیے وہ بار بار اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔
بیسویں صدی کے ربع اول میں خلافت تحریک ، بیسویں صدی کے نصف ثانی میں فلسطینی تحریک، بیسویں صدی کے نصف آخر میں کشمیری تحریک اور اس قسم کی دوسری تحریکیں اسی کا ثبوت ان تحریکوں کے لیڈروں نے تاریخ کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا فیصلہ نہیں بدلا، البتہ نادانی کی اس سیاست نے مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔ وہ لمحہ جب کہ تاریخ کا فیصلہ ہو رہا ہو، اُس وقت آپ اپنی دانش مندانہ پالیسی کے ذریعے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو اُس کے بعد فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرنا عملاً ہے پرامدا ر ہورہے ہیں، باب ماریہ دلاسے ، مدیت کو خودکشی کے سوا اور کچھ نہیں۔
جرم اور گناہ گار افراد کے نام اور نام الہ حال اعلانیہ طور پر جاری رکھا گیا جن اداروں یا افراد کے نام ماہ نامہ الرسالہ اعزازی طور پر جاری کیا گیا ہے ، وہ صرف ایک سال کے لئے ہے۔ جو حضرات مسلسل طور پر الرسالہ کو پڑھنا چاہتے ہیں ، وہ دفتر کو زِرِ تعاون کے ساتھ اپنا خریداری نمبر (US No.) یا اپنا مکمل پتہ بھیج کر دوبارہ اپنے پتے پر الرسالہ سے ملاپ کا پتہ یا پے آر نمبر (P.O No.) پر اپنا پتہ درج کر کے جاری فرما سکتے ہیں ۔
جو حضرات "القُرآن مشن " میں شامل ہو کر ہمارا تعاون کرنا چاہتے ہیں، اُن سے گزارش سے جو حضرات "القرآن سن" میں شامل ہو کر ہمارا تعاون کرنا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ القرآن مشن کے دفتر سے رابطہ کر کے اپنا مکمل پتہ، ٹیلی فون نمبر اور ای میل روانہ کریں، نیز اس بات کو واضح کریں کہ آپ القرآن مشن میں شامل ہو کر کس طرح اس کے ساتھ اپنا تعاون فرمائیں گے: