Al-Risala · January 2011

مسئلہ کا حل

Al-Risala, January 2011, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

اکیسویں صدی عیسوی سنگین مسائل کی صدی ہے۔ ان میں سے دو مسئلے بہت بنیادی ہیں— ایک ہے فطرت کے توازن میں بگاڑ (natural disorder)، اور دوسرا ہے سوشل انارکی (social anarchy)— ان دونوں مسائل کا مشترک پہلو یہ ہے کہ دونوں ہی انسانوں کے پیدا کردہ (man-made) مسائل ہیں۔ اگر ان مسائل کو حل کرنا ہے تو اس کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ انسان اپنی روش کو بدلے۔ بصورت دیگر، ان مسائل کا مہلک انجام یقینی ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس کو موجودہ زمین پر بسایا۔ خالق نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو ایک بنیادی ہدایت دی، وہ یہ کہ خالق نے انسانی عمل کے لیے کچھ حدود مقرر کر دیے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان حدود کی پابندی کرے۔ یہ بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وحدَّ حدوداً فلا تعتدوها (جامع العلوم والحکم 2/150) یعنی اللہ نے کچھ حدیں مقرر کر دی ہیں، تم ان سے تجاوز نہ کرو:

O man, God has set certain limits for you. Don’t cross those limits. یہ بات انسان کو اس کی پہلی ہی نسل میں بتا دی گئی تھی۔ خالق نے جب آدم کو پہلے انسان کی حیثیت سے پیدا کیا تو ان کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں بسایا۔ اُن سے کہا گیا کہ تم جنت میں ہر قسم کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے آزاد ہو، مگر اُس کے فلاں درخت تک مت جاؤ۔ قرآن کے مطابق، ایک عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ آدم اپنی حد سے تجاوز کرتے ہوئے اُس درخت تک گئے اور اس کا پھل اس کے بعد دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر آباد کردئے گئے۔ زمین پر آدم اور ان کی بیوی کو آزادی حاصل تھی، لیکن یہ صرف محدود آزادی تھی۔ آزادی کو لامحدود طور پر حاصل کرنے کی صورت میں دوبارہ یہ اندیشہ تھا کہ زمین اُن سے چھن جائے۔

خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے دوبارہ انسان کو یہ ہدایت دی کہ زمین کو تمھیں اصلاح یافتہ

صورت میں دیا گیا ہے، تم اس میں فساد برپا نہ کرنا: ولا تفسدوا في الأرض بعد إصلاحها اکیسویں صدی میں جو بگاڑ سامنے آیا ہے، اس کا سبب یہی ہے کہ انسان نے اپنی حد سے تجاوز کیا اور اس کے نتیجہ میں اس نے اصلاح یافتہ زمین کو فساد میں مبتلا کر دیا۔ ماحولیات کا مسئلہ موجودہ زمانے میں ماحولیات (ecology) کا جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ براہِ راست طور پر اسی ’’فساد‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمین کو انسان کے لیے صرف عارضی قیام گاہ کے طور پر پیدا اس لیے یہاں جو بھی وسائل ہیں، وہ سب محدود مقدار میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں جب جدید ٹیکنالوجی آئی تو انسان نے ان وسائل کو لامحدود طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو زیادہ اخراج کاربن (excess carbon emission) کہا جاتا ہے۔ کے نتیجہ میں مختلف سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً گلوبل وارمنگ، ائر پلوشن، واٹر پلوشن، وغیرہ۔ مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان اپنے لائف اسٹائل کو بدلے۔ وہ فطرت کے نقشے کے مطابق، سادہ لائف اسٹائل کو اختیار کرے۔

Printed page